آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعرات2؍رجب المرجب 1441ھ 27؍فروری 2020ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

زندگی میں ایسے بہت سے واقعات پیش آتے ہیں، جنہیں بھلانا آسان نہیں ہوتا۔ وہ جب بھی ذہن کی اسکرین پر نمودار ہوتے ہیں، دل و دماغ میں ایک ہلچل سی مچ جاتی ہے۔ ایسا ہی ایک واقعہ میرے شوہر کے ساتھ پیش آیا، جو انہوں نے بعد میں مِن و عن مجھے سنایا۔

ہوا کچھ یوں کہ ایک دن میرے شوہر کسی میٹنگ میں جانے کے لیے گھر سے نکلے، وہ گاڑی خود ڈرائیو کررہے تھے کہ یکایک گھر کے آخری موڑ پر انہوں نے بچّوں کو اسکول لے جانے والی ایک وین دیکھی، جس میں ایک شخص ایک بچّی پر قدرےجھکا ہوا تھا، بچّی کی عمر 10 سے 12 سال تھی۔ انہیں کچھ شک ہوا ،تو انہوں نے فوراً گاڑی اس وین کی طرف لے جاکر روک لی۔ گاڑی رکتی دیکھ کر وین ڈرائیور سیدھا ہوکر بیٹھ گیا۔ وین میں موجود بچّی،جو کسی اسکول کی طالبہ تھی، بہت سہمی ہوئی تھی۔ اُس کی آنکھوں سے مسلسل آنسو بہہ رہے تھے۔ میرے شوہر کو شک ہوا، انہوں نے گرج دار آواز میں ڈرائیور سے پوچھا ’’یہ کیا ہو رہا ہے؟ باہر نکلو۔‘‘ ڈرائیور گھبرا کر وین سے باہر نکل آیا اور ہکلاتے ہوئے بولا ’’کچھ نہیں صاحب!.....‘‘ اس دوران میرے شوہر نے اس بچّی سے پوچھا ’’بیٹا!آپ بتاؤ کیا بات ہے، اتنی خوف زدہ کیوں ہو اور رو کیوں رہی ہو؟‘‘بچّی سخت گھبرائی ہوئی تھی۔ 

ڈرتے ڈرتے بولی، ’’انکل! اسکول کی چُھٹی ہوئے ڈیڑھ گھنٹہ ہوگیا ہے، یہ ڈرائیور انکل مسلسل اِدھر سے اُدھر گلیوں میں گاڑی دوڑا رہے ہیں، میرے گھر سے ان کے موبائل پر فون آیا، تو انہوں نے کہہ دیا کہ وین خراب ہوگئی ہے۔‘‘ یہ سُن کر میرے شوہر فوراً مُڑے اور ڈرائیور کے منہ پر ایک زور دار تھپّڑ مارا۔ تھپّڑ کھا کر وہ حواس باختہ ہوگیا اور کہنے لگا ’’کیا ہوگیا صاحب.....‘‘ میرے شوہر نے کہا ’’مَیں ابھی بتاتا ہوں کہ کیا ہوا۔‘‘ اتنی دیر میں آس پاس بہت سے لوگ جمع ہوگئے، اتفاق سے تھوڑے ہی فاصلے پر پولیس کی موبائل کھڑی تھی۔ میرے شوہر نے فوراً اشارہ کرکے پولیس کو بلالیا۔ پولیس نے معاملے کی نزاکت محسوس کرتے ہوئے ڈرائیور کو فوری طورپر حراست میں لے لیا۔ 

