آپ آف لائن ہیں
جمعہ12؍ربیع الاوّل 1442ھ 30؍اکتوبر2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

میں نے اپنے 13؍جنوری 2020ءکے کالم میں ہاٹ منی کا ذکر کیا تھا جسکے ذریعے بیرونی سرمایہ کار حکومتی بانڈز میں سرمایہ کاری کرکے ریکارڈ منافع کمارہے ہیں۔

یہ بیرونی سرمایہ کار 1.5سے 2فیصد شرح سود پر بیرونِ ملک ڈالر میں قرضے لیکر اس سے پاکستان میں 13فیصد شرح سود پر روپے میں حکومتی ٹریژری بلز میں سرمایہ کاری کررہے ہیں جس سے انہیں تقریباً 11فیصد منافع حاصل ہورہا ہے۔ 

ملکی زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافے کی ایک وجہ پاکستانی روپے کی قدر 154روپے پر مستحکم ہونا ہے جسکی وجہ سے ان فنڈز منیجرز نے پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں اب تک تقریباً 1.2ارب ڈالر کی پورٹ فولیو انویسٹمینٹ (ہاٹ منی) کی ہے جو مزید بڑھ کر 3ارب ڈالر تک جاسکتی ہے لیکن سابق وزیر خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ پاشا کے مطابق اتنی اونچی شرح سود ملکی معیشت پر ایک بڑا بوجھ ہے۔ 

میں نے بھی ہاٹ منی پر ٹی وی پینل ڈسکشن میں بتایا کہ 16جنوری 2020ء تک ان حکومتی بانڈز میں 80ارب روپے کی سرمایہ کاری کی گئی جبکہ اسٹیٹ بینک کے مطابق حکومتی بانڈز میں اب تک سرمایہ کاری 2.23 ارب ڈالر تک پہنچ چکی ہے جس میں برطانیہ سے ایک روز میں 456.5ملین ڈالر اور امریکہ سے 79.7ملین ڈالر کی سرمایہ کاری شامل ہے۔ 

مصر جہاں گورنر اسٹیٹ بینک ڈاکٹر باقر رضا آئی ایم ایف پروگرام کے کنٹری ہیڈ تھے، نے ہاٹ منی سے 20ارب ڈالر حاصل کئے تھے۔

میرے بے شمار قارئین نے ہاٹ منی پر کالم تحریر کرنے کی درخواست کی تھی۔ سادہ الفاظ میں ہاٹ منی شارٹ ٹرم مہنگا قرضہ ہے جسے ملکوں کے زرمبادلہ کے ذخائر بڑھانے کیلئے استعمال کیا جاتا ہے۔ 

ہاٹ منی کا تصور زیادہ تر ان ممالک میں ہوتا ہے جو آئی ایم ایف کے قرضہ پروگرام میں ہوتے ہیں جہاں آئی ایم ایف ان حکومتوں کو اسٹیٹ بینک کے ڈسکائونٹ ریٹ، بینکوں کی شرح سود اور ڈالر کے ایکسچینج ریٹ پر پابند کردیتی ہے۔ اس کے علاوہ آئی ایم ایف ان حکومتوں کو عالمی اداروں سے مزید قرضے لینے اور حکومتی گارنٹیاں دینے سے روک دیتا ہے۔ 

پاکستان بھی اسی صورتحال سے دوچار ہے۔ آئی ایم ایف نے پاکستان پر بھی یہ پابندیاں عائد کررکھی ہیں لہٰذاہمیں اپنے زرمبادلہ کے ذخائر بڑھانے کیلئے عالمی ساہوکاروں سے تین تین ماہ کیلئے مقامی کرنسی پر 13.25فیصد منافع پر ڈالر لینے پڑرہے ہیں اور ہم خوش ہیں کہ بیرونی سرمایہ کاری سے ہمارے بیرونی زرمبادلہ کے ذخائر 18ارب ڈالر تک پہنچ گئے ہیں جس میں 11.5ارب ڈالر اسٹیٹ بینک اور 6.6ارب ڈالر نجی بینکوں کے ڈپازٹس شامل ہیں۔ 

