• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

حکومت نے 364 نئی ترقیاتی اسکیمز PSDP فہرست میں شامل کردیں

اسلام آباد (مہتاب حیدر) پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے موجودہ مالی سال 2019-20 میں مسلم لیگ نون دور کے سیکڑوں منصوبوں کو ختم کرنے کے بعد 364 نئی ترقیاتی اسکیموں کو پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام (پی ایس ڈی پی) کی فہرست میں شامل کردیا۔ 

تاہم پی ایس ڈی پی میں نئے شامل کئے گئے منصوبوں میں سے 50 فیصد سے زائد موجودہ مالی سال 2019-20 کے سات ماہ گزر جانے کے باوجود اب بھی غیرمنظور شدہ ہیں۔ 

دی نیوز کو خصوصی طور پر دستیاب مختلف وزارتوں یا ڈویژنز کی سرکاری دستاویز کے مطابق ان 364 منصوبوں میں سے اب تک تقریباً 167 منصوبوں کو مجاز فورمز جیسے کہ سینٹرل ڈویلپمنٹ ورکنگ پارٹی (سی ڈی ڈبلیو پی) سے کلیئر کرایا جاسکا ہے جبکہ 197 منصوبوں کو اب بھی منظوری کا انتظار ہے۔ 

سرکاری ذرائع نے دی نیوز کو تصدیق کی کہ تحریک انصاف کی حکومت نے پی ایس ڈی پی کی فہرست سے سیکڑوں منصوبے ختم کردئیے جو گزشتہ نون لیگی حکومت کی جانب سے شامل کئے گئے تھے۔ 

تاہم منصوبہ بندی کمیشن کے ایک اعلیٰ افسر نے بتایا کہ نون لیگ دور کے تمام غیرمنظور شدہ منصوبوں کو موجودہ مالی سال کے بجٹ سے باہر نکال دیا گیا ہے لیکن اس سے قبل ان منصوبوں کو پی ٹی آئی حکومت کے پہلے سال 2018-19 میں ختم کیا گیا تھا جہاں استعمال معمولی رقم پر تھا جو 5 تا 10 فیصد سے کم تھا۔ 

پی ایس ڈی پی فہرست میں شامل کئے گئے نئے منصوبوں سے پتہ چلتا ہے کہ سول ایوی ایشن ڈویژن کے نو منصوبے ہیں جن کی تخمینہ شدہ مجموعی لاگت 2.696 ارب روپے ہے جس میں سے پی ایس ڈی پی موجودہ مالی سال کیلئے مختص رقم 237.973 ملین روپے ہے۔ 

کابینہ ڈویژن کے سات نئے منصوبے ہیں جن کی تخمینہ لگائی گئی لاگت 25.741 ارب روپے ہے جس میں سے 7.515 ارب روپے مختص ہیں۔ حکومت نے سندھ میں وزیر اعظم پروگرام کے تحت ترقیاتی اسکیموں کیلئے 12.750 ارب روپے لاگت کا تخمینہ لگایا ہے اور اس منصوبے کیلئے مجوزہ مختص رقم 5 ارب روپے ہے۔ 

موسمی تغیرات کے ڈویژن کے دو نئے منصوبے ہیں جن کی تخمینہ شدہ لاگت 125.228 ارب روپے ہےجبکہ اس کیلئے مختص رقم 15 ملین روپے ہے۔ 

کامرس ڈویژن کا ایک منصوبہ شامل کیا گیا ہے جس کی لاگت کا تخمینہ 2.677 ارب روپے لگایا گیا ہے اس منظور شدہ منصوبے کیلئے مختص رقم 100 ملین روپے ہے۔ 

مواصلات ڈویژن کا ایک منصوبہ ہے جس کی لاگت کا تخمینہ 56 ملین روپے ہے جبکہ اس کیلئے 19 ملین روپے مختص کئے گئے ہیں۔ نیشنل ہائی وے اتھارٹی کے 41 نئے ترقیاتی منصوبے ہیں جن کی تخمینہ شدہ مجموعی لاگت 609.715 ارب روپے ہے لیکن اس کیلئے 31.352 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں۔ 

دفاع ڈویژن کے تین منصوبوں کی تخمینہ لگائی گئی لاگت 1217 ملین روپے ہے جبکہ موجودہ مالی سال میں اس کیلئے 40.633 ملین روپے مختص کئے گئے ہیں۔ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے چار ترقیاتی منصوبے ہیں جن کی تخمینہ شدہ لاگت 505 ملین روپے ہے ۔ 

فیڈرل ایجوکیشن اینڈ پرافیشنل ٹریننگ ڈویژن کے 17 نئے منصوبے ہیں جن کی تخمینہ شدہ لاگت 16.9 ارب روپے ہے جبکہ حکومت نے اس کیلئے 2.210 ارب روپے مختص کئے ہیں۔ فنانس ڈویژن کے 10 نئے ترقیاتی منصوبے ہیں جن کی تخمینہ شدہ لاگت 21.953 ارب روپے ہے جبکہ 29.774 ملین روپے اس کیلئے مختص کئے گئے ہیں۔ 

ہائر ایجوکیشن کمیشن کے 15 نئے منصوبے ہیں اور ان کی لاگت کا تخمینہ 37.234 ارب روپے لگایا گیا ہے جبکہ اس کیلئے 3.609 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں۔ 

انسانی حقوق ڈویژن کے 3 نئے منصوبے ہیں جن کی تخمینہ شدہ لاگت 173.5 ملین روپے ہے، انفارمیشن ٹیکنالوجی کے 19 منصوبوں کی لاگت •2.606 ارب روپے، کشمیر امور اور گلگت بلتستان کے 3 نئے منصوبوں کی تخمینہ شدہ لاگت 8.999 ارب روپے ہے۔

تازہ ترین