• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

دالبندین، ڈی سی چاغی پر الزامات کی تحقیقات کیلئے انکوائری کمیٹی تشکیل

دالبندین، ڈی سی چاغی پر الزامات کی تحقیقات کیلئے انکوائری کمیٹی تشکیل 


کوئٹہ/دالبندین (نمائندگان جنگ) اسسٹنٹ کمشنر دالبندین کی جانب سے ڈپٹی کمشنر چاغی پر الزامات کی تحقیقات کیلئے حکومت بلوچستان نے محکمہ بین الصوبائی رابطہ کے سیکرٹری کو انکوائری افسر مقرر کرتے ہوئے تین روز میں رپورٹ طلب کر لی انکوئری افسر چاغی پہنچ گئے اور اسسٹنٹ کمشنر کا بیان قلمبند کیا۔ 

ذرائع کے مطابق گزشتہ دنوں ‏اسسٹنٹ کمشنر دالبندین عائشہ زہری نے لیویز فورس کے ہمراہ دالبندین کےعلاقے یونین کونسل چلغازئی موکو نٹوک میں کارروائی کرتےہوئے فائرنگ کے تبادلے کے بعد بھاری مقدار میں منشیات اور کیمیکلز قبضے میں لئے تھے اور جب لیویز تھانہ میں اس کے اندراج کیلئے آئی تو دفعدار نے یہ کہہ کر انکار کر دیا کہ ڈپٹی کمشنر کا حکم ہے کہ مقدمہ درج نہ کیا جائے جس کےبعد اسسٹنٹ کمشنر نے پریس کانفرنس میں میڈیا کو تمام صورتحال سے آگاہ کیا۔

اسسٹنٹ کمشنر کی پریس کانفرنس کی ویڈیو وائرل ہونے پر وزیر اعلیٰ نے نوٹس لیتے ہوئے ان کی جانب سے ڈپٹی کمشنر پر لگائے گئے الزامات کی تحقیقات کیلئے گزشتہ روز محکمہ بین الصوبائی رابطہ کے سیکرٹری تیمور شاہ کو انکوائری افسر مقرر کرتے ہوئے تین روز میں رپورٹ طلب کر لی۔

انجینئر عائشہ زہری کی پریس کانفرنس کے بعد معاملہ انٹرنیشنل میڈیا کی زینت بنا ، انکوائری افسر ہفتے کی صبح چاغی پہنچے اور سرکٹ ہائوس میں کمشنر درخشاں سے ملاقات کی اور اسسٹنٹ کمشنر عائشہ زہری کا بیان ریکارڈ کیا۔ 

ذرائع نے بتایا کہ دو ماہ قبل اسسٹنٹ کمشنر نے اسمگلنگ کی گاڑی رشوت لے کر چھوڑنے پر لیویز چاغی چیک پوسٹ کے دفعدار کو معطل کر کے مقدمہ درج کرایا تھا جس کے بعد سے ڈپٹی کمشنر اور اسسٹنٹ کمشنر کے درمیان اختیارات کی جنگ شروع ہوئی جو گزشتہ دنوں منشیات اور کیمیکلز پڑے جانے کے بعد منظر عام پر آ گئی۔

اس سلسلے میں ڈپٹی کمشنر کے موبائل فون پر کئی بار رابطہ کیا مگر انہوں نے فون اٹینڈ نہیں کیا جب ان کے گھر پر رابطہ کیا گیا تو آپریٹر نے بتایا کہ صاحب سرکٹ ہائوس میں میٹنگ میں گئے ہوئے ہیں۔

اسسٹنٹ کمشنر سے رابطہ کیا تو انہوں نے کہا کہ میں کچھ دیر بعد کال کرتی ہوں مگر ان کی کال آئی اور نہ انہوں نے دوبارہ کال اٹینڈ کی۔ اسسٹنٹ کمشنر دالبندین انجینئر عائشہ زہری نے اپنی پریس کانفرنس میں الزام لگایا تھا کہ لیویز تھانہ کے انچارج نے برآمد ہونے والے کیمیکل کو اپنی تحویل لینے سے انکار کر دیا تھا۔ 

بقول اے سی کے دفعدار کا کہنا تھاکہ ڈی سی چاغی فتح محمد خجک نے اسے سختی سے منع کیا ہے کہ اسسٹنٹ کمشنر دالبندین جو بھی چیز لائیں اس کی ایف آئی آر درج کرو اور نہ ہی سامان کو اپنی تحویل میں لو۔ 

عائشہ زہری کا کہنا تھا کہ انہیں سمجھ نہیں آرہی کہ انہوں نے کٹھن حالات میں جان ہتھیلی پر رکھ کر فائرنگ کے تبادلے کے بعد کروڑوں روپے کا کیمیکل برآمد کیا اور امید تھی کہ مجھے شاباشی و تعریفی جملے سننے کو ملیں گے لیکن اس کے برعکس میرا کیس درج نہیں کیا جا رہا۔

عائشہ زہری کی پریس کانفرنس جنگل میں آگ کیطرح پھیل گئی جس کے بعد بحالت مجبوری ایف آئی آر درج کی گئی۔ اور عائشہ زہری کو ہی مدعی بنایا گیا۔ حالانکہ ایسے واقعات کی ایف آئی آر دفعدار کی مدعیت میں درج کی جاتی ہے۔

ڈپٹی کمشنر چاغی فتح خان خجک نے اے سی کے پریس کانفرنس کے بعد اپنا موقف جاری کرتے ہوئے کہا کہ بے بنیاد الزامات لگائے گئے ہیں۔

تازہ ترین