آپ آف لائن ہیں
اتوار9؍صفر المظفّر 1442ھ 27؍ستمبر 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

گلابی جاڑے کو بھی مہنگائی کھا گئی

اللّٰہ تعالیٰ نے پاکستان کو چاروں حَسین موسموں سے نوازا ہے۔ گرمی، سردی، بہار اور خزاں۔ پھر برسات کے اپنے ہی رنگ اور مزے ہیں، لیکن جب کبھی گرمی، سردی کی شدّت بڑھ جائے، تو عوام کو بہت سے مسائل کا سامنا بھی کرنا پڑ تا ہے۔ چِلچلاتی دھوپ، جُون میں چوٹی سے ایڑی تک بہتا پسینہ، برسات کے بعد حبس، شدید سردی میں جسم میں اُتر جانے والی برفیلی اور سرد ہوائیں، موسم کے یہ سب انداز رہن سہن اور معاشرت پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ 

تاہم، انسان نے ان سے نبرد آزما ہونے کے نت نئے طریقے بھی تلاش کر لیے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جب اکتوبر کے آخر اور نومبر 2019ء کے اوائل میں موسم نے تیور بدلے، تو عوام نے حسبِ معمول موسمِ سرما سے نپٹنے کی تیاریاں شروع کر دیں، لیکن ہر گزرتے دن کے ساتھ موسم کا مزاج تیز اور تُند ہونے لگا ۔ پھر دسمبر اور نئے سال کے آغاز میں تو سردی نے عوام کے کڑاکے ہی نکال دیے۔ نومبر کے اوائل میں نہ صرف پنجاب، بلکہ پورے مُلک کی فضا میں چھائی اسموگ نے جلتی پر تیل کا کام کیا۔ 

دبیز دُھند، گرد و غبار، تیزابی دھواں، موسمِ سرما کا ایک ناگوار پہلو بن کر موسم کا حَسین رُخ ہڑپ کر گیا اور وہ دَور ماضی کا ایک قصّہ بن گیا، جب لوگ شدید سردی بھی انجوائے کیا کرتے تھے۔ سورج کی شعائیں اُنہیں کسی آلودگی کے بغیر حرارت فراہم کیا کرتی تھیں۔ماہرینِ موسمیات سے پوچھیں، تو وہ کہتے ہیں کہ’’ سردی تو اِس بار زیادہ نہیں پڑی۔ عوام ماضی میں اِس سے بھی زیادہ سرد ،برفیلی ہوائوں کا سامنا کرتے رہے ہیں‘‘، لیکن ادھیڑ عُمر افراد کا اصرار ہے کہ اُنہوں نے زندگی میں اِس سے زیادہ سرد دن نہیں دیکھے۔ 

اُن کا کہنا بے جا بھی نہیں، کیوں کہ حقائق بہرحال یہی ہیں کہ سردی کی حالیہ لہر کئی ریکارڈ توڑ چُکی ہے۔ مثلاً پشاور میں درجۂ حرارت نقطۂ انجماد سے گر کر منفی ایک سینٹی گریڈ تک پہنچ گیا اور ایسا 36سال بعد دیکھنے میں آیا۔ دوسری طرف، کراچی میں درجۂ حرارت 9.2سینٹی گریڈ، جب کہ اسکردو میں نقطۂ انجماد سے 21درجے کم ہو گیا۔ گلگت اور بلتستان میں بھی درجۂ حرارت منفی 20، جب کہ’’ کے ٹو‘‘ کی چوٹیوں پر منفی 51درجے سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا، جہاں سے آنے والی برفیلی ہوائوں نے پورے پاکستان میں سردی کا 2013ء کا ریکارڈ توڑ دیا۔ 

پنجاب کے بیش تر علاقوں میں سورج ڈیڑھ، دو ماہ تک پوری طرح نہیں نکلا اور جہاں تک دُھند اور اسموگ کا تعلق ہے، اس نے تو پورے دو ماہ تک آسمان کی وسعتیں اپنی لپیٹ میں لیے رکھیں۔ اسی دوران، لاہور کو ماحولیاتی آلودگی کے اعتبار سے دنیا کے بدترین شہروں میں بھی شمار کیا گیا۔نیز، کے پی کے اور پنجاب کے اسکولز میں بچّوں کی موسمِ سرما کی سالانہ چُھٹیوں میں توسیع کرنا پڑی۔ محکمۂ موسمیات کی جانب سے کئی بار عوام کو اپنے گھروں میں رہنے کا مشورہ دیا گیا، ہر طرف لوگ ماسک پہنے نظر آئے۔ اس تناظر میں عوام کے لیے حالیہ سردی کسی کڑی آزمائش سے کم نہیں۔ 