پھر انہوں نے بچّی سے اُس کے گھر کا نمبر لے کر بچّی کی والدہ سے بات کی اور پوچھا کہ ’’آپ کو پتا ہے کہ اس وقت آپ کی بچّی کہاں ہے؟‘‘ یہ سُن کر اس کی ماں گھبراگئی، زاروقطار رونے لگی اور بولی ’’مَیں نے اسکول فون کیا، تو پتا چلا کہ ساری اسکول وینز جاچکی ہیں۔ جب میں نے ڈرائیور کو فون کیا، تو اس نے بتایا کہ گاڑی خراب ہوگئی ہے۔ مگر اُس کے بعد سے میں اسے مسلسل فون کررہی ہوں، لیکن اس کا نمبر بند جارہا ہے، جب کہ میرے شوہر آفس میں ہیں، میں انہیں آگاہ کرچکی ہوں، وہ بچّی کو دیکھنے اسکول کی طرف ہی جارہے ہیں۔‘‘ بچّی کی والدہ کی باتیں سُن کر میرے شوہر نے انہیں تسلّی دی ’’آپ فکر نہ کریں، بچّی محفوظ ہے اور کچھ دیر میں آپ کے پاس پہنچنے والی ہے۔‘‘

اسی دوران میرے شوہر کی نظر محلّے کی ایک ٹیچر پر پڑی، وہ دراصل اپنے شوہر کے ساتھ پیدل ہی گھر جارہی تھیں اور مجمع دیکھ کر رک گئی تھیں۔ میرے شوہر نے اُن دونوں میاں بیوی سے کہا کہ ’’آپ میرے ساتھ گاڑی میں بیٹھ جائیے، قریب ہی بچّی کا گھر ہے، ہم اسے وہاں تک پہنچاکر آتے ہیں۔‘‘ یہ لوگ بچّی کو لے کر اُس کے گھر پہنچے، تو وہاں بھی سارا محلہ جمع تھا اور بچّی کی ماں کا رو رو کر برا حال تھا، بچّی کا بھائی جو اُسی وقت کالج سے لوٹا تھا، وہ بھی بہت پریشان تھا۔ مختصر یہ کہ انہوں نے بچّی کو ماں کے حوالے کیا اور انہیں تسلّی دی۔ اس موقعے پر بچّی کی ماں کی آنکھیں احساسِ ممنونیت سے لبریز تھیں۔

اس واقعے کے بعد کئی روز تک بچّی کے گھر والوں کے فون آتے رہے کہ آپ اُس دن نہ ہوتے، تو نہ جانے کیا ہوجاتا؟ اللہ تعالیٰ سب کی عزت و عِصمت کی حفاظت کرنے والا ہے۔ اور وہ یہ سب کچھ دیکھ بھی رہاہے، لیکن سخت افسوس کا مقام یہ ہے کہ ہمارا معاشرہ کس طرف گام زن ہے کہ جہاں ہر طرف ہماری بچیوں پر بری نظر رکھنے والے بھیڑیے، آزادانہ گھوم پھررہے ہیں اور آئے روز معصوم بچّے ان کی حیوانیت اور درندگی کی بھینٹ چڑھ رہے ہیں۔ کوئی تو ہو، جو ان بھیڑیوں کو کیفر کردار تک پہنچائے۔ 

ان کے گناہ اور برائی کی طرف بڑھتے قدموں کو روکے۔ میری تمام والدین سے گزارش ہے کہ وہ اس حوالے سے چوکنّے رہیں، بچوں کو اسکول لانے، لے جانے والی وینز اور اُن کے ڈرائیورز پر پوری نظر رکھیں، بچّوں کو ان کے رحم و کرم پر چھوڑ کر بے فکر اور مطمئن ہوکے ہرگز نہ بیٹھ جائیں کہ اولاد کی طرف سے معمولی غفلت بعض اوقات عُمر بھر کے پچھتاوے کا سبب بھی بن جاتی ہے۔ (شگفتہ فرحت، کراچی)

ناقابلِ اشاعت نگارشات اور ان کےقلم کار برائے صفحات جہانِ دیگر، پیارا وطن، ناقابلِ فراموش، متفرق

