آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
منگل30؍ جمادی الثانی 1441ھ 25؍فروری 2020ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

کینسر سے ڈی این اے میں برسوں قبل تبدیلیاں ہونے کا انکشاف

لندن ( جنگ نیوز) کینسر کے نتیجے میں جینیاتی نظام میں ہونے والے مسائل اکثر اوقات کئی برس بلکہ دہائیوں قبل ہی ہونے لگتے ہیں ۔ یہ بات کینسر کے حوالے سے ہونے والی ایک بین الاقوامی تحقیق میں سامنے آئی ۔ ویلکم سانگر انسٹی ٹیوٹ، ڈیوک این یو ایس میڈیکل اسکول سنگاپور، کیلیفورنیا یونیورسٹی، میساچوسٹس انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی اور ہارورڈ یونیورسٹی کی مشترکہ تحقیق میں دنیا بھر میں کینسر کے نتیجے میں ڈی این اے کو نقصان پہنچنے کے عمل کے جینیاتی فنگرپرنٹس کا انکشاف کیا گیا۔سائنس دانوں نے اب تک کے سب سے تفصیلی جینیاتی فنگرپرنٹس کو مرتب کیا جس سے یہ اشارے ملتے ہیں کہ ہر قسم کا کینسر کس طرح جسم میں بنتا ہے۔اس سے سائنس دانوں کو نامعلوم کیمیکلز، حیاتیاتی گزرگاہوں اور کینسر کا باعث بننے والے ماحولیاتی عناصر کی تلاش میں بھی مدد ملے گی۔ تحقیق گلوبل پان کینسر پراجیکٹ کا حصہ ہے جس کا مقصد کینسر کے اسباب کو سمجھنے اور روک تھام کی حکمت عملیوں کو تشکیل دینے میں مدد فراہم کرنا ہے۔ اس کے علاوہ تشخیص اور طریقہ علاج کی تشکیل کو بھی ممکن بنانا ہے۔ اس پراجیکٹ سے منسلک 22 مزید تحقیقی رپورٹس کو بھی جریدے نیچر میں شائع کیا گیا جو دنیا کے 37 ممالک میں کی گئی ہیں اور ان میں مختلف اقسام کی 38 رسولیوں میں 26 سو سے زائد جینومز کا تجزیہ کیا

گیا ۔ ماہرین کےمطابق کینسر سے جینیاتی تبدیلیاں آتی ہیں اور ایک خلیے کا ڈی این اے بدل جاتا ہے جس کےنتیجے میں وہ بے قابو انداز میں ایک سے دو اور سیکڑوں کی تعداد میں پھیل جاتا ہے۔ ماضی کی تحقیقی رپورٹس میں یہ بات سامنے آ چکی ہے کہ کینسر کے معلوم اسباب جیسے سورج کی مضر شعاعیں اور تمباکو نوشی ڈی این اے میں تباہی کے مخصوص فنگرپرنٹ بناتی ہیں ، جن سے یہ سمجھنے میں مدد مل سکتی ہے کہ کینسر کیسے جسم میں پھیلا، کس حد تک پھیل سکتا ہے اور کیسے اس کی روک تھام ممکن ہو سکتی ہے۔محققین کا کہنا تھا کہ کچھ اقسام کے ڈی این اے فنگرپرنٹس عکاسی کرتے ہیں کہ کینسر کس طرح دوائوں پر ردعمل ظاہر کرتا ہے۔ اس حوالے سے مزید تحقیق میں کئی اقسام کے کینسر کی تشخیص اور اس کی روک تھام کیلئے موثر دوائوں کی شناخت میں مدد مل سکے گی۔انہوں نے بتایا کہ جینومز کی بڑی تعداد میں دستیابی سے ہمیں جدید تجزیاتی طریقہ کار کے اطلاق میں مدد مل سکے گی اور مزید جینیاتی خرابیوں کے بارے میں تحقیق کو وسیع کیاجا سکےگا ۔ انہوں نے کہاکہ اس نئے ذخیرے سے ڈی این اے کے نقصان یا مرمت کے حیاتیاتی اور کیمیائی تجزیے کی زیادہ بہتر تصویر مل سکے گی جس سے طبی ماہرین جینوم پر کینسر کے اثرات کا تعین کر سکیں گے۔

یورپ سے سے مزید