اس نے نہ صرف لوگوں کے طبّی اخراجات میں اضافہ کیا، بلکہ سردیوں کے گرم ملبوسات کی خریداری بھی جیب پر گراں گزری اور کون جانے اس موسم میں کتنے لاکھ افراد برف آلود راتوں میں رضائیوں، کمبلوں اور دیگر گرم ملبوسات سے محروم ٹِھٹھرتے ہی رہے؟ اس حوالے سے کراچی سے ایک خبر ایسی بھی آئی، جس نے’’ ریاستِ مدینہ‘‘ کی باتیں کرنے والوں کی کارکردگی پر سنگین سوالات اُٹھائے۔ 

گدھا گاڑی چلانے والے مزدور، 5بچّوں کے باپ، 35سالہ میر حسن نے بچّوں کی گرم کپڑوں کی خواہش پوری نہ کرنے پر خود کو آگ لگا لی۔شعلوں سے جھلستے جسم نے لمحہ بھر کے لیے ماحول تو گرمایا، مگر پھر سب لمبی تان کر سو گئے۔ حالیہ موسمِ سرما کی سختیوں نے عوام کو جس دُہرے عذاب میں مبتلا کیا، وہ منہگائی کا طوفان ہے، جس نے اسموگ کی طرح عام لوگوں کی زندگیوں کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔

ہوش رُبا منہگائی نے نہ صرف سردیوں کا مزا کِرکِرا کیا، بلکہ اُسے ایک عذاب کی سی صُورت دے دی۔ پی ٹی آئی کی حکومت عوام کو سہولتیں فراہم کرنے کے دعوئوں کے ساتھ برسرِ اقتدار آئی، لیکن ناقص منصوبہ بندی، بیڈ گورنینس، وعدوں سے انحراف، مسلسل یُو ٹرنز، عوام کے مسائل سے عدم دِل چسپی اور دیگر عوامل نے موسمِ سرما کی رنگینیاں بھی عوام سے چھین لیں۔ 

بلاشبہ موسم کی سختیاں اور غضب ناکیاں، دوسرے مُمالک کو بھی در پیش ہیں۔ لوگ قطبِ شمالی میں بھی رہتے ہیں، لیکن بہترین منصوبہ بندی کے سبب عوام کی مشکلات میں زیادہ اضافہ نہیں ہوتا، جب کہ پاکستان میں صُورتِ حال یہ ہے کہ حکومت عوام کو غضب ناک موسم کے رحم و کرم پر چھوڑ کر ایک طرف ہی نہیں ہو گئی، بلکہ اُلٹا ایسے اقدامات کیے، جس سے ’’مَرے کو مارے شاہ مدار‘‘ کے مِصداق موسم اُن کے لیے دُہرا عذاب بن گیا۔

منہگائی:ڈیڑھ سال قبل پی ٹی آئی حکومت کے برسرِ اقتدار آتے ہی منہگائی کا جو طوفان اُٹھا، وہ وقت کے ساتھ بڑھتا ہی چلا جا رہا ہے۔ ماہرینِ معاشیات سے بات کریں، کسی شہری سے پوچھیں، کسی دیہاتی کے دِل کی آواز سُنیں، سب پاکستان کی تاریخ میں منہگائی کے اعتبار سے 2019ء کو بدترین سال قرار دیتے ہیں۔ آٹا، دالیں، خوردنی تیل، چاول، بجلی، گیس، ڈبل روٹی، آلو، ٹماٹر، پیاز غرض جسم اور رُوح کا رشتہ برقرار رکھنے والی وہ کون سی شئے ہے، جسے منہگائی کے پَر نہ لگے ہوں۔ 

