آپ آف لائن ہیں
جمعرات13؍ صفر المظفّر 1442ھ یکم اکتوبر2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

ہر سال کی طر ح گزشتہ سال بھی خواتین نے ہر شعبے میں اپنی صلاحیتو ں کے جوہر دکھائے ،اس سلسلے میں معروف میگزین ’’فوربس ‘‘ نے ایک سروے کیا ،جس میں 100 بااثر ،طاقتور اور فعال خواتین کی فہرست جاری کی گئی ،جن میں سے چند کا تذکرہ نذرِقارئین ہے۔

انجیلا مرکل

جرمنی کی چانسلر اور یورپی یونین کی نہایت فعال اور زیر ک رہنما ہیں۔ معروف میگزین فوربس کے بین الاقوامی سروے برائے سال2019ءکی طاقتور ترین اور فعال خواتین کی فہرست میں انہیں پہلے نمبر پر شمار کیا ہے۔ انجییلا مرکل1954ءکو جرمنی کے شہر ہیمبرگ میں پیدا ہوئیں۔ 

انجیلا نے جرمنی کی کارل مارکس یونیورسٹی سے طبیعات میں اعلیٰ سند حاصل کی۔ انہوں نے دیوار برلن کے گرائے جانے کے بعد ملک میں جمہوریت کی بحالی کی تحریک شروع کی ۔ 2003ءکے انتخابات میں وہ پارلیمان کی رکن منتخب ہوئیں۔ 2005ءکے انتخابات میں چانسلر منتخب ہوئیں۔ 2019ءمیں وہ پانچویں بار الیکشن جیت کر چانسلر بن گئیں۔ ان کے مخالفین نے ان کی تارکین وطن سے ہمدردانہ پالیسی کی وجہ سے انہیں تنقید کا نشانہ بنایا گیا ،مگر وہ اپنی پالیسیوں پر ڈٹی رہیں۔

کرسٹین لاگریڈ

یکم جنوری 1956ءکو فرانس میں پیدا ہوئی، کرسٹین نے ابتدائی تعلیم پیرس میں مکمل کی پھر وہ اسکالر شپ پر امریکا چلی گئیں جہاں انہوں نے انگریزی کی ماسٹر ڈگری سمیت لیبر لاز کی بھی سند حاصل کی، انہوں نے امریکا کی معروف کمپنیز میں اعلیٰ عہدے پر کام کیا۔ 

2011ءمیں کرسٹین آئی ایم ایف کی پہلی خاتون سربراہ منتخب ہوئیں، بعد ازاں 2019ءمیں وہ یورپین سینٹرل بینک کی صدر مقرر ہوئیں۔ کرسٹین لا گریڈ کی صلاحیتوں اور وژن سے یورپی مرکزی بینک کو بہت سی امیدیں ہیں وہ موسمی تغیرات کے مسئلے کو بھی بہت اہم تصور کرتی ہیں۔طاقت ور خواتین کی فہرست میں یہ دوسرے نمبر پر ہیں ۔

نینسی پلوسی

فوربس سروے میں نینسی طاقت ور خواتین میں تیسرے نمبر پر آتی ہیں ۔نینسی امریکی ہائوس آف کانگریس کی اسپیکر ہیں۔ نینسی پلوسی 26مارچ1940ءکو بالٹی مور میں پیدا ہوئیں ان کے والدین اٹلی سے ہجرت کر کے امریکامیں آباد ہوئے۔ نینسی امریکی سیاسی جماعت ڈیمو کریٹک پارٹی سے تعلق ہے۔ 

وہ پہلی امریکی خاتون ہیں جو کانگریس کی اسپیکر منتخب ہوئیں، انہیں صدر کے بعد اختیارات اور سیاسی امور میں نائب صدر کو برابر تصور کیا جاتا ہے۔ نینسی نے سب سے پہلے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مواخذہ کے لئے آواز اٹھائی۔ صدر ٹرمپ کے مواخذہ کے لئے جس انداز سے وہ یہ سیاسی لڑائی لڑ رہی ہیں سب کو حیرت ہے وہ مسلسل صدر ٹرمپ پر سیاسی حملے کر رہی ہیں۔ اور انہیں امریکی سیاسی حلقوں سے مدد بھی حاصل ہو رہی ہے۔

