آپ آف لائن ہیں
ہفتہ14؍شوال المکرم 1441ھ6؍جون 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

بچوں میں مطالعہ کا شوق پروان چڑھائیں

تعلیم کے میدان میں ایک چیز جو طالب علموں کی کامیابی میں اہم کردار ادا کرتی ہے، وہ ہے ان میں ’’مطالعہ کا شوق‘‘۔ طالب علموں کی نصابی یا غیر نصابی کتابوں سے اچانک دوستی نہیں ہوسکتی، ان میں ’’کتب دوستی‘‘ کی عادت کو چھوٹی عمر سے پروان چڑھانا پڑتا ہے۔ اس سلسلے میں والدین کا کردار انتہائی اہم ہوتا ہے کہ وہ کم عمری سے ہی اپنے بچوں کو کتابوں سے دوستی کرنا سکھائیں۔ اس حوالے سے مندرجہ ذیل مشورے مفید ثابت ہوسکتے ہیں۔

روزانہ مطالعہ کا وقت مقرر کرنا

محققین کا کہنا ہے کہ جب والدین اپنے بچوں کو چھوٹی عمر سے ہی ان کی دلچسپی کی کہانیاں کتابوں سے پڑھ پڑھ کر سُناتے ہیں تو نہ صرف بچوں میں خود بھی مطالعہ کا شوق پیدا ہوتا ہے بلکہ وہ مختلف تحاریر اور الفاظ کے معنی و مفہوم کو جلد اور بہتر طور پر سمجھنے کےقابل بن جاتے ہیں۔ ساتھ ہی، بچوں کے الفاظ کا ذخیرہ بھی بڑھتا چلا جاتا ہے۔ چاہے آپ کا بچہ پری اسکولر ہے، کنڈر گارٹن میں ہے یا پھر ٹین ایجر ہے، آپ کی جانب سے انھیں با آواز بلند کتابیں پڑھ کر سُنانے کی محنت رنگ لائے گی اور وہ ان بچوں کے مقابلے میں بہتر ہو گا، جنھیں ان کے والدین کتابوں سے کہانیاں پڑھ کر نہیں سُناتے۔

ارد گرد مطالعہ کا مواد جمع کرنا

حالیہ برسوں میں بچوں کے ارد گرد مطالعے کا مواد جمع کرنے کے حوالے سے دنیا کے مختلف ملکوں میں ایک وسیع تر سروے ہوچکا ہے۔ اس سروے کے نتائج بتاتے ہیں کہ وہ بچے جنھیں گھر میں مطالعے کے لیے زیادہ کتابیں میسر ہوتی ہیں، وہ تعلیمی میدان میں ان بچوں سے آگے رہتے ہیں، جنھیں گھر میں مطالعے کا ماحول فراہم نہیں کیا جاتا۔ سروے کے مطابق، گھر میں مطالعے اور کتابوں کے بچوں پر اثرا ت اس وقت ظاہر ہوتے ہیں، جب گھر میں بچے کو کم از کم 45کتابیں میسر ہوں۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ، والدین کو اپنے بچوں کے لیے گھر کے کسی کونے میں ایک چھوٹی سی لائبریری یا ’’ریڈنگ کارنر‘‘ ضرور بنانا چاہیے۔

فیملی ریڈنگ ٹائم

گھر میں روزانہ 15سے 30منٹ دورانیہ کا ایک وقت مختص کریں، جس میں گھر کا ہر فرد انفرادی طور پر خاموشی سے مطالعہ کرے۔ جب گھر میں موجود چھوٹا بچہ، اپنے بڑوں کو مطالعہ کرتے دیکھے گا تو یہ عادت اس میں بھی پیدا ہوگی۔ اگر والدین چاہتے ہیں کہ ان کے بچوں میں مطالعہ کا شوق پیدا ہو تو والدین کو اپنے بچوں کو کتابیں پڑھنے کی تلقین کرنے کے بجائے خود ان کے لیے رول ماڈل بننا ہوگا۔ آپ کے روزانہ کے کم از کم 15منٹ اس مقصد کے حصول میں معاون و مددگار ثابت ہوسکتے ہیں۔

