آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعرات2؍رجب المرجب 1441ھ 27؍فروری 2020ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

ملکی بساط پر ہونے والی تبدیلیوںکی لمحہ بہ لمحہ حقیقی رپورٹ

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) قومی اسمبلی آف پاکستان کے سپیکر اسد قیصر، وفاقی وزراء شیخ رشید احمد، غلام سرور خان، عمر ایوب خان، شفقت محمود، وزیراعظم کی خصوصی معاون برائے اطلاعات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان سمیت اہم شخصیات جنگ گروپ کے سینئر صحافی حنیف خالد کی کتاب ’’نصف صدی کا صحافتی سفر‘‘ کی تقریب رونمائی میں سہ پہر ساڑھے تین بجے پہنچ جائیں گی۔ وفاقی دارالحکومت کے معروف تجزیہ نگار اور کالم نویس نے ’’نصف صدی کے صحافتی سفر‘‘ نامی کتاب کی ورق گردانی کرتے ہوئے جو تجزیہ لکھا ہے نذر قارئین ہے۔ بالآخر جنگ کے سینئر اور معتبر صحافی حنیف خالد کا نصف صدی کا صحافتی سفر ایک ضخیم کتاب کی صورت میں میرے سامنے موجود ہے۔1200 سے زائد صفحات پر مشتمل دیدہ زیب کتاب حنیف خالد کی ذاتی اور صحافتی زندگی کا بے حد متاثرکن انداز میں احاطہ کرتی ہے۔ حنیف خالد نے اپنی صحافت کا آغاز میرخلیل الرحمٰن بانی ایڈیٹر انچیف جنگ گروپ کے زیر سایہ کیا اور پچاس سال سے زائد عرصہ گزرنے کے بعد آج بھی حنیف خالد جنگ گروپ کے چیئرمین و ایگزیکٹو ایڈیٹر میر جاوید رحمان اور ایڈیٹر انچیف و چیف ایگزیکٹو میر شکیل الرحمٰن کی مشترکہ کمانڈ میں اپنا کام پوری دلجمعی اور محنت سے سرانجام دے رہے ہیں۔ حنیف خالد کا صحافتی سفر جنگ کے سنگ 1969ء سے شروع ہوا اور آج تک

جاری ہے۔حنیف خالد جنگ کو اپنا خاندان سمجھتے ہیں اور ادارہ جنگ کے ارباب بست و کشاد بھی حنیف خالد کے ساتھ گہرا قلبی اور جذباتی تعلق رکھتے ہیں۔ کتاب کے بیک پر لکھا گیا فلیپ اور اس پر میر صاحب اور حنیف خالد کی ایام جوانی کی تصاویر لوٹ جا گردش صدام کی یاد دلاتے ہیں۔جس پر حنیف خالد کچھ یوں گویا ہوئے ہیں۔تشکیل وتکمیل فن میں حفیظ جو اپنا حصہ ہےدو چار برس کی بات نہیں، یہ نصف صدی کا قصہ ہےحنیف خالد صاحب کے والدین نے بڑے کٹھن اور دشوار مشکلات کا سامنا کرتے ہوئے ہندوستان سے ہجرت کی اور کم وسائل کے باوجود حنیف خالد صاحب کو اعلیٰ تعلیم سے ہمکنار کیا۔ انہوں نے عمدہ نمبروں سے پنجاب یونیورسٹی سے ایم اے معاشیات کی ڈگری ماں باپ کی دعائوں کے طفیل حاصل کی مگر جب وہ ان کی خدمت کے قابل ہوئے تو وہ راہ عدم سدھار گئے یہی وجہ ہے کہ انہوں نے اپنی خودنوشت کا انتساب اپنے والدین کے نام کیا۔غریب الدیار مسافران ہجرت اماں اور ابا کے نام۔ جن کی بے پایاں شفقت، محنت اور تربیت نے زندگی بھر سراٹھا کر جینے کا عزم اور حوصلہ بخشا۔حنیف خالد کی خودنوشت اور صحافتی زندگی کے اہم واقعات پر مشتمل اس کتاب کا حصہ اول ان کی ابتدائی زندگی کی سخت جدوجہد کے حیران کن واقعات پر مشتمل ہے۔

اہم خبریں سے مزید