آپ آف لائن ہیں
پیر14؍ذیقعد 1441ھ 6؍جولائی 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

ایک غذا آپ کو بریسٹ کینسر سے بچا سکتی ہے

ہی کا استعمال خواتین میں ہونے والے بریسٹ کینسر کے خطرات کو کم کرتا ہے



ایک نئی تحقیق میں اس بات کا انکشاف کیا گیا ہے کہ دہی کا استعمال خواتین میں ہونے والے بریسٹ کینسر کے خطرات کو کم کرتا ہے۔

انگلینڈ کی ’ لینکاسٹر یونیورسٹی ‘ میں کی جانے والی تحقیق کے مطابق خواتین اگر روزانہ دہی کھائیں تو یہ بریسٹ کینسر کا ایک سادہ ، سستا اور کارآمد علاج ہے۔

یہ بھی پڑھیے: بچہ بڑا ہو کر پتلادبلا ہوگا یا موٹا، کیسے پتہ لگائیں ؟

تحقیق کے مطابق روزانہ کی بنیاد پر دہی کا استعمال خواتین میں بریسٹ کینسر کے امکانات کو کم کر دیتا ہے، خواتین میں بریسٹ کینسر کا سبب ایک مخصوص بیکٹیریا ہے جس کے نتیجے میں پہلے سوجن اور پھر کینسر وجود میں آتا ہے ۔

ماہرین غذائیت کے مطابق دہی میں بہترین غذائی اجزاء اور بکٹیریا پائے جاتے ہیں جو مجموعی صحت کے لیےضروری ہیں، دہی میں پائے جانے والا ’ لیکٹوز‘ اور ’مائیکرو فلورا بیکٹیریا‘ ماں کے دودھ میں بھی پایا جاتا ہے جو انسانی صحت کے لیے نہایت مفید ہے۔

یہ بھی پڑھیے: کم عمر نظر آنا ہے تو کم فیٹ والا دودھ پیئیں

جرنل آف میڈیکل ہائیپو تھیسز میں شائع ہونے والی تحقیق کے محقق ڈاکٹر ریج بے کا کہنا ہے کہ ’ ہم جانتے ہیں کہ ماں کا دودھ جراثیم سے پا ک نہیں ہوتا مگر اس دودھ میں پائے جانے والا ’ لیکٹیشن ‘ ہر طرح کے جراثیم سے لڑنے کی صلاحیت رکھتا ہے ۔‘

رپورٹ کے مطابق ’ لیکٹوز فرمینٹنگ بیکٹیریا ‘ عموماً دودھ میں پایا جاتا ہے اور یہ خواتین میں بریسٹ کینسر کے خطرات کو کم کرنے میں معاون ہے، جو خواتین بچوں کو دودھ نہیں پلاتی ان کے لیے دہی اس سنگین بیماری سے بچاؤ کے لیے اہم غذا ہے، رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ ہر سال دودھ پلانے والی ماؤں میں بریسٹ کینسر کے خدشات دوسری خواتین کے مقابلے میں کم ہوتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے: دلہن بننے والی ہیں؟ موسمبی کا استعمال لازمی کریں

بریسٹ کینسر سے متعلق کی جانے والی دوسری تحقیقات میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ دہی کا استعمال بریسٹ کینسر کے خطرات کو کم کرتا ہے جس کا سبب بتاتے ہوئے ماہرین کا کہنا ہے کہ مثبت بکٹیریا ، نقصان دہ بکٹیریا کی جگہ لے لیتا ہے اور اسے جسم سے نکال دیتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق ایک انسانی جسم میں تقریباً 10 بلین بیکٹیریائی خلیے پائے جاتے ہیں جن میں زیادہ تر بے ضررہوتے ہیں جبکہ کچھ بکٹیریا جسم میں سوجن کا سبب بنتے ہیں ۔

رپورٹ میں مسوڑھوں یا منہ کے اندر کسی حصے کے سوج جانے کو سب سے زیادہ خطر ناک قرار دیا گیا ہے ، منہ میں سوجن خصوصاً مسوڑھوں کی سوجن کے نتیجے میں منہ، بڑی آنت، پتے، پروسٹیٹک اور بریسٹ کینسر کی تشخیص سامنے آتی ہے ۔

صحت سے مزید
خاص رپورٹ سے مزید