آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعرات27 ؍جمادی الاوّل 1441ھ 23؍جنوری 2020ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

اسکول میں داخلے سے پہلے مطالعہ کی عادت

آج کے دور میں ٹی وی، انٹرنیٹ، موبائل اور گیمز کی بھرمار کی وجہ سے بچوں کو مطالعے کی طرف راغب کرنا کٹھن کام بن گیا ہے۔ اس کے ساتھ ان میں مختلف نفسیاتی مسائل بھی بڑھتے جارہے ہیں۔ اس کے تدارک کیلئے ماہرین نفسیات بچوں کے لئے مطالعے کو لازمی قرار دے رہے ہیں کیونکہ اچھی کتابوںکا مطالعہ شعور بیدار کرنے کےساتھ ساتھ بچوں کو بے معنی مشاغل سے دور رکھتاہے۔ 

اس ضمن میں سب سے اہم کرداروالدین ہی ادا کرسکتے ہیں۔ بچے جونہی سیکھنے اور پڑھنے کی عمر کو پہنچیں تو والدین کو چاہیے کہ انہیں اچھی اور مفید کتابیں لا کر دیں۔ یہ کتابیں کہانیوں کی ہوسکتی ہیں کیونکہ بچوں کو کہانیاں سننا اور پڑھنا بہت پسند ہوتا ہے۔

اب مختلف حالات کے باعث وہ وقت نہیں رہا کہ گھر کی نانیاں اور دادیاں بچوں کو رات سوتے وقت سبق آموز کہانیاں سنائیں۔ بیشتر مائوں کا بھی کم و بیشتر وہی حال ہے کیونکہ ان کا بھی رات کا وقت موبائل یا ٹی وی کے سامنے گزرتا ہے۔ 

والدین جو کچھ کرتے ہیں بچے اسی پر عمل کرتے ہیں، اسی لیے انھیں اپنی مثال قائم کرتےہوئے فارغ اوقات میں ٹی وی کےسامنے بیٹھنے یا فون پر مصروف ہونے کے بجائے کسی رسالے یا کتاب کے مطالعے میں وقت صرف کرنا چاہیے۔ ان کی دیکھا دیکھی بچے بھی لاشعوری طور پر اس روش کواپنائیں گے اور انہیں ادراک ہوگاکہ فارغ اوقات میں سب سے بہترین چیز مطالعہ ہی ہے۔

ایک حالیہ مطالعے سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ اسکول جانے سے قبل بچوں کو اگر باقاعدگی سے مطالعہ کروایا جائے یا انہیں کہانیاں پڑھ کر سنائی جائیں تو اس کا ان پر مثبت اثر پڑتا ہے اور ان کی زبان بھی درست ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ انہیں معلومات کو وصول کرنے اور انہیں صحیح جگہ استعمال کرنے میں بھی مدد ملتی ہے۔ 

اس اسٹڈی سے یہ بھی حاصل ہوا ہے کہ والدین یاگھر کے بڑے افراد بچوں کو باقاعدگی سے مطالعہ کرواتے ہیں یا اس میں ان کی مدد کرتے ہیں تو بچوں کو معلومات کو سمجھنے اور زبان کی مہارتیں بڑھانے میں بہت فائدہ ہوتا ہے۔ (نوٹ: یہ مطالعہ آٹھ ماہ پر مشتمل تھا، اس میں جن بچوںکی مطالعے کی عادت کو پرکھا گیا، ان کی سوچنے سمجھنے کی صلاحیتیں ان بچوں کے مقابلے میں زیاد ہ تھیں جنہیں بالکل بھی مطالعہ نہیں کروایا گیا تھا یا انہیں کتابوں والا ماحول نہیں ملا تھا۔)

