آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
بدھ26؍ جمادی الاوّل 1441ھ 22؍ جنوری 2020ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

وزارت اطلاعات کےسینئر افسروں کا قبل از وقت تبدیلی پر اظہار تشویش

اسلام آباد(نمائندہ جنگ) وزارت اطلاعات کےسنیئر افسروں نے قبل از وقت تبدیلی پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ تاہم، ایک سرکاری افسر نے نام ظاہر نا کرنے کی شرط پر بتایا ہے کہ حکومت افسران کی کارکردگی کا جائزہ لے کر فیصلہ کرتی ہے‘مقصد متعلقہ وزارت میں بہتر فیصلے ہیں۔ تفصیلات کے مطابق، انفارمیشن گروپ کے ریٹائرڈ سینئر افسروں پر مشتمل فیڈرل انفارمیشن سیکرٹریز فورم نے سیکرٹری اطلا عات و نشریات زاہدہ پروین سمیت سینئر افسروں کو تعیناتی کی مدت مکمل ہوئے بغیرتبدیل کیے جانے پر تشویش اور اضطراب کا اظہار کیاہے۔یہ اجلاس خواجہ اعجاز سرور کی زیر صدارت گزشتہ روز اسلام آ بادکلب میں ہوا جس میں سابق سیکرٹریز سید انور محمود ، شفقت جلیل ، محمد اعظم ، عمران گردیزی ،اشفاق گوند ل کے علاوہ رائو تحسین علی خان ،جاوید اختر نے شرکت کی۔ اجلاس نے کہا کہ پانچ برسوں میں نو سیکرٹری اطلا عات تبدیل کئے جاچکے ہیں۔ پچھلے ڈیڑھ سال میں تین سیکرٹری تبدیل کئے گئے۔ شرکاء نے رائے دی کہ ملک اور حکومت کے امیج کو اجاگر کرنے کیلئے ضروری ہے کہ متحرک اورجذبے سے سرشار میڈیا پروفیشنلز کی ٹیم ہو اور جنہیں حکومت کا اعتماد حاصل ہو۔انہیں سازگار ماحول دیا جا ئے جس میں مدت تعیناتی کی ضمانت ہو ۔فورم نے توقع ظاہر کی ہے کہ سابقہ حکومتوں کے برعکس پی ٹی آئی کی

حکومت ایڈہاک ازم کا خاتمہ کرےگی اور اداروں کو ملک کے بہترین مفاد میں استعمال کرے گی۔ اجلاس نے افسوس کا اظہار کیا کہ پانچ سال میں آٹھ پی آئی او تبدیل کئے گئے۔ ریڈیو پاکستان کے آٹھ ڈی جی لگائے گئےاور سرکاری ٹی وی کے آٹھ ایم ڈی تعینات کئے گئے۔ فورم نے توقع ظاہر کی کہ وزیر اعظم عمران خان کچھ وقت نکال کر ذاتی طور پر اس معاملے کا جائزہ لیں گےاور فوری اصلاحی اقدامات کریں گے تاکہ حکومت کی مستقل میڈیاہینڈلنگ اسٹیبلشمنٹ مطلوبہ نتائج دے سکے۔ فورم نے میڈیا مینجمنٹ کو بہتربنا نے ، اداروں کی مضبوطی اور بیرون ملک پاکستان کے امیج کو بہتر انداز سے اجاگر کرنے کیلئے تعاون کی پیش کش کی۔ دریں اثناء ایک سرکاری افسر نے اپنا نام ظاہر نا کرنے کی شرط پر بتایا ہے کہ یہ حکومت کا اختیار ہے۔وہ سرکاری افسران کی کارکردگی کا جائزہ لیتی ہے، جس کے بعد ہی فیصلہ کرتی ہے۔جس کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ متعلقہ وزارت میں اچھے اور بہتر فیصلے ہوں۔

اہم خبریں سے مزید