ان سرمایہ کاروں کو یہ پتا ہے کہ جیسے جیسے پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ ہوگا، روپے کی قدر مستحکم اور ڈالر کی قدر کم ہوگی لہٰذا ان کی پاکستانی روپے میں سرمایہ کاری محفوظ ہے لیکن بینکوں کے شرح سود میں کمی کی صورت میں یہ سرمایہ کار اپنی سرمایہ کاری پاکستان سے نکال کر باہر لے جائیں گے جس کی ان کو اجازت ہے نتیجتاً ہمارے زرمبادلہ کے ذخائر اور روپے کی قدر گرجائے گی جو ملکی معیشت کیلئے نقصان دہ ہوگی۔ 

ہاٹ منی کے حصول کو پرکشش بنانے کےلئے ملک میں صنعتکاری کا عمل ٹھپ ہو گیا ہے، کوئی بزنس مین 15سے 16فیصد شرح سود اور روپے کے مزید ڈی ویلیوایشن کے خوف سے ملک میں نئی صنعتیں نہیں لگارہا جس سے نئی ملازمتوں کے مواقع پیدا نہیں ہورہے۔

میں آج اپنے قارئین کی توجہ 5اگست 2013کو لکھے گئے کالم ’’معاشی قاتل‘‘ کی طرف مبذول کرانا چاہوں گا جس میں، میں نے مشہور معاشی قاتل جان پرکنز کی 2004میں لکھی گئی تہلکہ خیز کتاب Confessions of an Economic Hitmanکا ذکر کیا تھاجس کا کام تیسری دنیا کے ترقی پذیر ممالک کے سیاسی اور معاشی رہنماوں کو جھانسہ یا رشوت دے کر انہیں ترقیاتی کاموں کیلئے عالمی مالیاتی اداروں سے بڑے بڑے قرضے لینے پر آمادہ کرنا تھا۔

جب یہ ممالک قرضے واپس کرنے کے قابل نہیں رہیں تو ان پر مختلف بین الاقوامی امور میں دبائو میں لانا تھا۔ پرکنز کے مطابق قرضوں پر مزید قرضے لینے سے ان ممالک کی اقتصادیات مفلوج ہوکر رہ جاتی ہے اور جی ڈی پی گروتھ کم کرنے سے مہنگائی، غربت اور بیروزگاری بڑھ جاتی ہے اور حکومت عالمی اداروں کی محتاج ہوکر رہ جاتی ہے۔ 

یہ معاشی قاتل آج مجھے شدت سے یاد آرہے ہیں کیونکہ پاکستان میں بھی آئی ایم ایف کا اثر و رسوخ بڑھتا جارہا ہے۔

میں نے وزیراعظم سے کئی ملاقاتوں جس میں مشیر خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ اور گورنر اسٹیٹ بینک باقر رضا بھی موجود تھے، میں ایکسپورٹ کے ذریعے گروتھ حاصل کرنے کی حکمت عملی پر زور دیا لیکن بدقسمتی سے 50فیصد ڈی ویلیو ایشن کے باوجود ملکی ایکسپورٹس نہیں بڑھ سکی کیونکہ صنعتی پیداواری لاگت میں اضافے سے ہم عالمی مارکیٹ میں غیر مقابلاتی ہوگئے ہیں۔

 حکومت اور ایف بی آر کا زیادہ زور اضافی ریونیو کا حصول ہے جبکہ حکومت مسلسل بجلی، گیس، پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کرکے حاصل ہونے والا ریونیو سود کی ادائیگیوں میں جارہا ہے۔ 

پاکستان اس وقت سالانہ 3000ہزار ارب روپے سود کی مد میں ادائیگیاں کررہا ہے جو ہماری استطاعت سے زیادہ ہے۔ میری حکومت سے درخواست ہے کہ شارٹ ٹرم مہنگے قرضوں پر 13.25فیصد سود دینا ملکی معیشت کیلئے ٹھیک نہیں۔ 

ہمیں زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافے کیلئے ایکسپورٹ، ترسیلات زر اور صنعتی پروجیکٹس میں سرمایہ کاری کے فروغ کی حکمت عملی اپنانا ہوگی۔