آپ آف لائن ہیں
اتوار11؍شعبان المعظم 1441ھ 5؍اپریل 2020ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

بچوں میں کہانیاں سُنانے کی صلاحیتیں پروان چڑھائیں

آپ نے دیکھا ہوگا کہ کچھ لوگ کہانیاں سُنانے یا قصہ گوئی کی صلاحیتوں کے باعث ہردلعزیز ہوتے ہیں، عمومی طور پر اسے اسٹوری ٹیلنگ(Storytelling) کہتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق، قصہ گوئی کا ہنر ہمیں دوسروں کے ساتھ روابطہ قائم کرنے، اپنے جذبات شیئرکرنے اور ذاتی تجربات کے ذریعے مشترکہ دلچسپیاں تلاش کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ علم الاعصاب کے ماہرین نے بھی تحقیق کی ہے کہ جب ہم ابلاغ کرتے ہیں تو دماغ میں کس طرح کی تبدیلیاں رونما ہوتی ہیں۔

کاروباری دنیا میں آڈینز یا صارفین کو اپنی طرف متوجہ کرنے کے لیے قصہ گوئی کا سہارا لیا جاتا ہے جبکہ بہتر ابلاغ کے لیے مینجمنٹ اور اسٹیک ہولڈرز کو بھی یہ طریقہ کار اختیار کرنے کا مشورہ دیا جاتا ہے۔ صرف یہی نہیں، کاروبار یا مسابقت کے میدان میں اپنے حریفوں سے ایک قدم آگے رہنے کے لیے اسٹوری ٹیلنگ کنسلٹنٹ اور ٹرینر سروسز فراہم کرنے والوںکی خدمات بھی حاصل کی جاتی ہیں۔ 

ہارورڈ بزنس پبلشنگ کی لانی پیٹرسن کہتی ہیں، ’’اسٹوری ٹیلنگ دراصل سامعین کو اپنے سحر میں گرفتار کرنے، ان پر اثرانداز ہونے، سکھانے اور کچھ کرنے کا جذبہ پیدا کرنے کی صلاحیت کا نام ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہم آرگنائزیشنز کو مشورہ دیتے ہیں کہ وہ اسٹوری ٹیلنگ کلچر پروان چڑھائیں اور اپنے تمام تربیتی پروگرامز میں اسٹوری ٹیلنگ کو مرکزی حیثیت دیں‘‘۔

عملی اور پیشہ ورانہ زندگی میں قصہ گوئی کی اہمیت اور افادیت کے پیشِ نظر یہ بات قابلِ فہم اور منطقی معلوم ہوتی ہے کہ ماہرین تعلیم بچوں کی تعلیم و تربیت میں قصہ گوئی کی صلاحیت پیدا کرنے اور اسے پروان چڑھانے پر ضرور توجہ دیں۔ مؤثر قصہ گوئی کے پیچھے ایک باقاعدہ سائنس ہے، جو نصاب کی تیاری اورطالب علموں کو کامیابی کی شاہراہ پر گامزن کرنےمیں مفید ثابت ہوسکتی ہے۔

کاروباری آئیڈیاز رکھنے والے نوجوانوں کو گرانٹ پروپوزل جمع کرانے کے لیےممکنہ سرمایہ کاروں کو پِچ (قصہ گوئی ) کرنا پڑتا ہے، سیاستدانوں کو اپنے متعلق بیانیہ دینا پڑتا ہے اور ہر پروفیشنل فرد اپنا لِنکڈ اِن پروفائل رکھتا ہے۔ یہ تمام لوگ اپنی اپنی پیچیدہ اور اہم کہانیاں اس انداز میں بیان کرتے ہیں کہ وہ دوسروں پر اپنا اثر چھوڑسکیں۔ 

بالآخر، ہمارے طلبا کے معاشی مستقبل کا دارومدار اس بات پر ہوتا ہے کہ وہ اپنی پیشہ ورانہ کہانیاں کس پُراثر انداز میں بیان کرتے ہیں۔ قصہ گوئی مستقبل کی عملی دنیا اور بچوں کی شخصیت کی نمو میں کس طرح فائدہ مند ثابت ہوتی ہے، اس کے چند چیدہ چیدہ نکات ذیل میں بیان کیے جارہے ہیں۔

