آپ آف لائن ہیں
منگل6؍شعبان المعظم 1441ھ 31؍مارچ 2020ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

کبھی کبھی تاریخ کے آئینے میں ماضی پر نظر ڈالتے ہوئے دلچسپ واقعات پڑھنے کو ملتے ہیں۔ یہ واقعات موجودہ صورتحال سے موازنے کا سامان مہیا کرتے ہیں۔ زندگی کی رو میں بہتے ہوئے احساس نہیں ہوتا دنیا کتنی ترقی کر چکی ہے اور سائنس کتنی منازل طے کر چکی ہے۔ یہ آج سے 85/86برس پہلے کی بات ہے جب نہ موبائل ایجاد ہوئے تھے اور نہ ہی اتنی اعلیٰ کوالٹی کے کیمرے ہوتے تھے۔ 

آپ شاید چشمِ تصور سے بھی وہ کیمرے نہ دیکھ سکیں جن کے اوپر خواتین کے برقعوں کی مانند کالے کپڑے یعنی حجاب پڑے ہوتے تھے۔ تصویر بنوانے والا سامنے کرسی پر بیٹھتا تو کیمرہ مین پیچھے سے پردہ اٹھا کر کچھ کرتا پھر آواز آتی ’’ریڈی‘‘۔ 

پھر وہ کیمرے کے چہرے پر پڑا ہوا کالا حجاب ہٹاتا اور چشمِ زدن میں تصویر کھینچ کر حجاب دوبارہ ڈال دیتا۔ فلم کو دھونے میں دو تین دن لگتے اور دو تین دن بعد تصویر ملتی۔ موجودہ زندگی کی تیزی مبارک ہو کہ چند منٹوں میں جتنی چاہیں تصویریں مل جاتی ہیں۔ 

موجودہ تیز زندگی کا تحفہ موبائل بھی ہے اور سچی بات یہ ہے کہ موبائل فون کی صورت میں آپ کی زندگی میں ایک ’’چور‘‘ گھس آیا ہے جو انسان کے بہت سے رازوں کا امین ہوتا ہے۔ اب آپ کی کسی بھی مقام پہ موجودگی اور کئی خفیہ حرکات کا کھوج لگانا آسان ہو گیا ہے۔ 

کوئی بھی واردات ہو، تفتیش کے لئے پولیس سب سے پہلے ملزم اور مظلوم سے موبائل فون مانگتی ہے۔ شکی بیویاں گھر آتے ہی خاوند کا موبائل چراتیں اور اس کی تلاشی لیتی ہیں۔ سوال یہ ہے کہ مجھے آج یہ خیال کیوں آیا؟ کالم کا موضوع کچھ اور تھا لیکن بات دور نکل گئی۔ 

ہوا یوں کہ آج صبح ہی صبح ایک بزرگ اور فاضل دوست نے واٹس ایپ پر دو خوبرو لڑکیوں کی تصویریں بھیجیں جو سوشل میڈیا پہ وائرل ہو چکی ہیں۔ تصویروں کے نیچے لکھا ہے ’’ریاستِ مدینہ کے ہر بڑے مومن کی عزت اِن لڑکیوں کے موبائلوں میں محفوظ ہے‘‘۔ 

دراصل یہاں محفوظ بروزن غیرمحفوظ ہے۔ سچی بات یہ ہے کہ مجھے اُن ’’بڑے‘‘ لوگوں پہ رحم آتا ہے جن کی عزتیں موبائلوں میں محفوظ ہوتی ہیں۔ وہ عزت ہی کیا جو موبائل کی مرہونِ منت ہو۔

بات تاریخ کی ہو رہی تھی اور ذکر تصویر کا تھا۔ پھر یوں ہوا کہ 1936میں قائداعظم کوئٹہ کے دورے پر گئے ہوئے تھے۔ جناب یحییٰ بختیار قائداعظم سے عقیدت رکھتے تھے اور مسلم لیگ کے اسٹوڈنٹس ونگ مسلم اسٹوڈنٹس فیڈریشن میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے تھے۔ 

انہوں نے قائداعظم کی کچھ تصاویر لیں۔ وہ تصاویر معیاری نہیں تھیں۔ کچھ دھندلی کچھ بکھری بکھری۔ یحییٰ بختیار نے وہ تصاویر ڈان اور السٹریٹڈ ویکلی آف انڈیا کو بھجوا دیں۔ 

