آپ آف لائن ہیں
اتوار11؍شعبان المعظم 1441ھ 5؍اپریل 2020ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

ادب اور اخلاق معاشرے کی بنیادی حیثیت کا درجہ رکھتا ہے، جو معاشرے کو بلند تر کرنےمیں نہایت اہم کردار ادا کرتا ہے۔ ادب سے عاری انسان اپنا مقام نہیں بنا سکتا۔ کہاوت ہےکہ ’’باادب بانصیب اور بے ادب بدنصیب‘‘ یعنی ادب ایک ایسی صنف ہے جو انسان کو ممتاز بناتی ہے۔ ادب و آداب اور اخلاق کسی بھی قوم کا طرۂ امتیاز ہے۔ اسلام نے بھی ادب و آداب اور حسن اخلاق پر زور دیا ہے۔

مذہب اسلام نے ہر رشتے کے حقوق وضاحت کے ساتھ بیان فرما دیئے ہیں۔ ادب و آداب کی تعلیم بھی دی گئی ہے، جس میں سرفہرست والدین کے حقوق اور ان کا ادب ہے۔ اس کے علاوہ اساتذہ کا احترام، پڑوسیوں کے حقوق معاشرے کے ستائے ہوئے افراد بھی شامل ہیں۔ یہ تمام افراد بھرپور توجہ اور احترام کے مستحق ہیں۔

خدمت خلق ہی ایک ایسا فعل ہے جس سے انسان کی عظمت کا صحیح طورپر پتا چلتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کے ذمے دو فرائض لگائے ہیں ایک اس مالک کل کی اطاعت دوسرے اس کے بندوں سے پیار۔ یعنی ایک حقوق اللہ اور دوسرے حقوق العباد۔ ہمارے نوجوان معاشرے کا اہم حصہ ہیں اور ان کی اخلاقی ذمے داریوں کا معاشرے کے بزرگ افراد، والدین ، اساتذہ سے براہ راست تعلق ہے، لیکن افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ادب کے حوالے سے نوجوانوں کا منفی رویہ کافی تکلیف دہ ہے۔

آج بوڑھے والدین کے ساتھ نوجوان جو کچھ کرتے ہیں وہ کسی سے مخفی نہیں۔ اکثر میڈیا پر یہ خبر دیکھنے اور پڑھنے کو ملتی ہے کہ چند روپوں یا جائیداد کی خاطر بزرگ والدین کو قتل کردیا۔ آج کے بچے، نوجوان والدین کو بات بات پر ڈانٹنے، جھڑکنے اور بلند آواز سے بات کرنے میں تھوڑی بھی شرم محسوس نہیں کرتے۔ ماں باپ کسی چیز کے متعلق پوچھ لیں تو بھنویں تن جاتی ہیں مگر یہی نوجوان بچپن میں والدین سے جو کچھ پوچھتے تو والدین خوشی خوشی بتاتے تھے۔

ماں باپ کے آگے صرف دو وقت کی روٹی رکھ دینا ہی سب کچھ نہیں ہے بلکہ والدین کی اطاعت، فرمابرداری، ادب و آداب ہی باادب اور کامیاب انسان بناتے ہیں۔والدین کی دعائیں کامیابی کا زینہ ہیں جس کی بدولت آپ ایک کامیاب انسان بن کر ملک وقوم کا نام روشن کرسکتے ہیں۔ والدین کے غصے کے آگے آپ کی برداشت اور غفودرگزر ادب و آداب کی بہترین قابل تعریف مثال ہے۔ والدین کی ناراضی وقتی ہوتی ہے اور آپ کے اس عملی مظاہرہ سے والدین کے دل میں آپ کی جگہ بن جائے گی اور ان کی شفقت و محبت میں مزید بہتری آئے گی۔ آپ کی تقلید میں چھوٹے بہن بھائی اور گھر کے دیگر افراد بھی آپ کے نقش قدم پر چلیں گے۔ والدین کے علاوہ اساتذہ بھی معاشرے کے اہم فرد ہیں۔ 