صرف آٹے ہی کی بات کریں، تو حال ہی میں پنجاب کے چکّی مالکان نے ہنگامی اجلاس میں آٹے کی قیمت میں 4روپے فی کلو گرام کا اضافہ کر دیا۔ نان بائیوں نے روٹی کی قیمت میں اضافہ کر دیا۔ پی ٹی آئی حکومت بجلی کی قیمتیں کئی بار بڑھا چُکی ہے، پھر دیگر درجنوں ناقابلِ فہم ٹیکسز کے ساتھ صارفین کو جو بِل موصول ہوئے، اس سے تو اُن کے ہوش اُڑ گئے۔ 

پیٹرول کی قیمتوں میں بھی حکومت نے کئی مرتبہ اضافہ کیا، جس سے دیگر اشیاء کی قیمتوں اور کرایوں میں بھی اضافہ ہوا۔ جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ منہگائی کا سردی سے کیا لینا دینا، تو اس کا جواب ایک نیم سرکاری محکمے میں 20 ہزار روپے تن خواہ پانے والے ایک سفید پوش ملازم، محمّد افضل نے یوں دیا’’گرمی ہو یا سردی، ہر موسم کے اپنے مسائل ہیں ۔ گرمی آئے تو چیخ و پکار ہوتی ہے کہ’’ ہائے مر گئے، بجلی کا بِل زیادہ آ گیا‘‘، سردی آئے تو گیس (اگر آئے تو) کے علاوہ گرم ملبوسات اور سردی سے بچائو کے دیگر لوازمات پر کثیر رقم صَرف ہو جاتی ہے۔

اس صُورتِ حال کے براہِ راست ذمّے دار ہمارے حکم ران ہی ہیں۔ مثلاً قدرتی گیس موجود ہے، لیکن ناقص منصوبہ بندی سے اس مرتبہ سردیوں میں مُلک بھر میں گیس کے بحران نے چولھے ایسے ٹھنڈے کیے کہ بچّوں کو اسکول اور مَردوں کو بغیر ناشتے کام کاج پر جانا پڑا، جب کہ گیس کے بغیر گھر برف خانوں میں تبدیل ہو گئے۔منہگائی کی وجہ سے گھر کا خرچہ کئی گُنا بڑھ چُکا ہے، مگر تن خواہ وہی ہے، جو پہلے تھی۔ 

اب پہلے پیٹ میں روٹی ڈالیں یا سردی سے نپٹنے کا اہتمام کریں۔ اس سردی میں تو چائے یا کافی کا گرما گرم کپ پینے سے پہلے بھی کئی بار سوچنا پڑتا ہے۔ یخنی، سُوپ کے مزے تو بھول ہی چُکے۔‘‘ محمّد افضل نے بتایا’’ ان سردیوں میں بچّوں کے لیے دستانے، سویٹرز اور اپنے لیے مفلر بھی نہیں خرید سکا۔جب کہ بیگم کی گرم شال تو ایک خواب بن کر رہ گئی ۔ سردیاں ہر سال آتی ہیں، ہم اس کا مقابلہ بھی کرتے چلے آ رہے ہیں، لیکن سچ پوچھیں، تو اِس بار ہمّت ہی جواب دے گئی۔‘‘

لنڈا بازار: حالیہ سردیوں میں لاہور کے لنڈے بازاروں نے بھی متوسّط اور غریب طبقے کے افراد کا تن ڈھانپنے سے’’معذرت‘‘ کر لی۔ لنڈا بازار کے تاجروں نے سیکنڈ ہینڈ کپڑوں کے منہگے ہونے کا سبب حکومتی ٹیکسز کو قرار دیا، جو اُن پر بلاجواز عاید کیے گئے۔ اس سلسلے میں’’ پاکستان سیکنڈ ہینڈ کلودنگ مرچنٹس ایسوسی ایشن‘‘ نے ایک بیان میں کہا کہ’’ حکومت نے استعمال شدہ کپڑوں کی درآمدات پر ریگولیٹری ڈیوٹی عاید کردی ہے، جب کہ تاجر پہلے ہی 6فی صد وِد ہولڈنگ ٹیکس،5 فی صد سیلز ٹیکس اور 5 فی صد امپورٹ ڈیوٹی ادا کر رہے ہیں۔‘‘ 

