آپ آف لائن ہیں
پیر12؍شعبان المعظم 1441ھ 6؍اپریل 2020ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

ایسے حالات میں جب تحریک انصاف کی حکومت کے ڈیڑھ سال مکمل ہو چکے ہیں، خود سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ملک میں مہنگائی 5.8سے بڑھ کر 14.6فیصد تک، یعنی پچھلے 10سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے۔ وزیراعظم عمران خان نے عام آدمی کی مشکلات کے خاتمے کے لیے بعض اہم اقدامات کا اعلان کیا ہے جس کے نتیجے میں توقع ہے کہ نہ صرف کھانے پینے اور دیگر اشیا کے نرخوں میں استحکام آئے گا بلکہ ملکی معیشت میں بھی بہتری آئے گی۔ وزیراعظم نے منگل کو جن اقدامات کا حکم دیا ہے ان میں اشیائے خور و نوش کی اسمگلنگ کی روک تھام کیلئے ملک بھر میں بڑے پیمانے پر فوری کریک ڈائون سب سے اہم ہے۔ وزارتِ داخلہ اور قانون نافذ کرنے والے وفاقی و صوبائی اداروں، ایف بی آر اور صوبائی حکومتوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ مشترکہ طور پر اسمگلنگ روکنے کیلئے فوری کارروائی کریں، ذخیرہ اندوزوں کے خلاف بھی فیصلہ کن کارروائی کا حکم دیا گیا ہے۔ بجلی، پیٹرول، ڈیزل اور گیس کی قیمتوں میں ممکنہ حد تک کمی کیلئے 48گھنٹے کے اندر سفارشات پیش کرنے کے علاوہ یہ ہدایت بھی کی گئی ہے کہ کھانے پینے کی اشیا 15سے 20فیصد تک سستی کی جائیں۔ وزیراعظم نے ایک اجلاس میں ان اقدامات کا مقصد عوام خصوصاً کم آمدنی والے لوگوں کو ریلیف فراہم کرنا بتایا ہے جو بلاشبہ نہایت مستحسن ہے۔ پاکستان سے

نہ صرف روز مرہ استعمال کی ضروری اشیا بلکہ انسانوں کی اسمگلنگ بھی ہو رہی ہے جس سے ملک کھربوں روپے کے سامان اور افرادی قوت سے بھی محروم ہو رہا ہے۔ ملکی معیشت اسی کے نتیجے میں تباہی کا شکار ہے اور مہنگائی میں روز بروز اضافے سے غریب اور متوسط طبقہ کی زندگی اجیرن ہو رہی ہے۔ اسمگلنگ، ذخیرہ اندوزی اور منافع خوری روکنے کیلئے قوانین پہلے سے موجود ہیں لیکن ان پر موثر عمل نہیں ہو رہا۔ وزیراعظم کے نئے احکامات پر سختی سے عمل کیا گیا تو صورتحال میں یقینی بہتری آئے گی اور عوام کو سکھ کا سانس نصیب ہوگا۔

تازہ ترین