نیوکاسل یونیورسٹی کی ایک ریسرچ ٹیم نے دنیا بھرمیں 40سال کے دوران شائع ہونے والی16مختلف اشاعتوں کا جائزہ لیا۔ یہ جائزہ ان والدین پر مشتمل تھا جو اپنے بچوں کو کتابوں یا ای بُکس کے ذریعے کہانیاں پڑھ کر سناتے تھے۔ ان کے بچوں کی اوسط عمر39ماہ تھی اور یہ والدین امریکا، سائوتھ افریقہ، کینیڈا اور چین سے تعلق رکھتے تھے۔ 

اس جائزے کے نتائج سامنے آئے کہ بچوں کو مستقل بنیادوں پر مطالعہ کروانے کے سبب ان کے ذریعہ اظہار کی صلاحیتیں ابھر کر سامنےآئیں اور وہ اپنے خیالات کو الفاظ کا جامہ پہنانے لگے۔ سب سے بڑا اثر بچوں کی زبان (لینگویج) کی مہارتوں پر پڑا اور وہ معلومات کو آسانی سے ہضم کرنے کے قابل ہونے لگے۔

اس ریسرچ ٹیم کے قائد اور نیوکاسل یونیورسٹی کے اسپیچ اینڈ لینگویج سائنٹسٹ جیمز لاء کہتے ہیں، ’’ ہم جبکہ پہلے ہی جانتے تھے کہ پڑھنے کی عادت بڑے بچوں میں ان کی ڈیویلپمنٹ اور بعد میں آنے والی تدریسی کارکردگی کیلئے بہت فائدہ مند ہوتی ہے، لیکن آٹھ ماہ پر مشتمل اس تحقیق نے ہماری آنکھیں کھول دیں۔ پانچ سال سے بھی کم عمربچوں میں آٹھ مہینےکے اندر لینگویج کی مہارتوں کا فرق بہت واضح ہے‘‘۔

ڈاکٹر لاء مزید کہتے ہیں،’’ماہرین  تعلیم رفاہ عامہ کے اداروں پر زور دیتے آئے ہیں کہ وہ والدین میں مطالعہ کے رحجان کو فروغ دیں۔ اس سلسلے میں کئی اقدامات بھی کئے گئے لیکن ابھی بھی بہت کچھ کیا جانا باقی ہے ۔ بچوں کے ساتھ بیٹھ کر کتابیں پڑھنے سے ان پر زبردست اثر ہوتاہے۔ اس لئے ڈاکٹروںاور دیگر پبلک ہیلتھ پروفیشنلز کو بھی چاہئے کہ وہ والدین کوبچوں کے ساتھ کتابیں پڑھنے پر راغب کریں۔ اس عمل سے انھیں اپنے بچوں کی نشوونما میں واضح فرق محسوس ہوگا‘‘۔

ہمارے ہاں بھی بچوں کے مزاج اور رحجانات کے مطابق کتابوںکی کمی نہیں ہے۔ رنگ برنگی، باتصویر اور رنگ بھرنے والی کہانیوں کی کتابیں بچوں کو اپنی جانب کھینچتی ہیں ، اسی لئے ان کے منہ میں فیڈر دینے کے ساتھ ساتھ ہاتھ میں کتاب بھی تھمادیں تو یہ ان کیلئے بہت بہتر ہوگا۔ بچہ تھوڑا بڑا ہوجائے تو اسے اپنے ساتھ لائبریری لے جائیں۔ یہ بھی کہا جاتاہے کہ لائبریری بچے کے دماغ کی بہترین میزبان ہوتی ہے۔ 

ہر طرف کتابیں دیکھ کر بچہ نہ صرف خوش ہوتا ہے بلکہ اپنے مزاج اور رحجان کے مطابق کتابوں کا انتخاب کر کے اپنی ذہنی صلاحیتوں میں اضافہ کرسکتا ہے۔ موبائل اسکرین سے دور بچوں کی آنکھیں بھی راحت میں رہیں گی اور ذہنی سکون کے باعث نفسیاتی عوارض سے بھی بچا جاسکے گا۔

تعلیم سے مزید