تاجروں کا کہنا ہے کہ’’ حکومت، استعمال شدہ کپڑوں کو بھی، جو غریبوں کا تن ڈھانپتے ہیں، ایک لگژری آئٹم سمجھ کر ٹیکس لگا رہی ہے۔ ماضی کی حکومتوں نے ہمیشہ ان کپڑوں کی درآمدات پر سہولتیں دیں، جب کہ پی ٹی آئی حکومت نے غریبوں کے سیکنڈ ہینڈ لبادوں کو بھی نہیں بخشا۔‘‘ ان حکومتی اقدامات کا نتیجہ یہ نکلا کہ حالیہ سردیوں میں غریب اور متوسّط درجے کے سفید پوش افراد، لنڈے کی’’نعمت‘‘ سے بھی محروم رہے۔

خشک میوہ جات: اخروٹ، بادام، پستہ، کاجو، چلغوزے، انجیر وغیرہ یوں تو ہمیشہ ایک عام آدمی کی دسترس سے باہر رہے ہیں، لیکن حالیہ سردیوں میں تو ان کی قیمتیں آسمان سے باتیں کرنے لگیں۔ عام آدمی تو پہلے بھی ان کی محض قیمتیں پوچھنے پر اکتفا کرتا تھا، اس بار تو یہ ہمّت بھی نہیں ہوئی۔

ایک شہری غلام حسین کہتے ہیں’’خشک میوہ جات ہمیشہ صاحبِ ثروت لوگوں کے گھروں کی زینت بنتا ہے۔ جو لوگ ان کی خریداری نہیں کر سکتے، وہ مونگ پھلی، ریوڑیاں، گُڑ والی پاپڑی وغیرہ سے کام چلاتے تھے۔ لیکن ستم ظریفی یہ ہے کہ اس موسمِ سرما میں ان چیزوں کی خریداری بھی عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہو گئی۔ 

عام آدمی ان سردیوں میں پریشان ہے کہ گھر آئے مہمان کو خشک میوہ جات میں کیا پیش کرے؟ آٹھ ہزار روپے کلو ملنے والا چلغوزہ تو اب صرف تصویروں ہی میں دیکھا جا سکتا ہے۔‘‘ ڈرائی فروٹس بیچنے والے دُکان دار اعتراف کرتے ہیں کہ شمالی علاقوں اور افغانستان سے خشک میوہ جات کی درآمدات میں کمی سے قیمتیں کئی گُنا بڑھ چُکی ہیں، لیکن ہول سیل ڈیلرز کی مَن مانیوں نے مونگ پھلی جیسا عام خشک میوہ بھی عوام کی پہنچ سے باہر کردیا۔

گیس اور ایندھن کا بحران: شہری علاقوں میں سوئی گیس ، میدانی علاقوں میں آگ کے الاؤ اور کوئلے کی انگیٹھیاں کپکپاتے اور ٹِھٹھرتے جسموں کو ایک تمازت انگیز حرارت فراہم کرتے ہیں،لیکن اس بار مُلک کے بیش تر شہر گیس پریشر میں کمی یا قلّت کے بحران سے دوچار رہے، جس سے کمروں کو گرم رکھنا تو ایک طرف، کھانا پکانا بھی مشکل ہوگیا۔ لکڑی اور کوئلہ بھی اتنا منہگا ہے کہ عام شخص اس عیّاشی کا متحمّل نہیں ہوسکتا۔ لاہور میں اندرونِ شہر کے ایک مکین کے بقول’’یہ سردیاں صرف گیس کے ہیٹر کو دیکھتے ہی گزر گئیں۔

گیزر کے گرم پانی سے نہانا بھی ایک خواب ہی رہا۔ دو چار سال پہلے صُورتِ حال اتنی بدتر نہیں تھی، جتنی اس بار موسمِ سرما میں دیکھنے میں آئی۔‘‘ گیس کی قلّت، لکڑی اور کوئلے کی قیمتوں میں اضافے کے باعث چھوٹے شہروں کے سیکڑوں گرم حمام بند ہو گئے، جہاں صبح سویرے مناسب پیسوں میں غسل ایک روایت بن گئی تھی۔ مدھم پڑتی ہوئی ایک اور روایت سردیوں سے قبل پرانی رضائیوں میں نئے سِرے سے روئی بَھروانا تھا، لیکن کپاس کی قیمتیں اور بَھرائی کی مزدوری گزشتہ سال کی نسبت اتنی بڑھ چُکی ہے کہ اکثر گھرانے پرانی رضائیوں ہی پر اکتفا کرتے نظر آئے۔

