آپ آف لائن ہیں
بدھ5؍ صفر المظفّر 1442ھ23؍ستمبر 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

گزشتہ دنوں کراچی ایکسپو سینٹر میں بدر ایکسپو نے ’’انٹرنیشنل ڈیجیٹل کانفرنس اینڈ نمائش (IDCE19)‘‘ کا انعقاد کیا جس میں مجھے مہمان خصوصی کی حیثیت سے مدعو کیا گیا۔ کانفرنس کا موضوع’’ ڈیجیٹل بزنس کی بڑھتی ہوئی اہمیت اور چیلنجز ‘‘ تھا جس پر SAPکے منیجنگ ڈائریکٹر ثاقب احمد کے علاوہ دیگر اسپیکرز نے پریذنٹیشن دیں جو آج میں اپنے قارئین سے شیئر کرنا چاہوں گا۔ میں نے اپنی پریذنٹیشن میں بتایا کہ ماہرین کا خیال ہے کہ 2022تک دنیا میں جدید ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن میں سرمایہ کاری بڑھ کر 1.97ٹریلین ڈالر ہوجائے گی اور2017ءسے 2022ءتک ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن کی گروتھ میں 16.7فیصد اضافہ متوقع ہے جبکہ انٹرنیشنل ڈیجیٹل کارپوریشن (IDC)کے مطابق جدید ٹیکنالوجی میں 40فیصد سرمایہ کاری ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن کے شعبے میں ہوگی۔ اس وقت دنیا میں سب سے زیادہ منافع بخش کاروبار آئی ٹی سیکٹر کا ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق دنیا کی مجموعی دولت کی 33فیصد ملکیت آئی ٹی کمپنیوں کے پاس ہے جو ایک تخمینہ کے مطابق 2.8ٹریلین ڈالر ہے۔ دنیا میں معیشت کے مختلف شعبوں میں انفارمیشن ٹیکنالوجی کا حصہ 775.2 بلین ڈالر، سروس سیکٹر 448.7بلین ڈالر، صنعتی سیکٹر 376.5بلین ڈالر، صحت سیکٹر 30.68بلین ڈالر، انرجی سیکٹر 288.2بلین ڈالر اور ٹیلی کمیونی کیشن کا حصہ 175.1بلین ڈالرہے۔ دنیا میں انفارمیشن ٹیکنالوجی کی صرف 5بڑی کمپنیوں کی مجموعی کیش ہولڈنگ تقریباً 327بلین ڈالر ہے جس میں ایپل کا حصہ 146.8بلین ڈالر، مائیکرو سافٹ کا 80.7بلین ڈالر، گوگل کا 56.5بلین ڈالر، ویریزون کا 54.1بلین ڈالر، سام سنگ کا 49بلین ڈالر اور اوریکل کا حصہ 37بلین ڈالر ہے۔ اگر ہم دنیا میں آئی ٹی کی ایکسپورٹ پر ایک نظر ڈالیں تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ آئی ٹی ایکسپورٹ میں سرفہرست ملک جاپان کی آئی ٹی کی ایکسپورٹ 423بلین ڈالر، جرمنی کی 183بلین ڈالر، امریکہ کی 148بلین ڈالر، سنگاپور کی 128بلین ڈالر، فرانس کی 108بلین ڈالر، ملائیشیا کی 61بلین ڈالر، چین کی 50.5بلین ڈالر اور بھارت کی 12.4بلین ڈالر ہے جبکہ پاکستان کی آئی ٹی ایکسپورٹ صرف 1.4بلین ڈالر ہے حالانکہ پاکستان سوفٹ ویئر بورڈ نے 2014کیلئے آئی ٹی ایکسپورٹ کا ہدف 4بلین ڈالر رکھا تھا۔

