آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
منگل30؍ جمادی الثانی 1441ھ 25؍فروری 2020ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

خواتین کا کھیلوں میں کردار اور مشکلات

ایک صحت مند دماغ کے لیے ایک صحت مند جسم کاہونا ضروری ہے ، کھیل جسمانی صحت مندی کے علاوہ تفریح کا ایک ایسا طریقہ ہے جس سے نظم وضبط رکھنے کا درس ملتا ہے۔ کھیل انسان کو نظم ضبط کے ساتھ قوت برداشت ، ضبط نفس، اتفاق کا جذبہ بھی پیدا کرنا ہے۔ کسی بھی معاشرہ کی ترقی، بحالی میں مردوں کے شانہ بشانہ عورتوں کا ہمیشہ سے کرداررہا ہے۔ 

جس معاشرے میں عورتوں نے زندگی کے ہر شعبے میں ایسا موثر کردار ادا کیا وہاں پر ترقی کا گراف ہمیشہ اوپر کی طرف گیا ۔ خواتین نے تعلیم کے ساتھ معاشی، سیاست، کھیل، طب اور دوسرے شعبے میں گراں خدمات ادا کی۔ اگر ہم کھیلوں کے شعبے کی بات کریں تو خواتین کی کھیلوں میں شمولیت اہمیت کا اندازہ صرف اولمپک گیم سےلگایا جاسکتا ہے۔ 

چاہے مرد حضرات جتنے بھی میڈل جیت لیں اگر خواتین میڈل جتنے میں ان کا ساتھ نہ دیں تو وہ ملک میڈل کی ڈور میں پیچھے رہ جاتا ہے۔خواتین نے کھیلوں میں پاکستان کا نام روشن کیا ہے۔ پاکستان میں خواتین کو کھیلوں میں اتنے زیادہ مواقع نہیں ملتے۔ گھر کی طرف سے پابندیاں ملتی ہیں ۔اگر گھروالوں کی اجازت اور سرپرستی مل بھی جائے تو معاشرے کی نظروں اور نامناسب سہولیات اور کھیلوں کے بنیادی ڈھانچہ نہ ہونے کی وجہ سے بھی لڑکیوں کو پیش درپیش مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ 

اس کے علاوہ جنسی تشدد کے واقعات کی وجہ سے بھی باصلاحیت لڑکیاں کھیلوں کے شعبوں سے منسلک نہیں ہوتیں۔ اس کے علاوہ گورنمنٹ کی نامناسب سرپرستی کی وجہ سے خواتین کو اسپورٹس میں کافی مشکلات آتی ہیں۔ جس طرح کرپشن نے پاکستان کی جڑوں کو کھوکھلا کردیا ہے۔ 

اسی طرح کرپشن کی زد سے کھیل بھی نہ بچ سکے۔ پاکستانی خواتین میں کافی ٹیلنٹ موجود ہے۔ مگر ہمارے ملک میں اس ٹیلنٹ کی قدر نہیں۔ سفارشی کلچرنے ہمارے کھیلوں کو بھی تباہ کردیا ہے۔ان سب مشکلات کے باوجود بھی خواتین کھیلوں میں گراں خدمات ادا کررہی ہے۔ اگر خواتین کو حکومت کی طرح سے سرپرستی اور اوپر ذکر کئے گئے مشکلات کا ازالہ ہوجائے تو پاکستانی خواتین دنیا میں پاکستان کا نام روشن کرسکتی ہے۔

اسپورٹس سے مزید
کھیل سے مزید