ڈاکٹر عبدالعزیز چشتی
پچھلے سال میں جو جو کیا ہے اس کا کریں حساب اے بچو!
کرنا تھا جو کر نہ سکے تم ڈھونڈو کوئی جواب اے بچو!
کاہلی اور سستی سے تم نے کتنا وقت گنوایا بچو!
کون سا ایسا کام کیاتھا ،صلہ نہ جس کا پایا بچو!
علم کی دولت حاصل کرلو ورنہ! پھر پچھتائو گے
قسمت کو پھر کوسوگے اور گستہ غموں کے گائو گے
پاکستان کا مستقبل ہو پاک وطن سے پیار کرو!
جو دریا بھی رستہ روکے ہمت سے وہ پار کرو!
پاکستان کے استحکام کی خاطر بھی کچھ کرنا ہے
اس کے لئے ہی جینا ہے اور اس کے لئے ہی مرنا ہے
امن و امان کی صورت کو بھی بہتر ہمیں بنانا ہے
دھرتی کا اب ذرہ ذرہ سورج ہمیں بنانا ہے
اے اقبال کے شاہینو تم زندہ قوم کے بچے ہو
ہے کردار مثالی سب کا قول کے بھی تم پکے ہو