مطالعہ کی حوصلہ افزائی

پڑھائی اور مطالعہ کی عادت کو اپنے بچوں کی زندگی کا لازمی حصہ بنائیں۔ ان کے ساتھ گھر میں مخصوص اوقات میں کتابیں پڑھنے کے علاوہ آپ چلتے پھرتے اور گاڑی میں جاتے وقت بھی ان کی اس عادت کی حوصلہ افزائی کرسکتے ہیں۔ مثلاً، گاڑی میں کہیں جاتے ہوئے آپ اپنے بچوں کی حوصلہ افزائی کریں کہ وہ راستے میں آنے والے بل بورڈز اور سائن بورڈز پر درج تحریر پڑھیں، ریستوران جائیں تو مینو کارڈ بچوں سے پڑھوائیں، گراسری کی خریداری کے لیے جائیں تو خریدی جانے والی اشیاء کی فہرست بچوں کے حوالے کریں اور ان سے پوچھیں کہ اب کون سی چیز اور کس مقدار میں خریدنی ہے، وغیرہ وغیرہ۔ بس آپ اس بات کو یقینی بنائیں کہ فرصت کے لمحات میں ان کے پاس پڑھنے کے لیے کچھ نہ کچھ ضرور دستیاب ہو۔ مزید برآں، اپنے بچوں میں حساب کتاب کی عادت ڈالنے کے لیے گراسری کی ادائیگی کرنی ہو یا ریستوران میں کھانے کے بعد بل دینا ہو، اپنے بچوں کو آگے کریں اور انھیں ہدایت کریں کہ وہ مطلوبہ ادائیگی کے بعد بقیہ رقم وصول کریں وغیرہ۔

بچے کی پیشرفت پر نظر رکھیں

اگر نصابی کتابوں کی بات کی جائے تو بچوں میں بنیادی صلاحیت یہ دیکھی جاتی ہے کہ وہ نصابی کتب کس روانی سے پڑھ سکتے ہیں۔ اسکول کے رپورٹ کارڈز کے ذریعے آپ اپنے بچے کی روانی سے پڑھنے کی صلاحیتوں پر نظر رکھ سکتے ہیں اور اس کے مطابق اپنے بچے کی صلاحیتوں میں بہتری لانے پر کام کرسکتے ہیں۔ یاد رکھیں، آپ کی بچے کی چھوٹی عمر سے انھیں کتابوں سے کہانیاں سُنانے اور پھر ان کی کتابیں پڑھنے کی عادت کی حوصلہ افزائی کرنے سے ان میں کتابیں روانی سے پڑحنے کی صلاحیت پروان چڑھے گی، اس لیے اسے ہرگز نظرانداز نہ کریں۔

لائبرری جانا

اپنے بچے کو ہر ہفتے یا دس دن میں قریبی لائبرری ضرور لے جایا کریں، جہاں پڑھنے کے لیے بہت ساری نئی کتابیں دستیاب ہوں گی۔ کئی لائبرریوں میں مختلف عمر کے بچوں کے لیے ’’ریڈنگ پروگرام‘‘ بھی ہوتے رہتے ہیں، جس سے آپ کا بچہ اس جانب متوجہ ہوسکتا ہے۔ یہ چیز آپ کے بچے میں مطالعے کا ذوق مزید بڑھانے کا باعث بن سکتی ہے۔

مزید برآں، آج کل کئی آن لائن رینٹل لائبرریاں بھی کھل گئی ہیں، جہاں آپ اپنے بچے کی سبسکرپشن کروادیں۔ آپ کا بچہ ہرماہ اپنی دلچسپی کی کتابیں آن لائن گھر بیٹھے منگواسکتا ہے، جب وہ ان کتابوں کو پڑھ لے تو وہ مزید کتابیں آرڈر کرسکتا ہے، جس کے بعد آن لائن لائبریری کارائیڈر آپ کے گھر نئی طلب کی گئیں کتابیں لے کر آئے گا اور پہلے والی کتابیں واپس لے جائے گا۔

