آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
پیر22؍ جمادی الثانی 1441ھ 17؍فروری 2020ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

پاکستان، 2018ء کے مقابلے میں2019ء میں کرپشن بڑھی

پاکستان، 2018ء کے مقابلے میں2019ء میں کرپشن بڑھی


اسلام آباد (انصار عباسی) ٹرانس پیرنسی انٹرنیشنل کی جانب سے جمعرات کو جاری کردہ 2019ء کی کرپشن پرسیپشن انڈیکس (سی پی آئی) کی عالمی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں 2018ء کے مقابلے میں 2019ء میں کرپشن میں اضافہ ہوا ہے۔

2019ء کی فہرست میں 32واں نمبر حاصل کرکے پاکستان نہ صرف 2018ء میں حاصل کردہ 33؍ نمبرز میں سے ایک نمبر نیچے گرا بلکہ عالمی رینکنگ میں بھی سابقہ 117ویں نمبر سے گر کر 180؍ ممالک کی فہرست میں 120ویں نمبر پر آ گیا ہے۔

اس کا مطلب یہ ہوا کہ پاکستان جو پہلے دنیا کا 63واں کرپٹ ترین ملک تھا وہ اب 60واں کرپٹ ترین ملک ہے۔

لیکن جو بات سب سے زیادہ پریشان کن ہے وہ یہ ہے کہ 2010ء کے بعد سے یہ پہلی مرتبہ ہے کہ پاکستان رینکنگ میں نیچے گرا ہے۔ گزشتہ دس سال کے دوران پاکستان کرپشن کیخلاف اپنی پوزیشن بہتر کر رہا تھا لیکن 2019ء یعنی عمران خان حکومت کا مسلسل ایک سال پہلے کے مقابلے میں زیادہ کرپٹ ثابت ہونے کی وجہ سے زیادہ مایوس کن ثابت ہوا۔

سی پی آئی 2019ء رپورٹ مرتب کرنے کیلئے 13؍ سروے ذرائع کا سہارا لیا گیا جن میں سے پاکستان کا جائزہ لینے کیلئے 8؍ سرویز پر غور کیا گیا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ان 8؍ میں سے 5؍ ذرائع سے پاکستان کا جائزہ لیا گیا تو ان کے منفی نتائج سامنے آئے۔

پاکستان کا منفی جائزہ پیش کرنے والوں میں درج ذیل کے سروے شامل ہیں:… ورلڈ اکنامک فورم کا ایگزیکٹو اوپینئن سروے 2019، ورلڈ جسٹس پروجیکٹ رول آف لاء انڈیکس ایکسپرٹ سروے 2019ء، ویرائٹیز آف ڈیموکریسی (وی ڈیم) 2019، برٹیلسمن فائونڈیشن ٹرانسفارمیشن انڈیکس، اور گلوبل انسائٹ کنٹری رسک ریٹنگز۔

ان پانچ ذرائع کی جانب سے سروے میں پوچھے گئے سوالات سرکاری افسران، عدلیہ، فوجیوں، سیاست دانوں کی کرپشن کے متعلق ہیں اور ساتھ ہی اس بارے میں بھی ہیں کہ آیا ان کیخلاف قانون کے مطابق کارروائی کی گئی یا نہیں۔

ذرائع کے مطابق، پانچ سروے ذرائع سے حاصل ہونے والی پاکستان کیلئے منفی اسکورنگ سے معلوم ہوتا ہے کہ کاروبار میں سرمایہ کاری کا فقدان ہے۔

قانون کی بالادستی نہیں ہے، لوگوں کے ذہنوں میں یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ عدالتی اقدامات ’’یہ ہونا چاہئے‘‘ اور ’’یہ نہیں ہونا چاہئے‘‘ کے حوالے سے امتیازی ہیں، اور ساتھ ہی مفادات کے تضاد کے معاملے کو نظر انداز کیا جاتا ہے۔ درج ذیل پانچ اداروں نے 2019ء کیلئے پاکستان کی منفی رپورٹ پیش کی اور سروے میں ان کی جانب سے پوچھے گئے سوالات بھی پیش کیے جا رہے ہیں:…

1۔ ورلڈ اکنامک فورم ایگزیکٹو اوپینئن سروے 2019۔

سوال: آپ کے ملک میں کیا یہ عام بات ہے کہ درج ذیل کے معاملے میں کمپنیاں غیر دستاویزی انداز سے اضافی ادائیگیاں یا رشوتیں دیتی ہیں:

(اول) درآمدات اور برآمدات، (دوم) پبلک یوٹیلیٹیز، (سوم) سالانہ ٹیکس ادائیگیاں، (چہارم) سرکاری ٹھیکے اور لائسنس دیے جانے کا عمل، (پنجم) من پسند عدالتی فیصلوں کا حصول۔

2۔ ورلڈ جسٹس پروجیکٹ رول آف لاء انڈیکس ایکسپرٹ سروے 2019ء:… سوال: (اول) ایگزیکٹو برانچ میں سرکاری ملازمین اپنے سرکاری عہدے کو ذاتی مفادات کیلئے استعمال نہیں کرتے (دوم) جوڈیشل برانچ میں سرکاری ملازمین اپنے عہدے کو نجی فوائد کے حصول کیلئے استعمال نہیں کرتے (سوم) پولیس اور فوج میں سرکاری ملازمین اپنے عہدے کو نجی فوائد کیلئے استعمال نہیں کرتے۔ (چہارم) مقننہ سے تعلق رکھنے والے سرکاری عہدیدار نجی فوائد کیلئے سرکاری عہدہ استعمال نہیں کرتے۔