ڈان نے وہ تصاویر شائع نہ کیں۔ اگلے دن یحییٰ بختیار اپنا کیمرہ بمع فلیش اٹھا کر دوبارہ کوئٹہ میں قائداعظم کی قیام گاہ پر پہنچ گئے۔ جب وہ وہاں پہنچے تو دیکھا کہ قائداعظم ’’الحدیث‘‘ نامی کتاب کے مطالعے میں محو تھے۔ یہ کتاب نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کی احادیث پر مشتمل تھی۔ وہ زمانہ کانگریس اور انگریز حکومت کے خلاف جدوجہد اور جہاد کا تھا لیکن اصل چیلنج مسلمان عوام کو مسلم لیگ کے جھنڈے تلے متحد کرنا تھا جس کے بغیر جنگِ آزادی نہ لڑی اور نہ جیتی جا سکتی تھی۔ 

مسلم لیگ کو عوام کے دلوں میں اتارنے کے لئے اس کی قیادت کو دلوں میں اتارنا ضروری تھا۔ قائداعظم کو غور سے ’’الحدیث‘‘ نامی کتاب پڑھتے ہوئے دیکھ کر یحییٰ بختیار کو فوراً خیال آیا کہ وہ اسی حالت میں قائداعظم کی تصویریں بنائے اور پریس کو بھیجے۔ 

مقصد یہ تھا کہ مسلمان عوام انگریزی لباس میں ملبوس انگریزی بولنے والے لیڈر کو الحدیث کتاب پڑھتے ہوئے دیکھ کر قلبی راحت محسوس کریں گے اور اُن کے دلوں میں مسلم لیگی قیادت کے لئے محبت و عقیدت کے جذبات پیدا ہوں گے۔ کانگرسی پروپیگنڈے اور مسلم لیگ مخالف سیاستدانوں کی مہم جوئی کو توڑنے میں مدد ملے گی۔ چنانچہ یحییٰ بختیار نے قائداعظم سے درخواست کی کہ وہ اسی طرح بیٹھے کتاب کا مطالعہ کرتے ہوئے ذرا کتاب کو اوپر کر دیں تاکہ اس کا نام نمایاں ہو جائے۔ قائداعظم کو اللہ پاک نے انتہا کی ذہانت عطا کی تھی۔

 انہوں نے فوراً کتاب ایک طرف رکھ دی اور یحییٰ بختیار سے کہا ’’میں اس مقدس کتاب کو پبلسٹی کا ذریعہ نہیں بنانا چاہتا‘‘۔ اُن کے الفاظ یہ تھے:

"I do not want to use a sacred book as s tool of publicity."

یہ جواب تھا ایک کھرے انسان کا جو منافقت سے پاک اور سچائی کا پیکر تھا۔ اس وقت ان کے ذہن پر الحدیث چھائی ہوئی تھی۔ چند لمحوں بعد کہنے لگے ’’حضور نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کو ایک طرف یہودیوں اور عیسائیوں کی مخالفت کا سامنا تھا تو دوسری طرف اپنے لوگ دشمن ہو گئے تھے۔ اسی طرح آج مجھے بھی ایک طرف یہودیوں کی مانند ہندوئوں اور عیسائی حکمرانوں کی مخالفت کا سامنا ہے اور دوسری طرف کچھ اپنے لوگوں کی مزاحمت بھی درپیش ہے۔ 

جس طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اعلیٰ ترین کردار اور امانت و دیانت اور اللہ پاک کی مدد سے قریش، عیسائیوں اور یہودیوں پر فتح حاصل کی اسی طرح میں بھی اسوئہ حسنہ پر عمل کرتے ہوئے کانگرس اور برطانوی حکمرانوں کے اتحاد اور اپنے لوگوں کی سازشوں کے خلاف کامیابی حاصل کروں گا۔ کامیابی کی کنجی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بتائی ہوئی راہ پر چلنے میں مضمر ہے‘‘۔

ایک طرف قائداعظم کا ریاستِ مدینہ کا وژن تھا جس میں اسوئہ حسنہ پر عمل کامیابی کی ضمانت تھی۔ 

دوسری طرف موجودہ ریاستِ مدینہ ہے جس میں سرکردہ مومنوں کی عزت ان دو لڑکیوں کے موبائلوں میں محفوظ ہے۔ اللّٰہ اللّٰہ وہ بلندی یہ پستی۔ اللّٰہ پاک ہم پر رحم اور کرم فرمائیں۔

تازہ ترین