ارسلا وان

ارسلا وان یورپی یونین کمیشن کی سربراہ ہیں۔ 2019ءمیں انہوں نے یہ عہدہ سنبھالا ۔ارسلاوان 8اکتوبر 1958ءمیں بیلجیم میں پیدا ہوئیں۔ ابتدائی تعلیم کے بعد اسکول آف لندن آف اکنامکس سے سند حاصل کی۔ نوے کی دہائی میں یورپین سوشل پالیسی کمیٹی کی رکن منتخب ہوئیں۔ 2003ءکے بعد وہ دو سال تک منسٹر آف اسٹیٹ رہیں۔ 2005ءمیں چانسلر انجیلا مرکل نے ارسلا وان کو اپنی کابینہ میں اہم عہدے پر فائز کیا ۔ 

وہ نوجوانوں کے معاملات اور مزدوروں کے معاملات کے حوالے سے وزارتوں پر فائز ہوئیں اور بیشتر مسائل حل بھی کرائے۔2013ءکے بعد وہ وزارت دفاع کی سربراہ رہیں۔ انہوں نے ہر شعبہ اور عہدے پر اپنی ذمہ داریاں بخوبی نبھائیں اس لئے ہر جگہ انہیں قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے اب ارسلا وان یورپی یونین کمیشن کے اہم ترین عہدے پر کام کر رہی ہیں۔فوربس سروے کے مطابق ارسلا طاقت ور خواتین کے چوتھے نمبر میں شمار ہوتی ہیں ۔

میری بارا

فوربس کے سروے کے مطابق میری بارا جو پانچویں نمبر پر آتی ہیں۔یہ سی ای او ہیں،جنرل موٹرز کمپنی اور گلوبل موٹر مارکیٹ میں اہم شخصیت تصور کی جاتی ہیں۔ وہ امریکا کے شہر مشی گن میں پیدا ہوئیں، میری بارا نے اپنی ابتدائی تعلیم جنرل موٹرز انسٹی ٹیوٹ سے حاصل کی۔ 

یونیورسٹی سے الیکٹریکل انجینئرنگ کی سند حاصل کی پھر ماسٹر آف بزنس ایڈمنسٹریشن کی سند حاصل کی۔2008ءمیں وہ گلوبل مینو فیکچرنگ انجینئرنگ کی سربراہ بنی۔ بعد ازاں امریکا کے اہم تجارتی ادارے ڈزنی بورڈ، بزنس کونسل اور جنرل ڈائنا مکس کی بھی سربراہ رہیں۔وہ2013ءسے فوربس کی طاقتور خواتین کی فہرست میں نمایاں ہیں۔

ملینڈا بل گیٹس

ملینڈابل گیٹس دنیا کے سب سے امیر ترین اور بااثر شخصیت بل گیٹس کی اہلیہ اور ملینڈا بل گیٹس فائونڈیشن کی شریک سربراہ ہیں۔ ملینڈا ین گیٹس 15اگست 1964ءمیں پیدا ہوئیں ۔ان کا خاندان فرانس سے امریکا لایا تھا۔ انہوں نے کیتھولک اسکول کی تعلیم کے بعد کمپیوٹر ٹیکنالوجی کی طرف رخ کیا اور اپنے والد کے ساتھ مل کر کمپیوٹر پر بچوں کی گیم تیار کی۔ آئی ٹی میں سند لینے کے بعد ملینڈا نے مائیکرو سوفٹ میں مارکیٹنگ منیجر کا عہدہ سنبھالا۔وہ زیادہ وقت دینے اور بچوں کے ساتھ گزارنا پسند کرتی ہیں۔ 

2016ءکے امریکی انتخابات میں بل گیٹس کو ڈیمو کریٹک پارٹی نائب صدر کے لئے نامزد کرنا چاہتی تھی،مگر بل گیٹس فائونڈیشن کے معاملات میں زیادہ دلچسپی رکھتے تھے۔ ملینڈا گیٹس فلاحی امور میں شوہر کا ہاتھ بٹاتی ہیں۔یہ طاقت ور خواتین کی سروے فہرست میں چھٹے نمبر پر ہیں ۔

شیخ حسینہ واجد

بنگلا دیش کی وزیر اعظم شیخ حسینہ واجد بنگلہ دیش کی مقبول رہنما ہیں۔ وہ ستمبر1947ءکو بنگال میں پیدا ہوئیں۔ تعلیم مکمل کرنے کے بعد انہوں نے 1987ءمیں ملک کی بڑی سیاسی پارٹی عوامی لیگ میں عملی کردار شروع کیا۔ جنوری2009ءسے ملک کی وزیر اعظم ہیں۔ سولہ کروڑ آبادی میں ایک نوے فیصد مسلمان ہیں۔ 

شیخ حسینہ واجد نے بنگلا دیش کی معیشت کو نمایاں ترقی دی۔ تعلیم کے اوسط میں اضافہ کیا اور بیشتر قوانین کو اسلامی تعلیمات کے مطابق کیا۔ انہوں نے ڈھاکہ یونیورسٹی سے ماسٹر ڈگری لی تھی ان کا وژن ہے 2021ءتک اپنے ملک کو مکمل ڈیجیٹل سسٹم کے تابع بنا دیں گی۔ صنعتی ترقی میں بھی ان کی پالیسیاں کامیاب رہی ہیں۔فوربس سروے میں ان کا 29 واں نمبر ہے ۔

نرملا سیتا رام

بھارت کی نرملا سیتارام کا نام فوربس کی طاقتور ترین ایک سو خواتین کی فہرست میں34 ویں نمبر پر ہے۔ نرملا پہلے بھارت کی وزیر دفاع کے منصب پر تھیں اب وہ بھارت وزیر خزانہ ہیں۔ وہ 1969 ءمیں پیدا ہوئیں۔ ان کا تعلق تامل ناڈو سے ہے۔ ابتدائی تعلیم کے بعد مدراس یونیورسٹی سے انہوں نے اکنامکس میں گریجویشن کی سند حاصل کی۔ 

ماسٹر ڈگری بھی اکنامکس میں حاصل کی۔ لندن اسکول اکنامکس سے بھارت یورپین ٹریڈ کے موضوع پر ڈاکٹریٹ کی سند حاصل کی۔ 2006ءسے وہ بھارتیہ جنتا پارٹی کی اہم رہنما ہیں۔ انہیں 2017ءمیں وزیر دفاع بنایا گیا پھر وہ وزیر خزانہ کے طور پر نامزد ہوئیں۔ جواہر لعل نہرو یونیورسٹی نے انہیں تحفہ حسن کارکردگی سے بھی نوازا ہے۔

ملکہ ایلزبتھ دوئم

ملکہ ایلزبتھ میری دوئم برطانیہ میں 1926ءمیں پیدا ہوئیں۔ 1952ءمیں اقتدار سنبھالا اور 1953ءمیں ان کی تاج پوشی عمل میں آئی۔ ملکہ ایلزبتھ برطانیہ کی ملکہ سمیت دولت مشترکہ کی بھی علامتی شاہی سربراہ ہیں جس میں کینڈا، نیوزی لینڈ، آسٹریلیا فہرست ہیں۔ کنگ جاج پنجم ان کے دادا تھے والد کنگ جارج ششم ان کے والد تھے۔ 1939 ءمیں جب دوسری عالمی جنگ کا آغاز ہوا تو لارڈ ہوگر نے کہا کہ شہزادی ایلزبتھ اور شہزادی مارگریٹ کو کنیڈا روانہ کردیا جائے تاکہ وہ جرمن بمباری سے محفوظ رہ سکیں۔ 

مگر شہزادیوں کی والدہ نے اس تجویز سے اختلاف کیا۔ 1951ءمیں جارج ششم کی صحت کی خرابی کی وجہ سے انہیں شہزادی ایلزبتھ دوئم کو اقتدار سونپنا پڑا۔ برطانیہ کے عوام ملکہ کی تاج پوشی پر خوش تھے اور ایلزبتھ دوئم نے ملکہ برطانیہ ہونے کا ریکارڈ قائم کیا۔ اتنی مدت ان کی دادی ملکہ وکٹوریہ کو بھی نصیب نہ ہوسکی۔ سال 2019میں فوربس کی فہرست میں ملکہ ایلزبتھ دوئم کو دنیا کی طاقتور ترین خواتین کی فہرست میں شامل کیا گیا ہے۔سوخواتین کی فہرست میں 40 ویں نمبر پر ہیں۔

