آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
بدھ26؍ جمادی الاوّل 1441ھ 22؍ جنوری 2020ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

اپنی نسل کو معدومیت سے بچانے والا عظیم الجثہ کچھوا

لندن (جنگ نیوز) ایک اندازے کے مطابق ڈیگو کے بچوں کی تعداد 800کے لگ بھگ ہے۔ اپنی نسل کو معدومیت سے بچانے والے عظیم الجثہ کچھوے ڈیگو کو جلد گالاپیگوس جزائر کے جنگل میں واپس بھیجا جا رہا ہے۔ ڈیگو کا تعلق ان 14 نر کچھوؤں میں سے ہے جن کا انتخاب سانتا کروز جزیرے میں افزائش نسل پروگرام کیلئے کیا گیا تھا۔ 1960میں شروع ہونے والا یہ پروگرام کامیاب رہا اور اس دوران دو ہزار عظیم الجثہ کچھوؤں کی افزائش کی گئی۔ نسل کی افزائش میں ڈیگو کی سیکس ڈرائیو بڑی وجوہ میں سے ایک وجہ تھی۔ 100 سالہ کچھوا ڈیگو سیکڑوں بچوں کا باپ ہے ۔ ایک اندازے کے مطابق اس کے بچوں کی تعداد 800کے لگ بھگ ہے۔اب یہ پروگرام ختم ہو چکا ہے اور گالاپیگوس نیشنل پارکس سروس کے مطابق ڈیگو کو مارچ میں اس کے آبائی جزیرے ایسپانولا واپس بھیج دیا جائے گا۔ وہ 1800 کچھوؤں کی آبادی میں شامل ہو گا ۔ پارک رینجرز کا خیال ہے کہ ان میں سے تقریباً 40 فیصد ڈیگو کے بچے ہیں ۔ جزیرے میں کچھووں کی تعداد اب 1800 ہے۔پارک ڈائریکٹر جورج کیرین نے بتایا کہ اس کچھوے نے اپنی نسل کو معدومیت سے بچانے میں اہم کردار ادا کیا اور یہی وجہ ہے کہ ہم ایسپانولا واپس جا رہے ہیں ۔ اس کچھوے کو اس کی قدرتی جگہ پر واپس بھیجنے پر خوشی کا احساس ہو رہا ہے۔پارک سروس تسلیم کرتی ہے کہ 80برس قبل ڈیگو کو ایک سائنسی مہم

کے تحت گالاپیگوس سے لے جایا گیا تھا۔ تقریباً پچاس برس قبل ایسپانولا میں ڈیگو کی نسل سے تعلق رکھنے والے صرف دو نر اور 12 مادہ کچھوے زندہ تھے۔ اس کی نسل چیلونودس ہوڈینسس کو بچانے کیلئے ڈیگو کو کیلی فورنیا کے سین ڈیگو چڑیا گھر سے لایا گیا تھا ۔ گالاپیگوس کا سب سے قدیم حصہ سمجھے جانے والے علاقے ایسپانولا میں ڈیگو کی فاتحانہ واپسی سے پہلے اسے الگ تھلگ رکھا جا رہا ہے۔براعظم ایکویڈور کے مغرب میں 906 کلومیٹر (563میل) پر واقع گالاپیگوس جزائر کا شمار یونیسکو کے عالمی ثقافتی ورثے میں ہوتا ہے، جو اپنے پودوں اور جنگلی حیات کی منفرد صفوں کے لیے دنیا بھر میں مشہور ہیں۔گالاپیگوس جزائر سے ملنے والی مختلف انواع جیسے کے چھپکلی کی ایک نسل اگوانا اور کچھوئوں نے چارلس ڈارون کے نظرئیہ ارتقا کی ترقی میں کلیدی کردار ادا کیا۔ دنیا بھر کے سیاح اس علاقے کا حیاتاتی تنوع دیکھنے کے لیے یہاں کا سفر کرتے ہیں۔

یورپ سے سے مزید