آپ آف لائن ہیں
پیر10؍صفر المظفّر 1442ھ 28؍ستمبر 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

بارکونسلز کے علاوہ کسی کو لائسنس منسوخ کرنیکا اختیار نہیں‘وکلاء رہنما

کوئٹہ(اسٹاف رپورٹر)بلوچستان کے وکلاء رہنماؤں نے کہا ہے کہ وزیراعظم کا تحقیق اورانکوائری کے بغیر وکلاء مخالف بیان اورانتظامیہ کا وکلاء کیساتھ دہشتگردوں جیسارویہ قابل مذمت ہے، بارکونسلزکے علاوہ کسی کووکلاء کے لائسنس منسوخ کرنے کااختیارنہیں مسلم لیگ ن کا واقعہ سے کوئی تعلق نہیں، حکومت اپنی نااہلی چھپانے کیلئے الزامات لگارہی ہے ۔ان خیالات کااظہار خلیل پانیزئی ایڈووکیٹ ، شہریارایڈووکیٹ ، حفیظ محمد شہی ایڈووکیٹ ، مصور آغاایڈووکیٹ ، ملک خلیل کاکڑ ایڈووکیٹ و دیگر نے جمعہ کو کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا۔انہوں نے کہا کہ ڈاکٹرمعاشرے کااہم اورپڑھالکھاطبقہ ہے،منصوبہ بندی کے تحت سلیکٹڈ حکومت ہمارے درمیان تنازعات پیدا کر رہی ہے جو تشویشناک ہے ،انہوں نے کہا کہ ملک میں وکلاء نے ہمیشہ ظلم اور ڈکٹیٹر کیخلاف آواز بلند کی ،ہم نے عدلیہ کی آزادی کیلئے ملک گیر تحریک بھی چلائی تاہم کسی وکیل نے ایک پتھر تک نہیں اٹھایا، کوئٹہ میں درجنوں وکلاء کو شہید کیا گیا،ڈاکٹرز اور میڈیا کیساتھ ہمارا کوئی مسئلہ نہیں تاہم تحقیق اورانکوائری کے بغیر وکلاء کیخلاف وزیر اعظم کا بیان قابل مذمت ہے۔ بارکونسل کے علاوہ یہ کسی سلیکٹڈ وزیراعظم کے بس کی بات نہیں کہ وہ وکیل کا لائسنس منسوخ کرے، انہوں نے کہا کہ اب تک

32 وکلاء کوگرفتارکرکے انہیں آئین کے دفعہ 780کے تحت جوڈیشل کیاگیا،وکلاء کے سروں میں کالی ٹوپیاں پہناکرانہیں یونیفارم میں پیش کرناانسانی حقوق کی پامالی اور معززپیشے کی توہین ہے ،انہوں نے کہا کہ غلطی سب سے ہوتی ہے اورلاہورمیں مظاہرے کے دوران جونیئروکلاء بھی شریک تھے،حکومت معاملات کوحل کرنے کی بجائے مزیدخراب کررہی ہے، میڈیا اورسیاسی و سماجی تنظیمیں وکلاء اور ڈاکٹروں کے درمیان مسئلہ حل کرنے میں اپنا کردار ادا کریں۔ انہوں نے کہا کہ زخمی وکلاء کو بہترین طبی سہولیات کی فراہمی یقینی نہیں بنائی گئی تو بلوچستان کے وکلاء کے مشترکہ اجلاس میں آئندہ کالائحہ عمل طے کرینگے ۔

کوئٹہ سے مزید