گوگل نے حال ہی میں پاکستان کو ڈیجیٹل دنیا میں تیزی سے ابھرتا ہوا ملک قرار دیا ہے۔ گوگل کے مطابق پاکستان میں انٹرنیٹ صارفین کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے جس کیلئے غیر ملکی کمپنیاں ڈیجیٹل ایڈورٹائزنگ کے پوٹینشل میں دلچسپی لے رہی ہیں۔ پاکستان میں تقریباً 5کروڑ 90لاکھ افراد اسمارٹ فون صارفین ہیں جن میں سے تقریباً 83فیصد 'اینڈرائڈ موبائل' فون استعمال کرتے ہیں۔ پاکستان میں انٹرنیٹ صارفین کی تعداد 4کروڑ 46لاکھ ہے جو آبادی کا 22فیصد ہے اور اس میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے۔ گزشتہ 3سال میں یوٹیوب دیکھنے والوں کی تعداد میں تقریباً 60فیصد اضافہ ہوا ہے۔سی پیک منصوبوں کے تحت پاکستان میں انٹرنیٹ کی رسائی کیلئے 820کلومیٹر لمبی فائبر آپٹک کیبل ڈالی جارہی ہے۔ پاکستان میں 2016سے 2018کے دوران ایک کروڑ 60لاکھ صارفین نے انٹرنیٹ کا استعمال کیا جو مجموعی صارفین کا تقریباً 47فیصد ہے۔ اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق انٹرنیٹ اکانومی میں دنیا میں بھارت پہلے نمبر اور پاکستان نویں نمبر پر ہے جبکہ ایران ساتویں اور بنگلہ دیش دسویں نمبر پر ہے۔ دنیا میں 2018میں ای کامرس کے ذریعے 25ٹریلین ڈالر کی خرید و فروخت ہوئی۔ علی بابا اور امیزون نے آن لائن ٹریڈنگ میں ایک انقلاب پیدا کردیا ہے اور اب مستقبل قریب میں آن لائن اشیائے خور و نوش بھی شروع کرنے کا پروگرام ہے۔ اسٹورز میں صارفین کی کمی کی وجہ سے دنیا کی سب سے بڑے اسٹورزنے اپنے توسیعی منصوبے روک دیئے ہیں۔

پاکستان ٹیلی کمیونی کیشن اتھارٹی کے اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں تقریباً 14کروڑ افراد موبائل فون استعمال کرتے ہیں جس میں 3Gاور 4G استعمال کرنیوالوں کی تعداد 4کروڑ 45لاکھ ہے جبکہ پاکستان میں اسمارٹ فون استعمال کرنے والے تقریباً 73فیصد افراد کے فون پر آن لائن ٹیکسی کی ایپس موجود ہیں جس کو ڈیجیٹل انقلاب کہا جاتا ہے۔ پاکستان میں 2011ءمیں کمپیوٹر اور ٹیلی کمیونی کیشن کے ذریعے آئی ٹی سیکٹر میں سب سے زیادہ ترقی ہوئی۔ ملک میں اس وقت تقریباً 30ملین افراد انٹرنیٹ استعمال کرتے ہیں اور اس طرح پاکستان کو دنیا میں انٹرنیٹ استعمال کرنیوالا 27واں بڑا ملک شمار کیا جاتا ہے۔ پاکستان میں مجموعی آبادی کا 10فیصد، بھارت میں 12.6فیصد اور بنگلہ دیش میں 6.3فیصد افراد انٹرنیٹ استعمال کرتے ہیں۔ دنیا میں نوجوان نسل میں سوشل میڈیا تیزی سے فروغ پارہا ہے اور ایک اندازے کے مطابق 50فیصد افراد موبائل فون کے ذریعے انٹرنیٹ استعمال کرتے ہیں۔پاکستان میں ایک اندازے کے مطابق تقریباً ایک ہزار آئی ٹی کمپنیاں کام کررہی ہیں اور اس وقت ایک لاکھ 25ہزار آئی ٹی پروفیشنلز دستیاب ہیں جبکہ ہر سال 20ہزار سے زائد آئی ٹی ماہرین مختلف اداروں سے اپنی تعلیم مکمل کرکے فارغ ہورہے ہیں جسے دیکھتے ہوئے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ پاکستان میں آئی ٹی سیکٹر کے فروغ میں بے انتہا پوٹینشل پایا جاتا ہے۔ حکومت کو دنیا میں تیزی سے گروتھ پانے والے اس منافع بخش سیکٹر کو پاکستان میں ترجیحی بنیادوں پر فروغ دینا ہوگا تاکہ پاکستان بھی اس منافع بخش سیکٹر کی گروتھ سے صحیح معنوں میں فائدہ اٹھا سکے۔