ابلاغ کی صلاحیت اور استعداد

کہانیاں سُنانے کی صلاحیت پروان چڑھانے سے بچوں میں معاشرے کے دیگر افراد کیلئے احساس پیدا ہوتا ہے، وہ اپنے ارد گرد موجود لوگوں کے جذبات اور احساسات کو بہتر انداز میں سمجھنے کی پوزیشن میں ہوتے ہیں۔

ذہنی صلاحیتوں میں اضافہ

کہانیاں سُنانے کے ذریعے بچوں کی سیکھنے کی صلاحیتیں تیز ہوتی ہیں اور ان کے زبان و بیان میں وسعت و پختگی (لینگویج ڈیویلپمنٹ) آتی ہے۔ مزید برآں، قصہ گوئی جہاں بچوں کی نوشت و خواندگی (لٹریسی) اور سیکھنے کی صلاحیتوں کو پروان چڑھانے میں معاون ثابت ہوتی ہے، وہیں بچوں کے ذہن کو رنگا رنگ کہانیوں کے تخیل اور تخلیقیت سے بھی بھر دیتی ہے۔

کہانی سُنانے کیلئے ماحول

سب سے پہلی بات جو یاد رکھنے کی ہے وہ یہ کہ کہانیاں سُنانے کا فائدہ بچے کو تو بعد میں ہوگا، اس کا فوری فائدہ گھر والوں کو ہوگا، وہ آپس کے تعلقات میں گرم جوشی اور جذباتی وابستگی میں اضافہ ہوتا دیکھیں گے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ والدین خود بھی اپنی زندگی کے کاموں میں اسے ترجیح پر رکھیں اور اسے ایک واضح ہدف کے طور پر لیں جیسا کہ ہفتے میں3سے4 مرتبہ کسی 'مقررہ وقت پر بچوں کو کہانی سنائیں، اس سے بچوں میں کہانی کے دن اور وقت کے لیے رغبت اور جوش میں اضافہ ہوگا۔

کہانیوں کا انتخاب

ذاتی زندگی کی کہانی سے شروع کریں۔ آپ بچوں کو اپنی زندگی کے چھوٹے چھوٹے دلچسپ واقعات کہانی کی صورت میں سُنائیں۔ شروع میں کسی کہانی میں اگر تخیل کی کمی ہو تو پریشانی والی کوئی بات نہیں۔ اس کے علاوہ، آپ بچے کو اس کی زندگی کے دلچسپ واقعات یا ہنسا دینے والی چیزوں کے بارے میں بتائیں، آپ بچوں کو مقبول عام کہانیاں بھی سُنائیں۔

کیا آپ تیار ہیں؟

اسٹوری ٹیلنگ یا قصہ گوئی، کتاب سے کہانی سُنانے سے تھوڑا سا مختلف کام ہے۔ اس میں بچے ساتھ ساتھ اپنا رسپانس بھی دے رہے ہوتے ہیں، اس لیے بہت سے والدین قصہ گوئی سے گھبراتے ہیں لیکن تھوڑی سی تیاری سے اس گھبراہٹ کو ختم کیا جا سکتا ہے بلکہ اسے ایک دلچسپ سرگرمی میں تبدیل کیا جاسکتا ہے۔ 

قصہ گوئی کی شروعات کے لیے آپ ذیل میں درج کوئی بھی ایک طریقہ اختیار کریں اور پھر آہستہ آہستہ اپنی مہارت اور اعتماد میں اضافہ کرتے ہوئے پیچیدہ اور کلاسیکل کہانیوں کی طرف سفر کرتے چلے جائیں۔

مؤثر مشورے

1- ابتدا میں بچوں کو پانچ یا دس جملوں پر مشتمل مختصر کہانیاں سُنائیں۔ اس کے لیے سادہ اور بنیادی الفاظ کا استعمال کریں تاکہ انھیں سمجھنے میں آسانی ہو۔

2- کہانی سنانے کیلئے تیاری ضرور کریں لیکن اس کی ادائیگی اپنے فطری لہجے میں ہی کریں، اداکاری اور مصنوعی پن سے دور رہیں۔

3- بچے کے تاثرات پر توجہ رکھیں کہ وہ قصہ گوئی میں دلچسپی لے رہا ہے یا نہیں۔ اگر بچے کو دلچسپی پیدا نہ ہوتو کہانی اور انداز میں تبدیلی لاکر بچے کا فیڈ بیک جاننے کی کوشش کریں۔

4- کہانی کے اختتام پر اس کا خلاصہ یا کہانی میں موجود سبق ضرور بتائیں۔

تعلیم سے مزید