آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعہ 26؍ جمادی الثانی 1441ھ 21؍ فروری 2020ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

ہم ہر روز اخبارات اور ٹی وی پر سبسڈی کا لفظ سنتے ہیں، یہ دراصل اُس ریاستی امداد کو کہا جاتا ہے جس كے ذریعے کسی چیز كی قیمت کو محدود رکھا جاتا ہے۔ حکومتیں معاشرے كے ان لوگوں کی مدد کرنے كے لیے سبسڈی دیتی ہیں جو اتنے بےبس ہوتے ہیں كہ اِس مدد كے بغیر ان کا گزارا ممکن نہیں ہو پاتا۔ سبسڈی اشیائے خور و نوش، بجلی، گیس یا کسی بھی ضرورت کی شے پر دی جا سکتی ہے۔ اصولی طور پر سبسڈی ایک سیفٹی نیٹ کی قسم ہے اور فلاحی ریاستیں اپنے لوگوں كے لیے طرح طرح كے سیفٹی نیٹس کا اہتمام کرتی ہیں تاکہ عوام کو خوشحال بنایا جا سکے پاکستان جیسے ملک کیلئے جہاں پر 25فیصد پاکستانی غربت اور 39فیصد ملٹی ڈائمینشل (کئی سمتوں والی) غربت میں رہتے ہیں،سوشل سیفٹی نیٹس بہت ضروری ہیں۔ تاہم سبسڈی کا ایک اہم سیاسی مقصد بھی ہے کیونکہ عوام کو جب سستی اشیا ملتی ہیں تو اِس سے عوام اپنے آپ کو خوشحال سمجھتے ہیں لیکن سبسڈی کو صحیح طرح مینج کرنا بھی ضروری ہے ورنہ یہ خزانے پر بوجھ بن جاتی ہے۔ ہمارے سرکلر ڈیبٹ یعنی گردشی قرضے اس كی ایک عام اور اہم مثال ہیں۔

پاکستان میں وسیع پیمانے پر سبسڈی دی جاتی ہے یعنی اگر بجلی اور گیس پر سبسڈی ہے تو سب كے لیے ہے۔ چاہے کسی کو اس کی ضرورت ہے یا نہیں (یہ بات مختلف Billing Slabs (یونٹوں کے استعمال کے حوالے سے بجلی کی قیمت) كے متعارف کروانے سے پہلے کی ہے)۔ اسی طرح یوٹیلٹی اسٹوروں پر اگر چیزوں پر سبسڈی ہے تو کوئی بھی جاکر خرید سکتا ہے، اِس طرح کی سبسڈی میں غریب اور امیر کی تفریق نہیں کی جاتی۔ اسی لیے کہا جاتا ہے كہ سبسڈی مخصوص طریقے سے مخصوص لوگوں کو ہی دی جانی چاہیے۔

