آپ آف لائن ہیں
اتوار18؍ذی الحج 1441ھ 9؍اگست 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

چشمِ فلک نے اپنے آبائی علاقوں، گھر بار، مال و اسباب اور لاتعداد عزیز و اقارب کی لاشیں چھوڑ کر انتہا پسند ہندوئوں اور سکھوں کے مسلح جتھوں کے ہاتھوں قتلِ عام سے بچنے کے لئے پاکستان میں پناہ لینے والے لاکھوں مہاجرین کا ایک طوفانی ریلا 1947میں دیکھا۔ حکومتِ پاکستان نے شدید مشکلات اور کم وسائل کے باوجود اسے سنبھالا۔ عوام خصوصاً پنجاب اور سندھ کے مسلمانوں نے لُٹے پُٹے لوگوں کی جس طرح مدد کی وہ اب تاریخ کا حصہ ہے۔ مہاجرین کا دوسرا بڑا سیلاب چار عشرے قبل افغانستان سے آیا جب غیرملکی جارحیت اور خانہ جنگی سے بچنے کے لئے 45لاکھ افغان سرحد عبور کرکے پاکستان میں داخل ہو گئے۔ ان میں سے کچھ وقت گزرنے کے ساتھ واپس چلے گئے مگر اب بھی 27لاکھ یہاں موجود ہیں۔ پاکستان اور اس کے عوام نے ان کی دل کھول کر مہمان نوازی کی جس کا جائزہ لینے کے لئے پیر کو اسلام آباد میں ’’پاکستان میں افغان مہاجرین کے قیام کے40سال‘‘ کے موضوع پر عالمی کانفرنس منعقد ہوئی۔ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان، اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس اور دوسرے رہنمائوں نے مہاجرین کے حوالے سے پاکستان کے مسائل اور عالمی برادری کی ذمہ داریوں کا احاطہ کیا۔ وزیراعظم نے کانفرنس کے شرکا کو بتایا کہ پاکستان نے اس کے باوجود کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے خود معاشی بحران کا شکار رہا ہے، لاکھوں افغان مہاجرین کو پناہ دی۔ نائن الیون کے واقعہ کے بعد اسلامو فوبیا کے پرچار سے اسلام اور دہشت گردی کو ایک دوسرے کے ساتھ جوڑا گیا، پاکستان بھی دہشت گردی کا شکار ہوا۔ یہاں اب دہشت گردوں کے محفوظ ٹھکانے ختم ہو چکے ہیں مگر لاکھوں افغان مہاجرین کی موجودگی میں انتہا پسندی ختم کرنے کی ضمانت نہیں دی جا سکتی۔ انہوں نے سوال کیا کہ مہاجرین کے کیمپوں سے چند ہزار عسکریت پسند کیسے پکڑے جا سکتے ہیں؟ وزیراعظم نے بھارت میں امتناع قانون شہریت کے نفاذ کا ذکر کرتے ہوئے خدشہ ظاہر کیا کہ اس کے نتیجے میں پاکستان کو مہاجرین کے ایک نئے ریلے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ جس سے ہماری معیشت پر مزید بوجھ پڑے گا اور عالمی برادری نے اس کا نوٹس نہ لیا تو اس سے دنیا کے امن کو بھی خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔ بھارت میں انتہا پسندی کی سوچ غالب آچکی ہے اور 80لاکھ کشمیری کئی ماہ سے محاصرے میں ہیں۔ اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے مہاجرین کی موثر دیکھ بھال پر پاکستان کو خراجِ تحسین پیش کیا اور کہا کہ اس نے 40 سال سے افغان مہاجرین کے لئے اپنے دروازے کھلے رکھے۔ یہ سخاوت دہائیوں اور نسلوں پر محیط ہے جو دنیا کی تاریخ میں ایک ریکارڈ ہے۔ پاکستان آج بھی مہاجرین کی میزبانی کرنے والا دنیا کا دوسرا بڑا ملک ہے۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ پاکستان کی خدمات کے مقابلے میں عالمی برادری کا تعاون بہت کم رہا۔ اب بھی وقت ہے کہ دنیا آگے بڑھے اور مہاجرین کی پاکستان سے واپسی میں مدد کرے۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے اس بات پر زور دیا کہ افغان مہاجرین کی واپسی کے لئے تمام شراکت دار اپنا کردار ادا کریں۔ اسلام آباد میں اس کانفرنس کے موقع پر کوئٹہ میں دہشت گردی کا ایک اور واقعہ ہوا جس میں 2پولیس اہلکاروں سمیت 8افراد شہید ہو گئے۔ اس سے وزیراعظم عمران خان کا یہ خدشہ درست ثابت ہوا کہ لاکھوں افغان مہاجرین کے کیمپوں میں عسکریت پسندوں کی موجودگی خارج از امکان قرار نہیں دی جا سکتی۔ کوئٹہ میں اس خود کش بم دھماکے کا واقعہ اس بات کا متقاضی ہے کہ افغان امن عمل کو مذاکرات کے ذریعے جلد پایہ تکمیل تک پہنچایا جائے تاکہ مہاجرین کی جلد از جلد وا پسی کی راہ ہموار ہو۔