• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ایران جنگ کے دوران امارات کی اسٹاک مارکیٹس کو بھاری نقصان کا سامنا

— فائل فوٹو
— فائل فوٹو

امریکا، اسرائیل اور ایران جنگ کے دوران متحدہ عرب امارات کی اسٹاک مارکیٹس کو 120 بلین ڈالرز کا نقصان ہوا ہے۔

بین الاقوامی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق 28 فروری کو ایران کے خلاف جنگ شروع ہونے کے بعد سے اب تک متحدہ عرب امارات میں اسٹاک مارکیٹس کو تقریباً 120 بلین ڈالرز کا نقصان ہوا اور اس دوران دبئی اور ابوظبی کی مارکیٹس کی کارکردگی سب سے زیادہ خراب رہی۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ دبئی انڈیکس میں تقریباً 16 فیصد گراوٹ جب کہ ابوظبی انڈیکس میں تقریباً 9 فیصد گراوٹ دیکھی گئی۔

رپورٹ کے مطابق دبئی فنانشل مارکیٹ (ڈی ایف ایم) جنرل انڈیکس نے مارکیٹ کیپٹلائزیشن میں 45 بلین ڈالرز کے قریب کمی کا سامنا کیا، جب کہ ابوظبی سیکیورٹیز ایکسچینج (اے ڈی ایکس) جنرل انڈیکس میں تقریباََ 75 بلین ڈالرز کی کمی ہوئی۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ خلیج کی تمام مارکیٹس کی صورتِ حال غیر مستحکم ہو گئی ہے، قطر کا زرِ مبادلہ تقریباً 4 فیصد اور بحرین کا تقریباً 7 فیصد کم ہوا ہے جبکہ سعودی عرب اور عمان میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق وال اسٹریٹ، ایس اینڈ پی 500 انڈیکس میں بھی ایران جنگ کے دوران تقریباً 7 فیصد کی کمی ریکارڈ کی گئی۔

واضح رہے کہ متحدہ عرب امارات نے معاشی تنوع کی حکمتِ عملی کے تحت اپنے مالیاتی شعبے کو وسعت دی ہے اور اس کا شمار خطے کی سرکردہ کیپٹل مارکیٹس میں ہوتا ہے۔

2024ء میں متحدہ عرب امارات میں درج اسٹاک کی کل مالیت 1 ٹریلین ڈالرز سے تجاوز کر گئی ہے، جو کہ مشرقِ وسطیٰ میں سعودی عرب کی 2.5 ٹریلین ڈالرز کی مارکیٹ کے بعد دوسرے نمبر پر ہے۔

یہاں یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ 2023ء کے 10 سالہ اقتصادی منصوبے کے تحت حکام نے دبئی کے لیے 2033ء تک دنیا میں سرِ فہرست 4 عالمی مالیاتی مراکز میں شامل ہونے کا ہدف مقرر کیا ہوا ہے۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید
تجارتی خبریں سے مزید