سائی ینگ ون

تائیوان کی صدر ہیں، سیاسیات میں اعلیٰ سند لے کر وہ سیاسی دنیا میں آئیں، وہ قوم پرست رہنما ہیں، چین کا ہمیشہ استدلال رہا ہے کہ تائیوان اس کا حصہ ہے، مگر تائیوان جس کی آبادی ڈھائی کروڑ کے قریب ہے۔ وہ اپنے کو چین سے الگ قوم تصور کرتے ہیں۔ سائی ینگ ون نے دونوں ممالک کے بیچ سیاسی مذاکرات کے ذریعہ توازن برقرار رکھا ہے۔ 

تائیوان کی فی کس سالانہ آمدنی پچیس ہزار ڈالر ہے۔ صنعتی، تعلیمی، سائنسی طور پر ترقی یافتہ ہے۔ سائی ینگ ون کو خطے کی اہم رہنما تسلیم کیا جاتا ہے۔فوربس سروے میں سو نمبروں میںان کا 41واں نمبر ہے۔

آئیو نکا ٹرمپ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پہلی اہلیہ کی بیٹی ہیں ،1981ءمیں پیدا ہوئیں۔ شادی شدہ ہیں، امریکی صدر ٹرمپ کی سیاسی مشیر اور ان کے کاروبار کی نگران بھی ہیں۔ آئیونکا نے2016میں اپنے والد کی صدارتی مہم کے دوران نمایاں کردار ادا کیا تھا۔ 

اپنے والد سے بہت محبت کرتی ہیں اور ہر موقع پر اپنے والد کا ساتھ دیتی ہیں۔ ٹرمپ فلاحی فاؤنڈیشن کے فلاحی معاملات کو بھی وہ بخوبی سر انجام دے رہی ہیں۔یہ طاقت ور خواتین میں 42 ویں نمبر پر ہیں ۔

مینگزو ڈونگ

44 نمبر پر ہیں ۔یہ چین کی معروف الیکٹرک کمپنی کی چیئرپرسن اور سربراہ ہیں جن کی مصنوعات پوری دنیا میں درآمد کی جاتی ہیں۔ 

ان کا صنعتی ادارہ پیٹرول یا ڈیزل کے بجائے دیگر ماحول دوست انرجی کے استعمال والی کاریں اور دیگر اہم مصنوعات بھی تیار کررہا ہے۔ وہ رواں سال میں کمپیوٹر چیسس بھی تیار کروا رہی ہیں۔ چینی کاروباری حلقوں میں ان کی صلاحیتوں کو سراہا جاتا ہے۔

روشنی نادر ملہوترا

روشنی ملہوترا بھی فوربس کی 2019کی ٹاپ خواتین کی فہرست میں 54 نمبر پر ہیں۔ وہ بھارت کی معروف ایچ سی ایل ( HCL)ملٹی نیشنل کمپنی کی وائس چیئرمین اور سینئر ڈائریکٹر ہیں جن کی مالیت 9ارب ڈالر سے زائد ہے۔ وہ دہلی میں پیدا ہوئیں۔ 

یونیورسٹی سے نظمیات کاروبار کے شعبہ سے ماسٹر ڈگری حاصل کی۔ انہیں فلاحی امور میں خدمات کے صلے میں تین ایوارڈز سے نوازا گیا۔ وہ چوتھے صنعتی انقلاب نامی فورم کی فعال اور باصلاحیت رہنما ہیں۔ ان کے مختلف اداروں میں تیس ہزار افراد کام کرتے ہیں جو سولہ کاروباری اداروں سے وابستہ ہیں ان سب معاملات پر روشنی ملہوترا پوری نظر رکھتی ہیں۔

فینگ ین مانگ

چین کی ملٹی نیشنل کمپنی گریٹ وال موٹرز کی سربراہ ہیں۔ ان کا مشن ہے کہ آئندہ سال تک وہ اپنی کمپنی کی ایجاد کردہ الیکٹرک کاریں مارکیٹ میں لے آئیں گی۔ فی الفور ان کی کمپنی آلودگی سے پاک کاریں تیار کررہی ہے۔ وہ 1970میں چین کی کاروباری فیملی میں پیدا ہوئیں۔ 

