آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
منگل30؍ جمادی الثانی 1441ھ 25؍فروری 2020ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

سوشل میڈیا بمقابلہ ویڈیو گیمز ہر ’اسکرین ٹائم‘ ایک جیسا نہیں ہوتا

موبائل فون پر ایس ایم ایس، گیمز، سوشل میڈیا، ہوم ورک، یوٹیوب چلانا جبکہ ٹیلی ویژن پر کارٹون یا مووی دیکھنا، یہ سارے کام ’اسکرین ٹائم‘ کے زمرے میں آتے ہیں۔ حالیہ برسوں میں ’اسکرین ٹائم‘ کی اصطلاح کافی عام ہوگئی ہے اور آج ہر شخص ’اسکرین ٹائم‘ کی بات کرتے نظر آتا ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم تقریباً اپنا ہر کام موبائل فون اور کمپیوٹر پر کرتے ہیں۔ یہ حقیقت اپنی جگہ ہے کہ لوگ آج بھی ان ٹیکنالوجیز کو محدود پیمانے پر استعمال کرسکتے ہیں۔ 

لیکن آج کے نوجوان اور بچے اپنا بہت زیادہ وقت اسکرین کو تکتے تکتے گزار رہے ہیں اور یہی سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ چھوٹے اور کم عمر بچے اسکرین ٹائم کی وجہ سے بہت زیادہ متاثر ہورہے ہیں اور اس کے منفی اثرات زندگی بھر ان کے ساتھ رہتے ہیں۔

ایک تحقیق کے مطابق، ٹین ایج بچوں میں ڈپریشن کی سب سے بڑی وجہ سوشل میڈیا کا زائد استعمال ہے، جبکہ چھوٹے بچوں میں اپٹیٹیوڈ ٹیسٹ (رجحان کے کئی طرح کے مقابلے) میں کم کارکردگی کی وجہ بہت زیادہ’اسکرین ٹائم‘ کو قرار دیا جاتا ہے۔

سوال یہ ہے کہ کیا ہر طرح کے اسکرین ٹائم کے اثرات ایک جیسے ہوتے ہیں؟ یونیورسٹی آف مونٹریال نے اپنی کئی سال تک جاری رہنے والی تحقیق میں ٹین ایج بچوں پر مختلف نوعیت کے ’اسکرین ٹائم‘ کے اثرات کا جائزہ لیا ہے۔

ویڈیو گیمز اور سوشل میڈیا

یونیورسٹی آف مونٹریال کے محققین کو تحقیق کے دوران اسکرین ٹائم اور ڈپریشن کے مابین واضح تعلق نظر آیا۔ یونیورسٹی کے سائیکائٹری ڈپارٹمنٹ کے پوسٹ ڈاکٹورل ریسرچر اور تحقیق کے مصنف ایلرائے بوئرز کہتے ہیں، ’’اپنی تحقیق کے ذریعے ہم نے ثابت کیا ہے کہ جب بچے اور نو عمر افراد ٹیلی ویژن اور سوشل میڈیا کا زیادہ استعمال کرتے ہیں تو اس عرصے کے دوران اُن میں ڈپریشن کی علامات بھی اتنی ہی سنگین ہوجاتی ہیں‘‘۔ اس تحقیق میں 4ہزار بالغ افراد کو شامل کیا گیا اور نتائج اخذ کرنے کے لیے یہ تحقیق مسلسل چار سال تک جاری رکھی گئی۔ ماہرین کے مطابق، نمونے کے حجم (سیمپل سائز) اور دورانیے کے لحاظ سے یہ ایک مفصل اور قابلِ بھروسہ سائنسی تحقیق ہے۔

اسکرین ٹائم کی مختلف سرگرمیاں ایک فرد کی صحت اور مجموعی شخصیت پر کیا اثرات مرتب کرتی ہیں، یہ جاننے کے لیے خود کو تحقیق کے لیے پیش کرنے والے ان 4ہزار افراد کو چار مختلف کیٹیگریز میں تقسیم کیا گیا:ٹیلی ویژن، سوشل میڈیا، ویڈیو گیمز، اور کمپیوٹر پر دیگر سرگرمیاں۔محققین کے مطابق، ٹیلی ویژن اور سوشل میڈیا کا زیادہ استعمال ڈپریشن میں اضافے کا باعث بنتا ہے جبکہ ویڈیو گیمز اور کمپیوٹر کے زیادہ استعمال اور ڈپریشن میں اضافے کے درمیان تعلق ثابت نہیں ہوسکا۔

