آپ آف لائن ہیں
بدھ3؍ربیع الاوّل 1442ھ21؍اکتوبر 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

آسٹریلیا: انتظامیہ نے جانوروں کیلئے خوراک کی بارش کردی

آسٹریلیا: انتظامیہ نے جانوروں کیلئے خوراک کی بارش کردی


آسٹریلیا میں انتظامیہ نے آگ سے متاثرہ علاقوں میں زندہ بچ جانے والے جانوروں کے لیے ہیلی کاپٹر کی مدد سے خوراک مہیا کرنا شروع کردی۔

اس کام کو انجام دینے کے لیے ہیلی کاپٹر کے ساتھ ساتھ ہوائی جہاز کا سہارا بھی لیا جارہا ہے۔

واضح رہے کہ آسٹریلیا کے جنگلات میں حال ہی میں لگی آگ کی وجہ سے لاکھوں ایکڑ پر پھیلے جنگلات جل کر خاکستر ہوگئے ہیں۔

اس آگ کی وجہ سے جہاں درجنوں انسانی جانوں کا ضیاع ہوا وہیں ایک ارب جانور بھی ہلاک ہوئے جبکہ زندہ بچ جانے والے جانوروں کو خوراک کی قلت کا سامنا ہے۔

والابیز کی نسل کو بچانے اور مذکورہ پریشانی کو مد نظر رکھتے ہوئے نیو ساؤتھ ویلز کی حکومت نے ان جانوروں کے لیے خوراک فراہم کرنا شروع کی ہے جس کے لیے ہیلی کاپٹرز اور طیاروں کی مدد لی گئی ہے۔

نیو ساؤتھ ویلز کے نیشنل پارکس اور وائلڈ لائف سروسز نے حال ہی میں ’آپریشن راک والابے‘ کے نام سے ایک آپریشن شروع کیا ہے۔

انتظامیہ نے کیپرٹری اور وولگن ویلیز، ینگو نیشنل پارک، دی کینگرو ویلی، جینولن، اوکسلے وائلڈ ریورز اور کرمبنڈی نیشنل پارک میں یہ آپریشنز کیے۔

اس دوران ہوائی جہاز اور ہیلی کاپٹر کی مدد سے شکر قندی اور گاجر سمیت ولابیز کے پسندیدہ سبزیوں کو جنگلات میں پھینکا گیا تاکہ ان کی خوراک کی قلت پوری ہوسکے۔

اس حوالے سے انتظامیہ کا کہنا ہے کہ انہوں نے اب تک 2 ہزار 200 کلوگرام تک کی تازہ سبزیاں جنگلات میں میں گرائی ہیں تاکہ یہ جانور انہیں کھاسکیں۔

ان کا کہنا تھا کہ والابیز کے علاوہ دیگر سبزی خود جانور بھی انہیں کھا کر زندہ رہ سکتے ہیں۔

نیوساؤتھ ویلز کے وزیر ماحولیات میٹ کین کا کہنا تھا کہ زندہ بچ جانے والے جانور آتشزدہ علاقوں سے بھاگنے میں تو کامیاب ہوئے لیکن ان کے لیے خوراک ذریعہ (جنگلات) ہی ختم ہوگئے ہیں۔

واضح رہے کہ ورلڈ وائلڈلائف فنڈ نے اندازہ لگاتے ہوئے بتایا ہے کہ پورے آسٹریلیا میں آگ سے بلواسطہ اور بلاواسطہ ایک ارب 25 کروڑ جانور ہلاک ہوئے ہیں۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید