آپ آف لائن ہیں
منگل13؍شعبان المعظم 1441ھ 7؍اپریل2020ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

دنیا بھر میں کہیں کوئی ایسی مثال نہیں ملتی کہ کسی ملک نے اپنی معیشت کو مقامی بنیادیں فراہم کیے بغیر آسودگی و خوشحالی کا منہ دیکھا ہو۔ ہم نے یہی نکتہ فراموش کیے رکھا اور اس کے بجائے قرضوں اور امدادوں پر زیادہ انحصار نے نہ صرف ہمیں مقروض کیا بلکہ ہماری معیشت کو بھی مستحکم نہ ہونے دیا۔ یہ امر خوش آئند ہے کہ موجودہ حکومت اس کوتاہی کے ازالے کے لئے کوشاں ہے۔ جمعے کے روز لیہ میں احساس پروگرام ’’میرا کاروبار میری آمدنی‘‘ کے تحت مستحق افراد میں اثاثہ جات کی تقسیم کی افتتاحی تقریب سے خطاب میں وزیر اعظم نے کہا کہ خواتین کو ایک گائے، ایک بھینس اور تین بکریاں دے رہے ہیں تاکہ وہ اپنا گھر چلا سکیں ۔ تعلیم، صحت، انصاف اور تھانوں کے نظام کی بہتری کی یقین دہانی بھی انہوں نے کرائی۔ بلاشبہ جس معاشرے میں ان امور کو یقینی بنا لیا جائے اسے ترقی کرنے سے کوئی نہیں روک سکتا۔ صحت، تعلیم اور انصاف انسان کے بنیادی حقوق ہیں، جن کی فراہمی ریاست کی ذمہ داری ہے۔ حکومت کا اس سلسلے میں عزم قابل ستائش ہے۔ پاکستان ایک زرعی ملک ہے اور ہماری آدھی سے زیادہ آبادی آج بھی بالواسطہ یا بلاواسطہ زراعت سے منسلک ہے، مویشی پالنا بھی دراصل زراعت ہی کی ایک شاخ ہے اور دیہات میں رہنے والوں کیلئے مویشی اہم اثاثہ ہوتے ہیں۔ متذکرہ اقدام سے نہ صرف خواتین خودکفیل ہوں گی بلکہ ملک میں دودھ اور گوشت کی ضروریات کی تکمیل میں بھی سہولت ہوگی۔ اس حوالے سے زراعت پر بھی حکومت کو بھرپور توجہ دینا ہوگی۔ اسمال انڈسٹریز کے حوالے سے بھی ایسے اقدامات کیے جانے چاہئیں۔ یہ کام اور اقدام بظاہر معمولی دکھائی دیتے ہیں لیکن ان پر نیک نیتی سے توجہ دی جائے تو یہ ملکی معیشت کے استحکام کی بنیاد بن سکتے ہیں۔

اداریہ پر ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائے دیں00923004647998

تازہ ترین