روانی سے پڑھنے میں مسائل

کئی بچے فطری طور پر روانی سے پڑھنے کی صلاحیتوں کے حامل ہوتے ہیں، ان کی بات چیت میں بھی روانی ہوتی ہے، تاہم کچھ بچوں کو اس سلسلے میں دقت کا سامنا ہوتا ہے۔ مزید برآں، کچھ بچوں کو الفاظ کو ان کے معنی، مطلب اور سیاق و سباق کے ساتھ ادائیگی میں بھی مسائل درپیش ہوتے ہیں۔ اگر آپ کے بچے کو روانی اور سمجھ کے ساتھ پڑھنے میں مسائل کا سامنا ہے تو آپ کو جلد از جلد کسی تھراپسٹ سے رجوع کرنا چاہیے۔ اگر آپ کا بچہ پہلے ہی اسکول جارہا ہے تو ممکن ہے کہ وہاں بچوں کو تھراپسٹ کی خدمات دستیاب ہوں۔ دنیا کی کئی عظیم شخصیات اور یہاں تک کہ اداکاروں کو بھی بچپن اور نوعمری میں روانی کے ساتھ الفاظ کی ادائیگی میں مسائل کا سامنا رہا ہے لیکن محنت سے انھوں نے اس مسئلے پر بخوبی قابوپالیا۔

تعریف کریں

آپ کا بچہ کتنا زیادہ اچھا پڑھنے والا بنے گا، اس کا دارومدار اس بات پر بھی ہے کہ آپ اس کی محنت کی کتنی قدر اور احترام کرتے ہیں اور ان کی کوششوں کی کتنی تعریف کرتے ہیں۔ ذہن میں رکھیں کہ، بچوں کی عمومی تعریف کرنے کے مؤثر نتائج سامنے نہیں آتے، جیسے عمومی تعریفی کلمات ’’ویل ڈن‘‘، ’’یوآر گریٹ‘‘ وغیرہ۔ اس کے بجائے، آپ ان کی محنت اور نتائج کی نشاندہی کریں؛ مثلاً، انھیں یہ کہیں، ’’آپ کی کتابیں پڑھنے کی محنت رنگ لارہی ہے، جس کے باعث رپورٹ کارڈ میں آپ کی کہانیاں روانی سے پڑھنے کی صلاحیت میں 20فیصد اضافہ ظاہر کیا گیا ہے‘‘، وغیرہ وغیرہ۔

سائنسی تحقیق کی روشنی میں

حال ہی میںشایع ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق، امریکا میں ایک گھر میں اوسطاً 114کتابیں موجود ہیں۔ ماہرین کے مطابق، ایک گھر میں 114کتابیں ہر لحاظ سے ایک اچھا عدد ہے۔تحقیق میں یہ جاننے کی کوشش کی گئی تھی کہ کتابیں، نوعمری میں ایک لڑکے یا لڑکی کی خواندگی، روانی سے پڑھنے کی صلاحیت، ہندسوں کے علم اور انفارمیشن کمیونی کیشن ٹیکنالوجی کی صلاحیتوں کو کس طرح بڑھاتی ہیں۔ اس سلسلے میں محققین نے 2011سے2015کے درمیان 31 ملکوں  کے 1لاکھ 60ہزار نو عمر افراد کا مشاہدہ کیا۔ تحقیق میں نوجوانوں سے سوال کیا گیا کہ، ’جب آپ 16سال کے تھے، اس وقت آپ کے گھر میں اندازاً کتنی کتابیں موجود تھیں‘؟ (ان کتابوں میں نصابی کتب شامل نہیں ہیں اور ایک میٹر کے شیلف میں تقریباً40کتابیں رکھی جاسکتی ہیں)۔

تحقیق میں ماہرین اس نتیجے پر پہنچے کہ جس گھر میں 80یا اس سے زائد کتابیں موجود ہوں، وہاں چھوٹے اور نو عمر بچے کتابیں روانے سے پڑھنے کی صلاحیت، ہندسوں کے علم اور انفارمیشن کمیونی کیشن ٹیکنالوجی کے میدان میںکہیں آگے ہوتے ہیں (ان بچوں کے مقابلے میں جن کے گھر پر کتابیں نہیں ہوتیں)۔