٭سمندری، تاریخ کے آئینے میں (اکرام الحق چوہدری، سمندری) ٭مرتا کیا نہ کرتا (شکستہ مزاری، کشمور) ٭پاکستانی شمالی علاقہ جات (خواجہ تجمّل حسین، کراچی) ٭ گجرات کا تاریخی پس منظر+ پنّوں کا دیس، کیچ مکران+ جھنگ تا رنگ پور کھیڑا+ترکی تا سوہاوہ +ٹلّہ جوگیاں(حکیم افتخار احمد، لاہور) ٭لاہور سے پشاور براستہ جی ٹی روڈ (مدثر اعجاز) ٭عالی جی!(ناز جعفری، اورنگی ٹائون، کراچی) ٭قاتل کیڑے (ڈاکٹر عبدالحمید خان، کوئٹہ) ٭جو رُکے تو کوہِ گراں تھے ہم (اجمل بھٹی)سفرِ حرمین شریفین (احمد علی، سیال کوٹ)سیّاحوں کی جنّت پاکستان (پرویز قمر، اورنگی ٹائون، کراچی) ٭اپنا قبلہ درست کریں (علیشبہ احمد) ٭کرامات کا سودا (افسانہ مہر) ٭قائدِ عوام، ذوالفقار علی بھٹو +طلبہ کے عالمی دن پر (اختر سردار چوہدری، کسووال) ٭نوشہرہ سے دُرگئی تک ریلوے ٹریک +سیر و سیّاحت بذریعہ ریل+بھارتی سکھوں سے اچھے تعلقات+دعا اور دوا (فرخ ریاض بٹ) ٭جب میں نہ تھا (ضیاء الدین بٹ، مانسہرہ روڈ، ایبٹ آباد) ٭سُوئے حرم وہ عقیدتوں اور چاہتوں کا سفر(ڈاکٹر غزالہ علیم، انسٹی ٹیوٹ آف بزنس مینجمنٹ، کراچی) ٭میری محترم عظیم والدہ (شاہ زیب یونس شیخ، لطیف آباد، حیدر آباد) ٭ایک تیری خاطر (شبو شاد شکارپوری، ملیر، کراچی) ٭کینجھر جھیل (ثمر عنایت) ٭ آج کل کی صحافت اور پریس کا کردار (مہر منظور جونیئر، ساہی وال، سرگودھا) ٭ اگر یہ پیماں ٹھہرا رنگ و بو کا (تہمینہ مختار) ٭ میرا پاکستان، اللہ تعالیٰ کا انعام (شمیم انور، نارتھ کراچی، کراچی) ٭علّامہ اقبال اور آج کا پاکستان (صبا احمد، کراچی) ٭اوزون (حسن احمد، اسلام آباد) ٭ڈیجیٹل ٹھگ (صدف ایوب) ٭محبت کا عالمی دن (صبا تحسین)٭بلتستان، سیّاحوں کی جنّت (شاکر حسین شمیم)٭پاکستان، کرپشن اور احتساب (بختیار آغا، پشاور) ٭ترکی کے شہر ’’شانلی اورفہ‘‘ میں بیتے دن (انور غازی) ٭دشت و دریا کا سنگم (عبداللہ نظامی، کوٹ سلطان) ٭گرم پانی کے چشمے (محمد آصف ملک) ٭ میڈیا، بچے اور ہم (سہیل رضا تبسّم)۔

سُنیے…آپ سے کچھ کہنا ہے…!!

اگر آپ کے ذہن میں کوئی ایسا واقعہ محفوظ ہے، جو کسی کردار کی انفرادیت، پُراسراریت یا واقعاتی انوکھے پن کی بِنا پر قارئین کے لیے دل چسپی کا باعث معلوم ہو، تو فوراً قلم اٹھائیے اور اس صفحے کا حصّہ بن جائیے۔ یہ واقعات قارئین کے شعور و آگہی میں اضافے کے ساتھ اُن کے لیے زندگی کا سفر آسان کرنے میں بھی ممدومعاون ثابت ہوسکتے ہیں۔ واقعات بھیجنے کے لیے تحریر کا پختہ ہونا ضروری نہیں، صرف سچّا ہونا لازم ہے۔ نیز، اپنا نام و پتا بھی لکھیے تاکہ رابطے کی ضرورت محسوس ہو، تو رابطہ کیا جاسکے۔ ہمیں اپنی تحریریں اس پتے پر بھیجیں۔

ایڈیٹر، ’’سنڈے میگزین‘‘ صفحہ ناقابلِ فراموش، روزنامہ جنگ، شعبہ میگزین، اخبار منزل، آئی آئی چندریگر روڈ، کراچی۔

سنڈے میگزین سے مزید