آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
منگل30؍ جمادی الثانی 1441ھ 25؍فروری 2020ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

تمباکو نوشی: سب سے زیادہ اموات کا سبب

سالہا سال سے ذرائع ابلاغ سمیت تمام دستیاب وسائل تمباکو نوشی کے جان لیوا اثرات کی آگہی کے لئے استعمال کرنے کے باوجود اِس خطرناک نشے کی عادتِ بد جڑ سے اکھاڑنے کی کوششیں کامیاب نہیں ہو سکیں حالانکہ قوم اِس کے بھیانک نتائج قیمتی جانوں کے ضیاع کی صورت میں مسلسل بھگت رہی ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں سگریٹ سمیت مختلف شکلوں میں تمباکو کا استعمال روز بروز بڑھتا جا رہا ہے اور ایڈز، ملیریا، ٹی بی اور دہشت گردی سے زیادہ اموات تمباکو نوشی سے ہو رہی ہیں۔ پاکستان نیشنل ہارٹ ایسوسی ایشن کے جنرل سیکرٹری نے ایک بریفنگ میں انکشاف کیا ہے کہ ہر سال ایڈز کی وجہ سے55، ملیریا سے 5اور ٹی بی کے باعث 30ہزار افراد موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں جبکہ تمباکو نوشی کی وجہ سے سالانہ ایک لاکھ 63ہزار لوگ مر رہے ہیں۔ دہشت گردی کے عفریت نے بھی اب تک 70ہزار جانیں لی ہیں جو تمباکو نوشی سے مرنے والوں کے مقابلے میں نصف سے بھی کم ہیں۔ عالمی ادارہ صحت کا کہنا ہے کہ سگریٹ نوشی دنیا بھر میں موت کا سبب بننے والی چھ اہم وجوہات میں سب سے زیادہ خطرناک ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ عوام خصوصاً نئی نسل میں سگریٹ نوشی کے رجحان کو کم کرنے کے لئے ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے تمباکو نوشی کی روک تھام کے متعلق عالمی معاہدے پر عملدرآمد کیا جانا چاہئے۔ اس معاہدے کے تحت دکانوں پر تمباکو کی مصنوعات کے اشتہارات پر پابندی، سگریٹوں پر ہیلتھ لیویز کا نفاذ اور سگریٹ پیک پر ہیلتھ وارننگ اور تمباکو کے استعمال سے پیدا ہونے والی بیماریوں سے آگاہی ضروری ہے۔ اس کے علاوہ دفاتر اور پبلک مقامات پر سگریٹ نوشی پر بھی پابندی ہونی چاہئے۔ اس حوالے سے محکمہ صحت، اطبا، والدین اور اساتذہ کو بھی اپنا کردار ادا کرنا چاہئے تاکہ اس مہلک عادت سے لوگوں کی جان چھڑائی جا سکے۔

اداریہ پر ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائے دیں00923004647998

ادارتی صفحہ سے مزید