ابتدائی تعلیم کے بعد 1991میں انہوں نے فرانس سے ایم ایس سی کی سند حاصل کی۔ گریٹ وال موٹرز میں وہ اعلیٰ عہدے پر کام کررہی ہیں۔ فوربس کی دو سال سے سو خواتین میں ان کا نام شامل رہا ہے 2019میں بھی وہ معروف چینی کاروباری خاتون کے طور پر ان کا نام شامل فہرست میں 58 ویں نمبر پر ہے۔

کرن مضمد ارشا

کرن بھارت کی امیر ترین صنعت کار مانی جاتی ہیں ۔ ان کا ادویات کا کاروبار ہے جو چھ کمپنیوں پر مشتمل ہے۔ وہ 1978سے اس شعبہ سے وابستہ ہیں۔ یہ سب کچھ انہوں نے اپنی ذاتی محنت، صلاحیت اور مستقل مزاجی سے حاصل کیا ہے۔ فوربس سال 2019کی دنیا کی ایک سو بااثر اور قابل خواتین کی فہرست میں ان کا نام 65 ویں نمبر پر ہے۔ 

ان کا ادارہ نئی دوائوںکی تیاری کے لئے تحقیق بھی کرتا ہے، اس حوالے سے درجنوں سائنس داں، محقق اور ماہرین ان کے اداروں سے وابستہ ہیں۔ اس کے علاوہ ان کے فلاحی ادارے بھی ہیں جو بہت فعال ہیں اور اپنی خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔

سری مولیانی

76 ویں نمبر پر آنے والی سری مولیانی1962ءمیں انڈونیشیا میں پیدا ہوئیں ۔جکارتہ یونیورسٹی سے انہوں نے پوسٹ گریجویشن کے بعد اکنامکس میں پی ایچ ڈی کی۔2001 کےبعد انہوں نے یو ایس ایڈ پروگرام میں اعلیٰ عہدے پر کام کیا۔ پھر آئی ایم ایف کی برائے جنوبی ایشیا ڈائریکٹر رہیں۔ 

انہوں نے دو سال تک انڈونیشیا میں وزارت خزانہ کا قلمدان بھی سنبھالا اور ملک میں کرپشن کے خاتمے کیلئے اہم اقدام کئے۔ فوربس کی فہرست میں 2008سے شامل رہی ہیں۔ 2010میں مولیانی کو ورلڈ بینک میں ڈائریکٹر کے طور پر منتخب کیا گیا۔ وہ مالیاتی حلقوں میں اپنا اچھا امیج رکھتی ہیں۔

صالح ورک زید

افریقا کے تاریخی ملک حبشہ جو اب ایتھوپیا کہلاتا ہے،صالح اس کی صدر ہیں، اس حوالے سے یہ ملک کی پہلی خاتون سربراہ ہیں۔ 

ایتھوپیا کی پارلیمان نےانہیں 2018ءمیں صدر منتخب کیا وہ 1950 میں پیدا ہوئیں ،یونیورسٹی سے اعلیٰ تعلیم حاصل کی، افریقین یونین کی وہ فعال ڈائریکٹر رہیں اور براعظمی معاملات کی نگرانی کرتی رہیں۔ پھر پارلیمان کے انتخاب میں جیت کر نشست حاصل کی ان کا وژن ہے کہ وہ ایتھوپیا کی غربت اور پسماندگی ختم کرنے کی بھرپور جدوجہد کرتی رہیں گی۔ان کا 93 واں نمبر ہے ۔

امینہ جے محمد

98 ویں نمبر پر آنے والی امینہ جے محمد اقوام متحدہ کی ڈپٹی سیکرٹری جنرل ہیں۔، قبل ازیں وہ نائیجریا میں ماحولیات کی وزارت کی وفاقی وزیر رہیں۔ 

وہ 141میں پیدا ہوئیں ،ہارلے بزنس اسکول سے گریجویشن کے بعد وہ برطانیہ سے واپس نائیجریا آئیں اور پروگریسو کانگریس پارٹی میں شمولیت اختیار کی وہ خواتین کے حقوق اور بہبود کیلئے آواز بلند کرتی رہی ہیں۔ 2015ءمیں سیکرٹری جنرل کی مشیر کے طور پر کام کرتی رہیں پھر وہ اقوام متحدہ کی ڈپٹی سیکرٹری نامزد ہوئیں۔