موسموں کے بدلتے رنگ ڈھنگ: اندرونِ لاہوری گیٹ میں مقیم محمّد انور زندگی کی 82بہاریں دیکھ چُکے ہیں۔ اپنی زندگی میں کئی شدید ترین سردیاں دیکھنے والے محمّد انور کے لیے بھی حالیہ شدید سردیاں کچھ انوکھی تھیں۔ اُنہیں کئی دہائیاں قبل کی کڑاکے کی سردی اور گلابی جاڑا یاد ہے، جب صبح سویرے پانی نلکوں میں جَم جاتا اور کام پر جاتے ہوئے پودوں اور پتّوں پر شبنمی قطرے اور رات کو پڑنے والا کُہرا جسم میں اُتر جاتا ۔ محمّد انور کا کہنا ہے ’’ وہ اُس موسم کو سردیاں سمجھ کر انجوائے کرتے تھے۔ اب سردیوں میں بھی ’’ملاوٹ‘‘ شروع ہو گئی ہے۔ 

آسمان پر گردو غبار کے بادل عجیب سا دھواں، گلے اور سینے کو جکڑنے والی دُھند، آنکھوں میں جلن پیدا کرنے والی ہوائیں، یہ سب ہمارے وقتوں کے گلابی جاڑے کا حصّہ نہیں تھیں۔ اُس وقت کوئلے کی انگیٹھیاں اور لکڑی کے الائو، آپس میں گپ شپ لگانے والوں کو جو حرارت دیتے، وہ آج کے گیس کے چولھوں اور بجلی کے ہیڑز میں نہیں ملتی۔ اُس زمانے میں خشک میوے بھی ہر ایک کی دسترس میں تھے اور جیبوں سے چلغوزے، پستے، بادام نکل ہی آتے تھے۔ بجلی اور گیس اتنی منہگی ہے کہ لوگ ہیٹر اور گیزر لگاتے ہوئے بھی ڈرتے ہیں۔ ایسی سہولتوں کا کیا فائدہ کہ جنہیں استعمال کرتے ہوئے بھی بِل کا خوف ستانے لگے۔‘‘ محمّد انور کو گئی سردیوں کی اُجلی دھوپ یاد ہے۔ اب تو سورج دیکھے ہوئے بھی کئی ماہ گزر جاتے ہیں۔ 

اگر دھوپ نکلے بھی تو فیکٹریز کا دھواں، گاڑیوں کا گرد و غبار اور ماحولیاتی آلودگی اس کے حُسن کو گہنا دیتی ہیں۔ محمّد انور کے مطابق، حالیہ سردیوں میں اُنہوں نے لوگوں میں جتنی بیماریاں دیکھیں، اِس سے قبل کبھی اُن سے پالا نہیں پڑا۔ موسم کی یہ سِتم ظریفیاں ماضی میں نہیں تھیں۔ اس ضمن میں ماحولیاتی سائنس کے ماہر ڈاکٹر عبدالقیوم کا کہنا ہے کہ’’ ازل سے انسان موسم کی سختیاں جھیلتا چلا آ رہا ہے۔ 

غاروں میں رہنے والے انسان سے لے کر آسمان کی بلندیوں کو چُھونے والی عمارتوں کے مکینوں تک، انسان نے موسم کی سختیوں سے نپٹنے کے نت نئے طریقے ایجاد کیے ہیں۔ دنیا میں ایسے مقام بھی ہیں، جہاں درجۂ حرارت منفی 50ہوتا ہے، لیکن لوگ وہاں بھی ہنسی خوشی رہتے ہیں۔ اصل میں موسموں کی صعوبتوں کا المیہ ہمارے جیسے ترقّی پذیر مُمالک کا ہے، جہاں کے حکم ران عوام سے مخلص نہیں۔ اپنے گرد و پیش کو دیکھیں، ہمارے سابق اور موجودہ حکم رانوں کو موسمِ سرما کی شدّت سے بچنے کے لیے کیا کیا سہولتیں حاصل نہیں۔ 8ہزار روپے کلو والے چلغوزے اُن کے لیے کوئی معنی نہیں رکھتے۔ 