موجودہ حکومت نے برے معاشی حالات کے نتیجے میں یہ فیصلہ کیا ہے كہ سبسڈی مزید کم ہونی چاہیے، علاوہ ازیں ٹیکس بھی زیادہ لگایا جا رہا ہے جس سے مہنگائی بڑھ رہی ہے۔ پچھلے سال گیس كے بلوں کا معاملہ ہم سب جانتے ہیں، اِس میں گیس كی قیمت پر سبسڈی بھی کم كی گئی اور قیمتیں بھی بڑھائی گئیں۔ ایک خبر کے مطابق اوگرا نے گیس کی قیمتوں میں 214فیصد تک اضافے کا مشورہ دیا ہے جس کو شاید 15فیصد تک کیا جارہا ہے۔ ہمارے ہاں معاشی بحث میں کہا جا رہا ہے كہ سبسڈی صرف غریب لوگوں کو دینی چاہیے، باقی افراد کو پوری قیمتیں ادا کرنی چاہئیں۔ حکومت کہتی ہے كہ سبسڈی کی وجہ سے خزانہ خالی ہے اور اس کو ختم کرنا معاشی استحکام كے لیے ضروری ہے۔ یہ بات کتابی حد تک تو ٹھیک ہے کہ حکومت کیوں لوگوں كے لیے بجلی، گیس وغیرہ پر سبسڈی دے لیکن ہمیں یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ سبسڈی کی ضرورت کیوں پڑتی ہے۔ اِس مسئلے کو قومی ایئرلائن كے تناظر میں سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ قومی ایئرلائن اس وقت خسارے میں ہے یعنی جتنا مسافروں سے وہ کرایہ وصول کرتی ہے، اُس سے زیادہ اخراجات ہوتے ہیں اور یہ فرق حکومت پورا کرتی ہے۔ پی آئی اے مسافروں سے زیادہ کرایہ کیوں نہیں لیتی؟ کیونکہ مسئلہ کرائے کا نہیں، مسئلہ اُس كے حد سے زیادہ اخراجات اور مِس مینجمنٹ کا ہے۔ اگر کرایہ بڑھایا گیا تو لوگ متبادل سروس پر جائیں گے، پی آئی اے کا خسارہ وہیں کا وہیں رہے گا بلکہ مزید بڑھے گا۔ اب گیس، بجلی وغیرہ میں صورتحال یہ ہے كہ وہاں بھی مِس مینجمنٹ ہے لیکن چونكہ عوام كے پاس کوئی متبادل نہیں ہے، اس لیے حکومت کی جانب سے قیمتیں بڑھائی جاتی ہیں اور اگر عوام میں شور مچ جائے تو پھر سبسڈی بھی دیدی جاتی ہے۔ اب نئی حکومتی پالیسی کے مطابق سبسڈی غریب سے غریب تر افراد کے لیے محدود کی جا رہی ہے لیکن دوسری جانب عام عوام کو حکومتی اداروں اور پالیسیوں کی مِس مینجمنٹ کی وجہ سے بنیادی ضروریات كی مہنگے داموں فراہمی بھی غلط اقدام ہے۔ گیس اور بجلی كے بل میں جب لائن لاسز، مِس پلاننگ، مِس مینجمنٹ اور بھاری سرکاری مشینری كے پیسے پورے کیے جاتے ہیں تو اِس میں عوام کا کیا قصور؟

پاکستان میں بجلی کا سبسڈائزڈ یونٹ 14سے 20روپے تک پڑتا ہے۔ یہی یونٹ بہت سے ترقی یافتہ ممالک حتیٰ کہ ترقی پذیر ممالک میں بھی پاکستانی 10روپے تک دستیاب ہے، اور اِس میں بجلی کی ترسیلی کمپنی کا منافع بھی شامل ہے یعنی یہ قیمت سبسڈائزڈ نہیں ہے۔ پاکستان‘ جو زرعی ملک ہے اور جہاں لیبر سستی ہے، وہاں اور امریکہ میں آٹا برابر دام کا کیوں ہے؟ اِس طرح کی کئی مثالیں ہیں لیکن جگہ کی کمی کی وجہ سے نہیں بیان کی جا سکتیں۔تو اب جب ملک میں یہ بحث چھڑ گئی ہے كہ حکومت سبسڈی نہیں دے سکتی تو اِس مسئلے پر بھی بحث ضروری ہے كہ ہماری کیا کوتاہیاں ہیں جن كی وجہ سے سبسڈی دینا حکومتی مجبوری بن گئی ہے اور ہماری بنیادی ضروریات اتنی مہنگی ہو گئی ہیں۔

حکومت نے بڑی جگہ لنگر کا اہتمام کیا ہے اور اعلان کیا ہے كہ غریب لوگوں کو مفت كھانا فراہم کیا جائے گا لیکن اگر توجہ صرف سبسڈی ہٹانے پر ہی مرکوز رہی اور اصل مسائل کو حل نہ کیا گیا تو بڑھتی ہوئی مہنگائی كے نتیجے میں مزید بہت سے لوگ لنگر كے مستحق ہو جائیں گے۔ اور پھر حکومت سوچے گی کہ اب لنگر کہاں سے پورا کریں؟ پھر ہم سنیں گے كہ حکومت کو لنگر خانے بھی بند کرنے چاہئیں۔ اِس بارے بھی بہت سی معاشی تھیوریاں پیش کی جائیں گی لیکن بنیادی مسائل کو نہ توجہ ملے گی اور نہ ہی وہ ٹھیک ہوں گے۔ لنگر خانوں کا اہتمام کوئی بُرا کام نہیں لیکن حقیقی کامیابی یہ ہے کہ ان کی ضرورت ہی نہ پڑے۔

(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں00923004647998)