آپ آف لائن ہیں
جمعہ3؍رجب المرجب 1441ھ 28؍فروری 2020ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

عرب اور مسلم دنیا کا بیش بہا معدنی وسائل سے مالال ملک لیبیا جو رواں عشرے کے اوائل میں ایک خوں ریز تحریک کے نتیجے میں معمر القذافی کی چالیس سالہ حکومت کے خاتمے کے بعد برسوں شدید خانہ جنگی کا شکار رہا، ایک بار پھر اس آگ کے تیز ہو جانے کے خطرے سے دوچار ہے۔ عالمی طور پر تسلیم شدہ لیبیا قومی اتحاد کی موجودہ حکومت نے گو کہ بدامنی پر بڑی حد تک قابو پا لیا تھا لیکن حالیہ دنوں میں مخالف گروپ نیشنل آرمی کی جانب سے دارالحکومت طرابلس کی جانب پیش قدمی اور سرکاری فوج پر حملوں نے حالات کے ابتر ہو جانے کے خدشات بڑھا دیئے ہیں۔ اس صورتحال کے پیش نظر ترک صدر رجب طیب اردوان نے گزشتہ منگل کو متنبہ کیا تھا کہ جارحانہ کارروائیاں روکی نہ گئیں تو ترکی نیشنل آرمی کے خلاف فوجی اقدام کرے گا جبکہ جرمن حکومت نے اسی دن برلن میں اختتام ہفتہ پر ایک روزہ لیبیا امن کانفرنس کے اہتمام کا اعلان کیا تھا۔ یہ امر اطمینان بخش ہے کہ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوئٹیرس کی نگرانی میں اتوار کو اس ایک روزہ کانفرنس کا انعقاد عمل میں آگیا جس میں ترکی کے صدر طیب اردوان، روس کے صدر ولادیمیر پیوٹن، فرانسیسی صدر عمانوایل ماکروں اور برطانوی وزیراعظم بورس جانسن سمیت کئی عالمی لیڈروں نے شرکت کی اور ایک ایسی کثیرالجہت کمیٹی کے قیام پر اتفاق کیا جو لیبیا میں رونما ہونے والے واقعات پر نظر رکھے گی۔ کانفرنس کے مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ امن کوششوں کو مربوط بنانا عالمی برادری کی ذمہ داری ہے۔ امید ہے کہ اقوام متحدہ اور بین الاقوامی طاقتیں لیبیا میں خانہ جنگی کی آگ کو پھیلنے سے روکنے کی خاطر ٹھوس اور نتیجہ خیز اقدامات عمل میں لاکر پائیدار امن کو یقینی بنائیں گی اور عالمی و علاقائی طاقتوں کی جانب سے اپنے مفادات کی خاطر لیبیا میں مداخلت سے مکمل گریز کیا جائے گا۔

اداریہ پر ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائے دیں00923004647998