آپ آف لائن ہیں
منگل13؍شعبان المعظم 1441ھ 7؍اپریل2020ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

فوڈ اینڈ نیوٹریشن کا شعبہ حکومتی عدم توجہی کا شکار

خاور نیازی، لاہور

ایک وقت تھا، جب پاکستان میں عمومی طور پر دو قسم کے ڈاکٹر ہوتے تھے،ایک فزیشن اور دوسرا سرجن۔ یہ وہ وقت تھا، جب مخصوص امراض کے خصوصی معالج کا تصوّر نہیں تھا۔جنرل فزیشن مجموعی طور پر ہر قسم کے امراض کا علاج اور ادویہ تجویز کرتا، جب کہ سرجن ،جو عموماًجنرل سرجن ہوتا ، تقریباً ہر قسم کے آپریشن کرتا۔ وقت کے ساتھ ساتھ پاکستان میں شعبۂ طِب نے بھی ترقّی کی اور رفتہ رفتہ یہاں جسم کے ہر عضو کے الگ الگ ماہر ڈاکٹرز سامنے آنے لگے۔

اسے المیہ کہیے یا ہماری بد قسمتی کہ ہرنئی ٹیکنالوجی کی سہولت ہمیں تب میّسرآتی ہے، جب مغرب کے لیے وہ خاصی پرانی ہوچکی ہوتی ہے کہ ہمارے ہاں تحقیق و عمل کا رجحان انتہائی کم ہے، جب کہ ایجادات کی طرف تو کسی کا دھیان ہی نہیں جاتا۔ گوکہ ہمارے مُلک میں شعبۂ طِب اب بہت ترقّی کر چُکا ہے، مگر افسوس کہ اب بھی ہم مغرب سے بہت پیچھے ہیں۔ جیسےشعبۂ طِب کا انتہائی اہم شعبہ ، ’’غذائیات‘‘ (نیوٹریشن)ہمارے ہاں وہ حیثیت حاصل نہیںکر سکا، جو اسے مغرب میں حاصل ہے۔

بدقسمتی سے نہ تو ہمارے طبّی ماہرین اور نہ ہی حکومت کو اس امر کا ادراک ہے کہ شعبۂ طِب کےکتنے اہم شعبے کو انہوں نے نظرانداز کر رکھا ہے۔ جب کہ ترقّی یافتہ ممالک میں ہر معالج (ڈاکٹر)کے ساتھ ایک ماہرِاغذیہ (نیوٹریشینسٹ) کی موجودگی لازم ہےکہ معالج ، مرض کے مطابق ادویہ تجویز کرکےمریض کو ماہرِا غذیہ کے پاس بھجواتا ہےاور پھر وہ مرض کے مطابق، مریض کی غذا کا تعیّن کرتا ہے ،کیوں کہ جب تک مریض ،مرض کے اعتبار سےغذا کا صحیح استعمال نہیں کرے گا، وہ جلد صحت یاب نہیں ہوسکتا ۔ یہی ایک وجہ ہے کہ اکثر مریض وقت پر دوا کھانے کے باوجو د صحت یاب نہیں ہوپاتے، کیوں کہ نامناسب خوراک کی وجہ سے ادویہ بھی درست طور پر اثر نہیں کرتیں۔

ہمارے نظام کا المیہ یہ ہے کہ میڈیکل کالجز میںبھی خوراک کے بارے میں خصوصی طور پریا زیادہ گہرائی سے نہیں پڑھایا جاتا ،جب کہ ترقّی یافتہ ممالک میں بہت پہلے سے غذائیات کے شعبے کو ادویہ کے شعبے سے الگ کرکے اس کی اہمیت کو اُجاگر کیاگیا ہے۔گرچہ اب پاکستان میں بھی غذائیات کا علیحدہ شعبہ ہے اور اس کی تعلیم بھی دی جاتی ہے،مگربدقسمتی سے اسے وہ اہمیت حاصل نہیں ہو سکی، جو مغربی ممالک میں حاصل ہے۔ 

مُلک کے جن تعلیمی اداروں میں فوڈ اینڈ نیوٹریشن کی تعلیم کا شعبہ قائم ہے،وہاں بھی اسے جدید اور میکینیکل نیوٹریشن کے طو رپر رائج کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔کتنے دُکھ کی بات ہےکہ سائنس اور طِب نے وقت کے ساتھ ترقّی توکرلی ہے، لیکن ماہرِ اغذیہ کو آج بھی اہمیت نہیں دی جاتی۔ حکومتِ وقت کو چاہیے کہ وہ اس شعبے کی اہمیت اُجاگر کرنے میں اپناکردار ادا کرے۔گرچہ مُلک کے چند بڑے سرکاری اسپتالوں میں فوڈ اینڈنیوٹریشن کے شعبے قائم تو کیے گئے ہیں، لیکن شاید ہی کسی اسپتال میں ایک یا دو سے زائد نیوٹریشینسٹ تعینات کیے گئے ہوں۔

خاص طور پر دیہی علاقوں میں قائم اسپتالوں میں توماہرینِ اغذیہ کی موجودگی لازمی ہے تاکہ غیر تعلیم یافتہ یا کم پڑھے لکھے افراد کو دورانِ علاج خوراک سے متعلق مکمل آگاہی فراہم کی جا سکے۔سو، حکومتِ وقت سے گزارش ہے کہ فوڈ ایند نیوٹریشن کے اہم شعبے کی ترقّی و فروغ کے لیے کوشش کرے۔ تمام میڈیکل کالجز میں ڈینٹل سرجن، فزیوتھراپسٹ اور نرسنگ وغیرہ کی طرح باقاعدہ فوڈ اینڈ نیوٹریشن کی تعلیم کا آغاز کیا جائے۔ ہر سرکاری اسپتال میں مریضوں کی تعداد کے مطابق نیوٹریشینسٹ کی موجودگی لازمی قرار دی جائےاورپرائیویٹ اسپتالوں کو بھی ان کی موجودگی کا پابندبنایا جائے۔یاد رکھیں! کوئی بھی قوم اس وقت تک ترقّی کی منازل طے نہیں کر سکتی، جب تک کہ صحت و تعلیم اس کی ترجیحات میں شامل نہ ہوں۔

سنڈے میگزین سے مزید