آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعرات2؍رجب المرجب 1441ھ 27؍فروری 2020ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

ڈاکٹر سید اقبال محسن

سوئی گیس ہمارے لئے ایک گھریلو نام ہے۔ یہ قدرتی گیس زیرزمین چٹانوں میں کنویں کھود کر نکالی جاتی ہے اور سیکڑوں میل لمبی پائپ لائنوں سے ڈیرہ بگٹی سے کراچی اور ملک کے تمام شہروں بلکہ قصبوںاور دیہات تک پہنچتی ہے۔ یہ چولہے جلانے ، گاڑیوں کے سلنڈر بھرنے کارخانے چلانے اور بجلی بنانے کے لیے بھی استعمال کی جاتی ہے۔

مگر اب ایک نیا نام سننے میں آرہا ہے اور وہ ہے شیل گیس (Shale ges) ۔ شیل ایک چٹان کا نام ہے، جس طرح سینڈ اسٹون اور لائم اسٹون چٹانیں ہوتی ہیں۔ لیکن شیل انتہائی باریک ذرات والی چٹان ہے جیسے مٹی یا ریت کے بہت باریک دانے پر مشتمل چٹان۔ جب یہ ریت اور مٹی سمندروں کی تہہ میں بیٹھتی ہے تو اس کے ساتھ ہی بہت سا نباتاتی اور حیوانی مواد بھی مٹی کی تہوں میں دب جاتا ہے۔ یہی مواد زمین کی گہرائی میں حرارت اور دبائو کے باعث میتھین گیس میں تبدیل ہوجاتا ہے۔ 

یہ گیس اس شیل والی چٹان کے ذرات میں جذب ہوتی ہے اور لاکھوں سال سے اسی طرح محفوظ ہے۔ اب اگر ہم ڈرلنگ کرتے ہوئے اس شیل تک پہنچ بھی جائیں تو گیس کا نکالنا ممکن نہیں ہوتا کیوں کہ شیل کے ذرات اتنے باریک ہوتے ہیں کہ ان میں گیس کا بہائو نہ ہونے کے برابر ہوتاہے۔البتہ اگر ہم اس چٹان کو پانی کی تیز دھار سے چُورا کردیں تو پھر گیس خارج ہونے اور کنویں سے باہرآنے لگے گی ۔یوں Hydraulic fracturingکی مدد سے شیل گیس کا حصول ممکن ہے۔

ہائڈرالک فریکچرنگ تو صرف ایک ٹیکنالوجی ہے،شیل گیس حاصل کر نے کے لیے ایک اور ٹیکنالوجی کی بھی ضرورت ہوتی ہے جسے Horizontal drillingکہتے ہیں۔ کنواں پانی کے لیے کھودا جائے یا تیل کے لیے، یہ ہمیشہ عموداً زمین کے اندرآگے بڑھتا ہے۔ اب آپ تصور کریں کہ دس پندرہ ہزار فیٹ گہرا کنواں کھودنے پر جب ہم شیل کی چٹانی تہہ میں داخل ہوں تو کنویں کو 90درجے گھما کر Vertical سے Horizontal کردیں اور پھر کئی ہزارفیٹ لمبی سرنگ کی شکل میں ڈرل کرتے جائیں اور ساتھ ہی پانی کی تیز دھار سے چٹانوں کو چُورا بھی کرتے جائیں تب کہیں جاکرشیل گیس حاصل ہوگی۔ اس گیس کو غیر روایتی (Uncoventional) توانائی بھی کہتے ہیں، کیوںکہ روایتی تیل اور گیس تو وہ ذخیرے ہیں جو ہم سو برس سے سیدھا کنواں کھود کر ہزاروں بیرل یا لاکھوں مکعب فیٹ کی مقدار میں حاصل کرتے ہیں جو موٹے ذرات والی چٹانوں کے مساموں میں باآسانی بہتے ہیں۔

ان کی تلاش میں خواہ جتنا بھی سرمایہ لگے، لیکن کام یابی کے بعد محض دو سے چار ڈالر فی بیرل کی لاگت سے زمین سے نکالا جاسکتا ہے۔اس کے برعکس غیر روایتی شیل گیس کی تلاش مشکل نہیں۔ جہاں بھی زیرزمین شیل کی چٹان موجود ہو اگر اس میں نامیاتی مواد اچھی مقدار میں یعنی پانچ فی صد کے لگ بھگ ہو تو اس میں گیس جذب شدہ حالت میںموجود ہوگی۔اصل اخراجات اسے زمین سے نکالنے پر آتے ہیں۔

دس سے پندرہ ہزار فیٹ کا گہرا عمودی کنواں اور اس کے بعد اسی کنویں کی تہہ سے کئی ہزار فیٹ کے کئی افقی کنویں اور پھر فریکچرنگ کے لیےلاکھوں گیلن پانی کی ضرورت جس میں کچھ کیمیکل بھی ملانا ہوتے ہیں اور پھر اس آلودہ پانی کو ٹھکانے لگانا۔ ان تمام اخراجات کو ملا کر دیکھیں تو شیل گیس نکالنے کی لاگت روایتی گیس سے چار گنا زیادہ ہوجاتی ہے۔