سوشل میڈیا اور دماغی صحت

صرف یونیورسٹی آف مونٹریال کی تحقیق ہی نہیں بلکہ گزشتہ سال جرنل آف سوشل اینڈ کلینکل سائیکالوجی میں شائع ہونے والی تحقیق میں بھی کہا گیا تھا کہ وہ لوگ جو سوشل میڈیا کم استعمال کرتے اور ٹیلی ویژن کم دیکھتے ہیں، وہ خود کو کم تنہا اور کم دماغی دباؤ محسوس کرتے ہیں۔ اس حوالے سے یونیورسٹی آف پنسلوانیا کے کلینکل ٹریننگ ڈپارٹمنٹ آف سائیکالوجی کی ایسوسی ایٹ ڈائریکٹر ڈاکٹر میلیسا جی ہنٹ کہتی ہیں، ’’مجھے یہ جان کر حیرانی نہیں ہوئی کہ تحقیق سے سوشل میڈیا کے استعمال اور ڈپریشن میں اضافے کے درمیان تعلق ثابت ہورہا ہے۔ 

اس کی وجہ یہ ہے کہ سوشل میڈیا کے ذریعے لوگ اپنے سماجی رُتبے (سوشل اسٹیٹس) کا مقابلہ مالی اور شخصی (جیسے سامنے والا زیادہ دولت مند ہو یا زیادہ خوبصورت ہو) لحاظ سے کرنے لگتے ہیں، جس سے دماغی صحت کے مسائل پیدا ہونے لگتے ہیں‘‘۔ تاہم وہ کہتی ہیں کہ اس سلسلے میں محققین کو انٹرنیٹ ڈیٹا کے کم یا زیادہ استعمال کے اعدادوشمار پر مزید کام کرنے کی ضرورت ہے۔ 

خود ہنٹ نے بھی گزشتہ سال ایک ایسی ہی تحقیق پر کام کیا تھا، جس میں شریک افراد کے پاس آئی فون کو لازمی قرار دیا گیا تھا۔ ہنٹ نے ہر شریک کار کے فون میں انٹرنیٹ ڈیٹا کے استعمال کی تفصیلات حاصل کرکے پہلے یہ دیکھا کہ ہر شخص نے دن بھر کس ایپلی کیشن پر کتنا وقت گزارا، جس کے بعد ہی انھوں نے ان کی ذہنی صحت اور مجموعی شخصیت پر اس کے اثرات کا جائزہ لینے کی کوشش کی۔

ہنٹ کی تحقیق کے مطابق، ویڈیو گیمز کھیلنا بچوں کی ذہنی صحت کے لیے نقصان دہ نہیں ہے۔ وہ کہتی ہیں، ’’بچے یا تو دوستوں کے ساتھ کھیل کے میدانوں اور پارک میں گیمز کھیلتے ہیں یا پھر اپنے گھر کے کمرے میں ہیڈ سیٹ لگا کر۔ دونوں طرح کی گیمز میں ہی بچوں کی ٹیکنیکل اور سوشل مہارتیں اُبھر کر سامنے آتی ہیں۔ ہاں، ویڈیو گیمز بچوں کے لیے اس وقت نقصان دہ ثابت ہوسکتے ہیں، جب وہ دن بھر صرف یہی کرتے رہیں‘‘۔

والدین کیلئے کیا جاننا ضروری ہے؟

وہ والدین جو اپنے بچوں پر اسکرین ٹائم کے اثرات جاننا چاہتے ہیں، ان کے لیے متذکرہ بالا تحقیق میں کچھ عمومی پوائنٹس ہیں، جنھیں ذہن نشین رکھنا چاہیے۔ تاہم محققین کی جانب سے کوئی لازمی ہدایات جاری نہیں کی گئیں کہ بچوں کو اپنے ڈیوائسز کے ساتھ کتنا وقت گزارنا چاہیے اور کتنا نہیں۔ اس سلسلے میں بوئرز کہتے ہیں، ’’والدین کو چاہیے کہ وہ اپنے بچوں کے سوشل میڈیا استعمال اور ٹیلی ویژن دیکھنے کی سرگرمی پر نظر رکھیں اور اس میں اعتدال لائیں۔

خصوصاً اس صورت میں جب بچوں کی ذہنی صحت پہلے ہی بہتر نہ ہو یا ماضی میں انھیں ذہنی صحت کے مسائل کا سامنا رہا ہو۔ زیادہ اہم بات یہ ہے کہ والدین اپنے بچوں کو ایسا مواد دیکھنے سے روکیں، جسے وہ خیالی طور پر کامل تصور کرتے ہوں یا بہ الفاظِ دیگر اسے آئیڈیلائز (Idealize)کرتے ہوں۔ سوشل میڈیا کا ایسا مواد آپ کے بچوں کی عزتِ نفس کو مجروح کرتا ہے، ان میں احساس محرومی جگاتا ہے اور اس کے نتیجے میں ان میں ڈپریشن کی علامات سنگین ہونے لگتی ہیں‘‘۔

تعلیم سے مزید