• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

KP، دہشت گردوں کیلئے سازگار سیاسی ماحول، وہاں آپریشن نہ کریں تو کیا خوارج کے پیروں میں بیٹھ جائیں، ڈی جی ISPR

راولپنڈی(ایجنسیاں/مانیٹرنگ ڈیسک ) پاک فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کا کہنا ہے کہ دہشت گردی کے 80فیصد واقعات خیبر پختونخوا میں ہوئے جس کی وجہ یہ ہے کہ وہاں دہشتگردوں کو سازگار سیاسی ماحول فراہم کیا جاتا ہے‘خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ کا بیانیہ بھی کھل کر سامنے آگیا ہے‘ یہ آپریشن نہیں فتنہ الخوارج میں مقبولیت چاہتے ہیں ‘ اگر ملٹری آپریشن نہیں کرنا تو کیا خوارج کے پیروں میں بیٹھنا ہے؟کوئی ان سے پوچھے آپ کو طالبان سے کیامحبت ہے ‘کس کے کہنے پر پورے ملک کو اس آگ میں جھونک رہےہیں؟ آپ کواجازت نہیں کہ اپنی سیاست کیلئے صوبے کو دہشت گردوں کے حوالے کردیں‘افغانستان کے ساتھ سرحد کی بندش کے فوائد سامنے آنے لگے ہیں‘ دہشت گردحملوں میں واضح کمی آئی ہے ‘پاکستان دہشت گردی کو مذاکرات نہیں بلکہ مکمل عسکری قوت سے شکست دے گا‘افغانستان اور بھارت مل کر آجائیں، دونوں کا شوق پورا کردیں گے‘آپریشن سندور کی کالک ابھی تک انڈیا کے منہ پر ہے ‘معرکہ حق میں بھارت کا منہ کالا کیا گیا‘کسی کی سیاست اور ذات پاکستان سے بڑھ کر نہیں ‘ ہمارے لیے تمام سیاسی جماعتیں‘تمام صوبے اور تمام فرقے برابر ہیں‘ آج کی حکومت بھی بااختیار ہے اور پہلے کی حکومتیں بھی بااختیار تھیں‘وہ بااختیار وزیراعظم تھا جو کہتا ہے کہ وہ بے اختیار تھا ‘ وہ اتنا بااختیار تھا کہ اس نے اس وقت کے آرمی چیف کو قوم کا باپ ڈکلیئر کردیا تھا‘ہم تو یہ سمجھتے ہیں کہ قوم کا ایک ہی باپ قائداعظم محمد علی جناح ہے۔ جاپان‘چین، امریکا سب یہی بات کر رہے ہیں‘ ایران اور یورپ نے افغانوںکو نکالنا شروع کیا، امریکا بھی کہہ رہا ہے کہ ان کو یہاں سے نکالنا ہے یہ دہشت گردی میں ملوث ہیں‘بھارت کی سرپرستی میں افغانستان دہشت گردوں کی آماجگاہ بن چکا ہے اور دنیا بھر کی مختلف دہشت گرد تنظیمیں وہاں سے آپریٹ کر رہی ہیں، القاعدہ‘ داعش‘ بی ایل اے اور ٹی ٹی پی جیسے گروہوں کے ٹھکانے افغانستان میں موجود ہیں‘ لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے عمران خان پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اپنی جماعت کو ایک ڈکٹیٹر کی طرح چلایا‘ پوری جماعت اس ایک بندے کے گرد گھومتی تھی اور اس وقت پوری حکومت بھی ان کے گرد ہی گھومتی تھی‘اس وقت بھی ان کو تھا کہ بات چیت کرو، بات چیت کرو اور وہ جس چیز کے پیچھے پڑ جاتا ہے، پڑ جاتا ہے‘ جو اس وقت ڈی جی آئی ایس آئی تھے، وہ اس وقت کہاں ہیں‘جن کو انہوںنے اپنی سیاست کے لیے استعمال کیا۔ آپ اسے ادارے پر نہیں لگا سکتے یہ شخصیات کا کھیل تھا۔ منگل کو یہاں پریس کانفرنس کرتے ہوئےپاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ سیاسی و عسکری قیادت ایک پیج پر ہے‘ایک فرد کے پی میں دہشت گردی لایا، عوام کو ایسے شخص پر نہیں چھوڑ سکتے‘ پاکستان میں دہشت گردی ہندوستان کی سرپرستی میں ہوتی ہے‘افغان طالبان کو مودی کی شکل میں ایک نیا ہیرو مل گیا ہے‘ ہمیں آئینی اور قانونی حکم ہے کہ پاکستان اور اس کی ٹیریٹری کی حفاظت کریں، یہ اسمبلی میں بیٹھ کر جھوٹا بیانیہ بناتے ہیں، فوج کیا وہاں معدنیات نکالنے کے لیے بیلچے لے کر گئی ہے‘کیا خارجی نور ولی محسود کو صوبے کا وزیر اعلیٰ لگادیا جائے‘اس کی بیعت کر لی جائے، کیا ہیبت اللہ صاحب بتائیں گے چارسدہ میں کیا ہوگا؟ٹیکس پیئر کا حلال کا پیسہ اس جنگ پر لگ رہا ہے، ڈالر تو افغان طالبان کو مل رہے ہیںجو ہندوستان سے پیسوں کے معاہدے کر رہے ہیں‘امریکا اور اتحادی فوج کے انخلاء سے افغان طالبان کا کوئی تعلق نہیں‘ افغان طالبان، خوارج اور ہندوستان کاگٹھ جوڑکھل کر سامنے آگیاہے ‘اس سال کچھ اور باریک وارداتیے بھی سامنے آئے ہیں‘خیبرپختونخوا میں دہشتگردی کے 80 فیصد واقعات کی بنیادی وجہ وہاں میسر سازگار سیاسی ماحول اور کریمنل ٹیرر گٹھ جوڑ ہے‘بھارت کی سرپرستی میں افغانستان دہشت گردوں کی آماجگاہ بن چکا ہے جہاں سے وار اکانومی چلانے کے لئے دہشتگردی کو سپانسر کیا جا رہا ہے‘ریاست اپنے ایک ایک بچے کے تحفظ کے لئے پرعزم ہے۔

اہم خبریں سے مزید