آپ آف لائن ہیں
اتوار2؍صفر المظفّر 1442ھ 20؍ستمبر 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

جب ہم ایک روایتی ہوم آفس کا سوچتے ہیں تو ہمارے ذہن میں ایک ایسے کمرے کا منظر آجاتا ہے، جہاں چند کرسیاں، میزیں اور فائلوں سے بھرے شیلفس موجود ہوں جبکہ ایک بڑی سی میز پر لیمپ ٹمٹما رہا ہو اور کھڑکی پٹ کھلے ہوئے ہوں۔

اگر آپ کے ہوم آفس کا آئیڈیا یہی ہے تو پھریہ مضمون آپ کے بہت کام آنے والا ہے۔ آجکل ہوم آفس کسی بھی شیپ، سائز اور اسٹائل میں ہوتے ہیں، ساتھ ہی یہ روشن، اسٹائلش اور فنکشنل یا ایک ہی وقت میں سب کچھ ہوسکتے ہیں۔ کچھ آفس ایک کمرے کے بجائے گھر کے آدھے حصے پر بھی مشتمل ہوتے ہیں۔ اب یہ آپ کے گھر میں دستیاب جگہ اور آپ کے کام پر منحصرہےکہ آپ کس قسم کا ہوم آفس تیار کرسکتے ہیں۔ 

گھر کی نوعیت سے متعلق آپ کو کوئی نہ کوئی سجھائو آہی جاتا ہے کہ کونسے کمرے کو دفتر کی شکل دی جائے یا پھر گھر کا کونسا حصہ ایک اسٹائلش اور کارآمد آفس میں ڈھل سکتاہے۔سب سے اہم بات یہی ہےکہ ہوم آفس میں یہ صلاحیت بدرجہ اتم ہونی چاہئے کہ وہاں آپ سکون سے اپنے کام کرسکیں اور بزنس کو بڑھا سکیں۔

اگر آپ اپنے بڑے سے ڈرائنگ روم یا لیونگ روم کارنر کو آفس کی شکل دینے والے ہیں تو اس جگہ کوآپ نے دیدہ زیب اور فنکشنل بنا نا ہوگا تاکہ جو بھی یہاں آئے اس حصے کے انداز کو دیکھ کر سراہے بغیر نہ رہ سکے۔ آپ کارنر آفس میں استعمال ہونے والی کیبنٹس، درازوں اور مولڈنگ کو سفید رنگ سے نفیس بناسکتے ہیں۔

ایک ایفیشینٹ اور کارگر آفس میں سامان کی دانشمندانہ اسٹوریج سب سے اہم ہوتی ہے۔ اگر دفتری سامان صحیح جگہ رکھا ہےاور راستے وغیرہ میں رکاوٹ نہیں بن رہاتو اس سے کام آسان اور تیز ہو جاتاہے، مثلاً آپ دیوار سے جڑے کمپیوٹر کے اوپر کیبنٹ میں اپنی فائلیں یا دیگر اشیا رکھ سکتےہیں لیکن اس میں وہ کاغذات یا چیزیں نہ رکھیں، جو ری سائیکل ہونے والی ہوں یا وہ میگزین یا اخبارات جن کوکچھ ہی عرصے میں ہٹانا ہو کیونکہ ایسی چیزوں کو منظم کرنے میں آپ کا وقت ضائع ہوتا ہے حالانکہ کچھ دنوں بعد آپ نے انہیں تلف کرنا ہی ہوتا ہے۔

آپ کے پاس اگر جگہ کی کمی ہے توآپ کو زیادہ سوچ بچارکی ضرورت ہوگی۔ آپ کو اپنے فرنیچر کو اسی حساب سے بنوانا اور دیوار میں لگوانا ہوگا۔ اس کے علاوہ آپ کو دیواروں پر لگے کیبنٹس کا زیادہ استعمال کرنا ہوگا۔ مزید یہ کہ سائیڈ ٹیبل کے اندر بھی اچھی خاصی گنجائش ہوتو بہتر رہےگا۔

آجکل ایسے آفس فرنیچر دستیاب ہیں، جو کسٹمائز ڈ طریقے سے استعمال کیے جاتے ہیں یعنی جس کرسی پر آپ بیٹھے ہیں اسے آپ فولڈ کرکے سائیڈ پر بھی رکھ سکتے ہیں یا دیوار کے ساتھ ہینگنگ ٹیبل آپ کے لیپ ٹاپ کو سمیٹ کر دیوار سے لگ جائے گی۔ بیٹھتے یا آرام کرتے ہوئے کام کرنے کیلئے ایسے بین بیگس بھی دستیاب ہیں، جو سکڑ کر چھوٹے ہوجاتے ہیں اور کم جگہ گھیرتے ہیں۔ تمام ہوم آفس آئیڈیل نہیں ہوتے بلکہ انہیںآئیڈیل بنانا پڑتا ہے۔ فرض کریں کہ آپ گھر کی سیڑھیوں کے پاس آفس بناناچاہتے ہیں تو ریلنگ کے ساتھ آپ کیبنٹس بنا سکتے ہیں اور زینے کے نیچے والا حصہ دفتری سامان کی اسٹوریج کیلئے استعمال کرسکتے ہیں۔

کوشش کریں کہ گھر کے جس کمرے یا کارنر کو آپ آفس کی شکل دیںتو جہاںتک ممکن ہو، وہاں آمدورفت کا راستہ الگ رکھیں۔ اس سے آپ کی زندگی متوازن رہےگی مثلاً اگر آپ دفتری کاموںسے تھک کر گھر میں داخل ہوں تو آپ کو بالکل الگ ماحول میسر ہو، نہ کہ وہی دفتری اشیا آپ کو جھنجلاہٹ میں مبتلا کررہی ہوں۔ ایک بار ساری اشیا اچھے طریقے سے سیٹ کرلیں تو آپ کو جب بھی ضرورت ہوگی، انہیں بآسانی حاصل اور بوقت ضرورت استعمال کرلیں گے۔

جس طرح آپ گھر کی اشیا آفس میں نہیں رکھ سکتے، اسی طرح کوشش کریں کہ آفس کی اشیا بھی گھر میں نہ رکھیں۔ بے شک آفس کو آرام دہ اور پرسکون ہونا چاہئے لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ اسے بغیر منصوبہ بندی کے بنالیاجائے، جس سے کاروباری امور کو انجام دینے میں رکاوٹ پیش آتی ہو۔اس کیلئے آپ کو حدبندی کی بہت زیادہ پابندی کرنی پڑے گی اور دفتر کو گھر سے اس طرح  الگ رکھنا ہوگا۔

جیسے گھر اور دفتر دو الگ جگہوں پر ہوں اور گھر میں ہونے والے شور شرابے کا دفتر کے ماحول پر ذرا بھی اثر نہ پڑتا ہو۔ گھر میں دفتر بنانے کا مطلب یہ نہیں کہ آپ ہر وقت اپنے کام کیلئے دستیاب رہیں۔ آفس کیلئے اوقاتِ کار مقرر کرلیں، اس طریقے سے آپ زیادہ مؤثر اور کارگر طریقے سے کام کرسکیں گے۔