امریکی محکمہ توانائی نےبراعظم ایشیا کے لیےشیل گیس کا سروے کیا تو پتا چلا کہ ہمارے ملک میں جنوبی انڈس بیسن (Indus Basin) یعنی صوبہ سندھ اور بلوچستان میں شیل کی چٹانیں پندرہ ہزار فیٹ کی گہرائی میں موجود ہیں جن میں گیس ملنے کے امکانات ہیں۔اسی محکمے نے 2009میں یہ اندازہ پیش کیا تھا کہ یہاں سے 51ٹریلین کیوبک فیٹ گیس نکالی جا سکتی ہے۔ بعد ازاں 2011کے سروے میں اسے بڑھا کر 206ٹریلین بتایا گیا اور تازہ ترین سروے میں اس سے کئی قدم آگے بتایا گیا ہے۔

بس پھر کیا تھا، ہماری پیٹرولیم انڈسٹری اور وزارت پیٹرولیم میں بھی ایک ہلچل مچ گئی اور سوشل میڈیا بھی اس بحث مباحثے کا حصہ بن گیا کہ اتنے بڑے ذخائر سے فائدہ اٹھانے کے لیے ہمیں کوششیں تیز کرنی چاہئیں۔

اس ضمن میں سب سے پہلی بات یہ کہ ہماری شیل کی چٹانوں میں نامیاتی مواد جسے Total organic Carbonیا TOCکہتے ہیں،کی مقدار حوصلہ افزا حد تک نہیں ہے۔اچھی گیس والی شیل میں TOC دو تا چار فی صد ہونا چاہیے۔ہماری شیل میںیہ محض نصف فی صد (0.52) سے 2.5فی صد تک ہے۔ دوسری بات، مطلوبہ چٹانیں اگر کم گہرائی میں واقع ہوں، جیسے تین سے پانچ ہزارفیٹ تک، تو اخراجات کم ہوتے ہیں۔ ہمارے انڈس بیسن میں یہ چٹانیں پندرہ ہزارفیٹ کی گہرائی میں ملتی ہیں۔ تیسری بات، شیل گیس کے ذخائر کم از کم بیس سے تیس ملکوں میں ملے ہیں، لیکن ان سے گیس صرف امریکا اور کینیڈا میں حاصل کی جارہی ہے۔

یورپی ممالک،جیسے فرانس یا پولینڈ بھی تجرباتی حد سے آگے نہیں بڑھ سکے ہیں، تو کیا ہمارے لیے ہائڈرالک فریکچرنگ اور ہاریزنٹل ڈرلنگ کوئی آسان کام ہوگا؟ چوتھی بات، چوں کہ اس پر لاگت زیادہ آتی ہے اس لئے شیل گیس نکالنا صرف اسی وقت ممکن ہوتا ہے جب تیل کی قیمتیں آسمان سے باتیں کررہی ہوں۔ جوں ہی تیل کی قیمت گرتی ہے شیل گیس کی پیداوار غیر منافع بخش ہوجاتی ہے اور ڈرلنگ روکنا پڑتی ہے۔چار سالوں سے تیل کی قیمت گری ہوئی ہے اور اس کے بڑھنے کےزیادہ امکانات نظر نہیں آرہے۔

ہماری شیل کی چٹانیں کم از کم ایک اعتبار سے بہتر ہیں۔ان میں چکنی مٹی کے مقابلے میں باریک ریت کے ذرات زیادہ ہیں،اس لئے انہیں چُورا کرنے میں سہولت ہوگی۔ ان دنوں ہمارے تیکنیکی حلقوں میں یہ بحث جاری ہے کہ ہمیں شیل گیس کی طرف کوئی قدم بڑھانا چاہیے، یعنی کم از کم ایک یا دو کنویں تجرباتی طورپرکھود کر دیکھنا چاہیےکہ ہم کہاں کھڑے ہیں یا یہ صرف سرمائے کا زیاں ہے۔ہماری مشکل یہ ہے کہ ہم تیکنیکی معاملات کو بھی سیاست کا اکھاڑہ بنا دیتے ہیں۔گہرے سمندر میں تیل کی تلاش کے لیے سترہ واں کنواں، کیکڑا-ون کھودا گیا تو اس میں ہر وزیر کا بیان شامل ہوگیا۔ 

جتنا بڑا سمندری علاقہ ہمیں تیل کی تلاش کے لیے میسر ہے اس میں پچاس برسوں میں سترہ کنویں کھودنا کوئی بڑی بات نہیں۔ ابھی اور کنویں بھی کھودے جائیں گے اور تب شاید ہماری معلومات اتنی بہتر ہوجائیں کہ ہمارا اندازہ درست نکلے اور جہاں ہم ڈرلنگ کریں وہاں تیل کا ذخیرہ موجود ہو۔ اسی طرح جوں ہی ہم شیل گیس کاایک تجرباتی کنواں کھودنا شروع کریں گے، قوم کی امیدوں کو اتنا بڑھا دیا جائے گا کہ ڈرلنگ کرنے والوں کے ہاتھ پائوں پھول جائیں۔

قوموں کی ترقی اور معیشت کی بہتری ایک صبر آزما عمل ہے اورجہد مسلسل ہے۔ اس کے لیے سنجیدگی چاہیے اور ہر فرد کو ٹیکس کی شکل میں اپنا حصہ ملاناچاہیے۔او جی ڈی سی ہماری قومی کمپنی ہے وہ شیل گیس کی تلاش کے لیے تجرباتی طورپرایک کنویں کی کھدائی شروع کررہی ہے۔اس کام میں قوم کا پیسہ لگے گا ۔ گیس نکلے یا نہ نکلے، لیکن اس سے جو کچھ ہم سیکھیں گے وہ معیشت کو صحیح سمت میں گام زن کرنے ہمارا مددگار ہوگا۔

سائنس اینڈ ٹیکنالوجی سے مزید
ٹیکنالوجی سے مزید