آپ آف لائن ہیں
منگل4؍صفر المظفّر 1442ھ 22؍ستمبر 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

موسمی تغیرات اور ہماری ذمہ داریاں!

’’موسمی تغیرات‘‘ ربِ کائنات کی جانب سے ہوتے ہیں لیکن اللّٰہ تعالیٰ نے انسان کو اس کا سدِباب بھی بتا دیا ہے۔ مسلم ممالک سے زیادہ یورپی ممالک میں یہ تغیرات واقع ہوتے ہیں مگر انہوں نے اس کے اچھے انتظامات کیے ہیں، اس لئے وہاں جانی نقصانات نہیں ہوتے یا بہت ہی کم ہوتا ہے جبکہ ہمارے ہاں تھوڑی سی موسمی تبدیلی بھی واقع ہو تو سینکڑوں کی تعداد میں قیمتی جانیں ضائع ہو جاتی ہیں۔ دور نہ جائیں، حالیہ دنوں میں ہی دیکھ لیں۔ ملک کے مختلف علاقوں میں موسلا دھار بارش اور پہاڑی علاقوں میں برف باری کے باعث روزمرہ کے معمولات درہم برہم ہو گئے ہیں۔ ملک بھر سے مصدقہ رپورٹوں کے مطابق برفانی تودے گرنے، مکانات کی چھتیں ڈھنے، شدید سردی اور اس قسم کے دیگر واقعات میں 200سے زائد افراد جاں بحق ہو چکے ہیں۔ سینکڑوں کی تعداد میں زخمی ہوئے ہیں۔ آزاد کشمیر کی نیلم وادی میں تودے گرنے سے بڑے پیمانے پر جانی و مالی نقصانات ہونے کی اطلاعات ہیں۔ گلگت بلتستان میں سخت ترین سردی اور برف باری کا 50سالہ ریکارڈ ٹوٹ چکا ہے۔ بلوچستان بھی موسلا دھار بارش اور شدید برف باری کے باعث بہت متاثر ہوا ہے، جہاں مختلف واقعات میں 35افراد کے مرنے کی خبریں ہیں۔ ملک بھر میں شدید سردی کی وجہ سے معاملاتِ زندگی مفلوج ہو کر رہ گئے ہیں، جبکہ ملک بھر خصوصاً بلوچستان کے متفرق علاقوں میں گیس کی سپلائی معطل اور بجلی کی طویل لوڈ شیڈنگ کی وجہ سے عوام کو پریشانی کا سامنا ہے۔ یہ پیشِ نظر رہے کہ اس صدی میں ایٹمی دوڑ کی وجہ سے فطری نظام بری طرح متاثر ہوا ہے۔ اس وقت پوری دنیا ماحولیاتی و موسمیاتی تبدیلیوں کی زد میں ہے۔ ماحولیاتی آلودگی، صنعتوں سے زہریلی گیسوں کے مستقل اخراج اور دیگر عوامل کی وجہ سے کرۂ ارض کا فطری توازن روز بروز بگڑتا ہی چلا جا رہا ہے۔ درجۂ حرارت کا طبعی نظام اونچ نیچ کا شکار ہو چکا ہے۔ اسی بنا پر گرمی اور سردی‘ دونوں کی شدت اور حدت ہر سال پہلے سے زیادہ محسوس کی جا رہی ہے۔ عالمی ماہرینِ ارضیات و فلکیات کی مختلف رپورٹوں کے مطابق آئندہ چند سال مزید تک سخت سردی اور انتہائی گرمی ہو گی، خوفناک زلزلے، خطرناک سیلاب، منہ زور طوفان آئیں گے۔ کبھی سخت آندھی اور کبھی انتہائی حبس ہوگا۔ ویسے گزشتہ دس برسوں سے امریکہ، یورپ، ایشیا سمیت پوری دنیا میں ہولناک زلزلے، شدید طوفان، موسلا دھار بارش اور سونامی آ بھی چکے ہیں، جن میں آناً فاناً لاکھوں افراد مر چکے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ یہ زلزلے، یہ طوفان، یہ آندھیاں، یہ حوادث اور یہ موسمی تغیرات کیوں آتے ہیں؟ اس کے مختلف مادی اور روحانی اسباب ہیں۔ قرآن میں اللّٰہ فرماتا ہے ’’زمین اور آسمان میں جو فساد ظاہر ہوتا ہے، اس کا سبب انسانوں کے اپنے اعمال ہی ہیں‘‘۔ انسان جیسے اعمال کرتا ہے ویسے ہی اس کے اثرات ظاہر ہوتے ہیں۔ ایسے حوادث کے ذریعے اللّٰہ تعالیٰ تنبیہ کرتا ہے کہ انسان توبہ اور رجوع کریں۔ یہ علاماتِ قیامت میں سے ہے۔ موسمی تغیرات، برفباری، زلزلے، طوفان اور سیلاب کے دونوں پہلوئوں‘ روحانی و مادی کو مدنظر رکھنا چاہئے۔ اسلام نے مادی اسباب سے قطعاً منع نہیں کیا بلکہ زمینی حقائق کو تسلیم کیا ہے۔ یہ تاثر بھی غلط ہے کہ مسلمان صرف روحانی سبب کو ہی لیتے ہیں اور مادی کو بھول جاتے ہیں۔ بیشک زمین کے اندر ایسے بخارات ہیں جو نکلنا چاہتے ہیں۔ اگر زمین کے مسام تنگ ہو جاتے ہیں تو ان کی حرکت سے زمین حرکت کرنے لگتی ہے۔ بعض ان بخارات کی علت اجزائے ناریہ کو بتلاتے ہیں جو کوہِ آتش فشاں کے گرد و پیش مجتمع ہو جاتے ہیں۔ گناہوں کا وبال بھی اس صورت میں ظاہر ہوتا ہے۔ قرآن مجید کی سورہ طٰہٰ کی آیت 124میں اللّٰہ فرماتا ہے ’’اگر لوگوں نے میری نازل کی ہوئی ہدایات، اُصولوں و قوانین اور تعلیمات سے اعراض اور انحراف کیا تو میں ’معیشت ضنکا‘ مسلط کر دوں گا‘‘۔ ’’معیشتِ ضنکا‘‘ عربی میں ایسی معیشت کو کہتے ہیں جس میں کثیر آمدنی کے باوجود گزارا مشکل ہو جائے، ہر طرف پریشانی اور غم ہو، حالات خراب ہوں اور دولت کی خاطر بھائی بھائی کا گلا کاٹ رہا ہو۔ قرآن کے اس حکم کو پیش نظر اور مدنظر رکھ کر بھی سوچا جا سکتا ہے۔ اس بات کو سائنس بھی تسلیم کرتی ہے کہ کرۂ ارض کے لئے خطرات کا باعث بننے والے اکثر موسمی عوامل خود انسانوں کے اپنے پیدا کردہ ہیں، چنانچہ دنیا بھر کے سنجیدہ حلقے ماحولیاتی آلودگی اور کلائمیٹ چینج میں کمی لانے کے مختلف اقدامات سوچنے پر مجبور ہیں۔ قدرتی حادثات سے نمٹنے اور نقصانات سے بچاؤ کے لئے بھی جدید سائنسی طریقوں پر انتظامات کے لیے کوشاں ہیں۔ ایسے حوادثات سے نمٹنے کے لیے یورپی ممالک میں ڈیزاسٹر مینجمنٹ کے ادارے بہت ہی متحرک ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان ممالک میں انسانی جانوں کا نقصان بہت ہی کم ہوتا ہے، جبکہ ہمارے ہاں اوّلاً تو پورے ملک میں ڈیزاسٹر مینجمنٹ کے ادارے ہیں ہی نہیں، اگر کہیں موجود بھی ہیں تو فعال نہیں ہیں، جس کی وجہ سے معمولی بارشوں اور تھوڑی سی برف باری کی بنا پر بھی سینکڑوں قیمتی جانیں چلی جاتی ہیں۔ بارانِ رحمت بھی ہمارے لیے زحمت کا باعث بن جاتی ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اربابِ حل و عقد ملک میں ماحولیاتی اور موسمی تغیرات سے پیدا ہونے والے مسائل سے نمٹنے کے لیے فوری اور موثر اقدامات ہنگامی بنیادوں پر کریں۔ عوام کے جان و مال کا تحفظ حکومت کی اولین ذمہ داری ہے۔

(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں00923004647998)