آپ آف لائن ہیں
پیر10؍صفر المظفّر 1442ھ 28؍ستمبر 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

تدفین سے قبل دعائے مغفرت اور میّت کو سردخانے میں رکھنا

آپ کے مسائل اور اُن کا حل

سوال: ایک شخص کا جب انتقال ہوجاتا ہے تو لوگ اس کی میّت کو دفنانے سے قبل دعائے مغفرت نہیں کرتے،ان لوگوں کا خیال ہے کہ دفنانے سے قبل دعا کرنا جائز نہیں؟ دوسرے یہ کہ میّت کو اس کے کسی وارث یا قریبی رشتے دارکے آنے تک دفنایا نہیں جاتا، بلکہ بعض اوقات میت کو کئی دن کے لیے مُردہ خانہ یا سرد خانے میں رکھ دیا جاتا ہے، کیا یہ عمل ازروئے شریعت مناسب ہے؟ (قاضی جمشید عالم صدیقی، لاہور)

جواب:۔ میّت کو دفنانے سے پہلے بھی اس کے لیے دعائے مغفرت کرنا جائز ہے۔میت کی تدفین میں تاخیر کرنا مکروہ ہے اور رشتے داروں کے انتظار میں نعش کو کئی دن تک مردہ خانے میں رکھنا تو بہت ہی برا ہے۔(شامی (2/193، 232)

اپنے دینی اور شرعی مسائل کے حل کے لیے ای میل کریں۔

masail@janggroup.com.pk

اقراء سے مزید