3۔ ویرائٹیز آف ڈیموکریسی (وی ڈیم) 2019ء کا نیگیٹو اسکور:… سوال:… سیاسی کرپشن کس قدر سرائیت کر گئی ہے؟

4۔ برٹیلسمن فائونڈیشن کے ٹرانسفارمیشن انڈیکس کا منفی اسکور:… سوال: (اول) اپنے عہدوں کا غلط استعمال کرنے والے سرکاری عہدیداروں کیخلاف کس حد تک کارروائی یا سزائیں دی جاتی ہیں؟ (دوم) حکومت کرپشن کی روک تھام میں کس حد تک کامیاب ہے؟

5۔ گلوبل انسائٹ کنٹری رسک ریٹنگز:… سوال:… اس بات کا خطرہ کس قدر ہے کہ افراد / کمپنیوں کو کاروبار کرنے یا چھوٹی مصنوعات کی درآمد / برآمد کیلئے بڑے ٹھیکوں کے حصول میں یا روزمرہ کی دستاویزات کے حصول میں رشوت یا دیگر انواع کے غلط کام کرنے پڑے ہیں۔

اس سے کسی بھی کمپنی کے ملک میں کام کرنے کی صلاحیت متاثر ہوتی ہے، یا اس کیخلاف قانونی یا ضابطے کے جرمانے عائد ہونے یا اس کی ساکھ کو نقصان پہنچنے کی راہ ہموار ہوتی ہے۔ اپنی پریس ریلیز میں، ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل پاکستان کے چیئرمین سہیل مظفر نے کہا ہے کہ انسداد کرپشن کی کوششوں میں اضافے کے باوجود جب سی پی آئی 2019ء میں پاکستان کا اسکور ایک درجہ کم کرنے کا سوال اٹھایا گیا تو ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کے سیکریٹریٹ نے واضح کیا کہ سی پی آئی 2019ء میں کئی ممالک نے رواں سال میں بہتر کارکردگی کا مظاہرہ نہیں کیا۔

پاکستان کا اسکور ایک پوائنٹ کم کرکے 100؍ میں سے 32؍ کر دیا گیا ہے، لیکن سی پی آئی 2019ء میں کئی ترقی یافتہ ممالک نے بھی کم اسکور حاصل کیا ہے جن میں کینیڈا بھی شامل ہے جس کا اسکور 81؍ سے کم ہو کر 77؍ ہوگیا ہے، فرانس کا 72؍ سے 69، برطانیہ کا 80؍ سے 77؍ جبکہ ڈنماک کا 88؍ سے 87؍ ہوگیا حالانکہ ڈمناک نے سی پی آئی 2019ء انڈیکس میں پہلی پوزیشن حاصل کی ہے۔

ٹی آئی پی کے چیئرمین نے مزید کہا کہ جسٹس (ر) جاوید اقبال کی زیر قیادت نیب نے قدرے بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے، اور مشترکہ انوسٹی گیشن ٹیم (سی آئی ٹی) سسٹم متعارف کرانے جیسے کئی اقدامات کرکے نیب کو بہتر بنایا گیا ہے، تاکہ میرٹ کی بنیاد پر انکوائریاں / انوسٹی گیشن کرانے کیلئے مشترکہ ذہانت استعمال کی جا سکے۔

نیب نے کرپٹ افراد سے 153؍ ارب روپے ریکور کیے ہیں اور 530؍ ریفرنسز دائر کیے ہیں جبکہ احتساب عدالتوں سے سزائیں دلوانے کا تناسب 70؍ فیصد ہے۔ اس کے علاوہ، عوام کو کرپشن کے منفی اثرات سے آگاہ کرنے کیلئے نیب کی جانب سے میڈیا میں چلائی جانے والی مہم بھی انتہائی موثر ثابت ہوئی ہے؛ جو قابل تعریف ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل برلن کی رپورٹ میں نیب یا اس کے چیئرمین کی تعریف کی بات شامل نہیں۔ یہ واضح نہیں کیا گیا کہ ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل پاکستان کے چیئرمین سہیل مظفر نے نیب اور اس کے چیئرمین کی تعریف کرنا کیوں مناسب سمجھا حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ گزشتہ سال کے مقابلے میں رواں سال پاکستان کے اسکور میں ایک درجہ تنزلی ہوئی ہے جو دس سال میں پہلی مرتبہ ہوا ہے۔

یہ بات بھی پریشان کن ہے کہ جس وقت ہم سی پی آئی 2019ء میں ملائیشیا کی قابل غور حد تک بہتر کارکردگی کو نظر انداز کر رہے ہیں اس وقت ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کا پاکستان چیپٹر اپنی پریس ریلیز میں کچھ ایسے ملکوں کا حوالہ دے کر پاکستان کی ایک درجہ تنزلی کا جواز پیش کر رہا ہے جن کی رینکنگ میں بھی کمی واقع ہوئی ہے۔

اہم خبریں سے مزید