نہ ہی گیس اور بجلی کے بِل اُنہیں کچھ کہتے ہیں، جب کہ دوسری طرف، اس موسمِ سرما میں عوام کی اکثریت گیس سے محروم رہی یا پریشر اتنا کم تھا کہ چائے پکنے میں بھی گھنٹے لگ جاتے ۔ جہاں گیس یا بجلی تھی، وہاں عوام نے بِلز کے ڈر سے اُنہیں استعمال ہی نہیں کیا۔ دودھ، چائے کی پتّی، ڈبل روٹی، انڈوں جیسی عام استعمال کی اشیاء کی قیمتوں میں ہوش رُبا اضافے نے عوام سے وہ چھوٹی چھوٹی خوشیاں بھی چھین لیں، جو سردیوں میں موسم کا لُطف دوبالا کرنے کے کام آتی تھیں۔ 

سردیوں کی یہ صعوبتیں صرف 80فی صد عوام کے لیے ہیں، ورنہ ایسے لوگوں کی بھی کمی نہیں، جو بھیگی جنوری کی شام کا لُطف لینے کے لیے کافی کے ایک کپ پر ڈھائی تین سو روپے خرچ کر دیتے ہیں۔‘‘ عبدالقیوم نے مزید کہا’’ مَیں سمجھتا ہوں، اگر حکومت مخلص ہوتی، تو قدرتی گیس کی مناسب تقسیم یا اس کی درآمد میں ایسی منصوبہ بندی کی جا سکتی تھی کہ بلا تعطّل ہر غریب شہری اس نعمت سے فیض یاب ہو تا، لیکن ہمارے یہاں حکم رانوں اور حزبِ اختلاف کی جماعتوں کو اقتدار کی رسّہ کشی اور اکثر وزراء کو غیر نصابی سرگرمیوں ہی سے فرصت نہیں کہ وہ عوام کی بنیادی سہولتوں پر توجّہ دیں۔‘‘ 

عوام کا کیا ہے، وہ تو صعوبتوں میں بھی سوشل میڈیا پر مزاح کا کوئی نہ کوئی پہلو ڈھونڈ لیتے ہیں، اس لیے واش روم میں نہانے کے لیےجانے سے پہلے 1122کو فون کرنا یا گھر والوں سے اپنے گناہوں کی معافی مانگنا، ایک مزاح ہی سہی، لیکن حقیقت یہی ہے کہ اس موسمِ سرما میں عوام کی اکثریت نے نہانے اور منہ ہاتھ دھونے میں بھی حد درجہ کنجوسی کا مظاہرہ کیا۔

صرف پاکستان ہی نہیں

سردی کی حالیہ لہر صرف پاکستان تک محدود نہیں رہی، بلکہ پورے برّصغیر، جنوب مشرقی ایشیا اور دیگر مُمالک بھی اس کی لپیٹ میں رہے۔ دہلی میں 31دسمبر 2019ء صدی کا سرد ترین دن تھا، جب درجہ حرارت 9.8سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا۔

دہلی میں 200 سے زائد نائٹ شیلٹر ہومز ہیں، جہاں رات کو پناہ لینے والوں کے لیے جگہ نہیں رہی۔ ایک روز میں 30ٹرینیں اور 400 فلائٹس منسوخ کرنی پڑیں۔ اسی طرح امریکا، جاپان، تائیوان،کوریا، چین اور روس میں بھی سردی نے ریکارڈ توڑے۔

سائنس دان اور ماہرینِ موسمیات اِس بات پر سوچ بچار کر رہے ہیں کہ جب پوری دنیا میں’’گلوبل وارمنگ‘‘ یعنی حرارت بڑھنے اور گلیشیرز پگھلنے کی باتیں ہو رہی ہیں، تو پھر گرمی سے دو چار کرّۂ ارض پر سردی کی یہ لہر کیوں؟