ماں باپ کے بعد سب سے اہم مقام استاد کا ہے۔ استاد روحانی والدین کا درجہ رکھتا ہے۔ اس لئے شاگرد اپنے استاد کا جتنا بھی احترام کریں کم ہے۔ ماں باپ کی اولاد کے لئے اصلاح اور تربیت کے بعد استاد کی اصلاح و تربیت لازمی ہے۔ اس لئے استاد کا زیادہ سے زیادہ ادب کرنا چاہئے ،جو استاد کا بنیادی حق ہے۔ بدنصیب ہیں وہ نوجوان جو اپنے استادوں کی بے عزتی اور ان کا مذاق اڑاتے ہیں جو استاد کی اصلاح کو اپنی بے عزتی سمجھ کر ان پر بہیمانہ تشدد کرکے زخمی لہولہان کردیتے ہیں ،کسی بھی مہذب معاشرے میں استاد کی تذلیل اور ہرزہ سرائی اس قوم کے نوجوانوں کی ترقی عروج کا زوال ہوتا ہے۔

سوشل میڈیا پر استادوں تک پر تشدد کی ویڈیوز وائرل ہوتی رہتی ہیں۔ اگر قوم کے معمار کو زخمی کردیا جائےاور اسے دیوار سے لگا دیا جائے گا تو وہ اپنی تعلیمی صلاحیتوں کو کس طرح بروئے کار لاکر نوجوانوں کو علم کی روشنی سےمنور کرے گا۔ اگر استادوں پر تشدد کیا گیا اور دیوار سے لگایا گیا تو جہالت کی تاریکی چاروں طرف پھیل جائے گی۔ نوجوان نسل عدم برداشت کو قابو کریں اور استاد کی عزت و احترام کریں۔ علم کی جستجو جاری رکھنا اور علم کے میدان میں استاد کی رہنمائی میں آگے بڑھنا بھی شاگرد پر استاد کا حق ہے۔ شاگرد اگر استاد کی عزت کرے گا اور اس کے حق کی طرف توجہ دے گا تو زندگی میں کامیاب اورکامران ہوگا اور علم کی دولت حاصل کرکے صحیح معنوں میں زندگی کا سفر جاری رکھ سکے گا۔ استاد کے حقوق میں یہ بات بھی شامل ہے کہ اس کی بات مانی جائے، اس کا حکم ادب سے سنا جائے اور احترام کے ساتھ اس کی تعمیل کی جائے۔ 

اگر شاگرد ایسا کریں گے تو ان کے اساتذہ ان سے خوش ہوںگے اور ان کے ساتھ شفقت سے پیش آئیں گے اور ان کا مستقبل سنوارنے کے لئے انہیں زیادہ دل لگا کر پڑھائیں گے۔ ایسے ہی شاگرد دنیا میں کامیاب ہوتے ہیں اور بڑے بڑے مراتب تک پہنچتے ہیں۔ استاد کی مخصوص توجہ کے بغیر خصوصی کامیابی ممکن ہی نہیں۔ چنانچہ نوجوان کو اپنے اساتذہ کے حقوق پر غور کرنا چاہئے۔ ان کا پورا احترام اور ان سے ہدایات حاصل کریں جو استاد کا ادب کرتاہے خوش نصیبی اس کے قدم چومتی ہے اسی لئے تو کہتے ہیں :’’باادب بانصیب، بے ادب بے نصیب‘‘ اور یہ بدنصیبی بحیثیت مجموعی ساری زندگی میں سارے رشتوں پر حاوی ہے۔

ہر رشتے کے ساتھ ادب سے پیش آنے والا بانصیب اور ادب سے پیش نہ آنے والا بے نصیب ٹھہرتا ہے۔ اس کے علاوہ کوئی بھی بزرگ ہو سب کی عزت و احترام نوجوانوں پر لازم ہے۔ خواہ وہ بزرگ، ہمسایہ ہو یا کوئی اور۔ ہمارے بزرگوں میں ماں باپ، دادا دادی، نانا نانی سے لے کر ہر وہ رشتہ شامل ہے جس نے آدمی سے انسان بننے میں مدد کی ہو۔ بزرگوں کی صحبت میں بیٹھ کر دل میں اللہ تعالیٰ کی محبت، آخرت کی فکر پیدا ہوتی اور اعمال و اخلاق درست ہونے لگتے ہیں اور انسانیت سے پیار ہونے لگتا ہے۔

بزرگوں کے بغیر اصلاح ممکن نہیں مشکل ضرور ہے۔ بزرگوں کی دعائوں میں بڑا اثر ہوتا ہے۔ ہم اگر اپنے ارد گرد نظر ڈالیں تو ہمیں اندازہ ہوگا کہ جو شخص بھی بزرگوں کی عزت و احترام کرتا ہے اس کو دنیا کی تمام نعمتیں ملتی ہیں۔ ادب ہی کی وجہ سے وہ دنیا میں کامیابی کی منازل طے کرتا ہے اور خوشحال زندگی بسر کرتا ہے۔ معمر افراد کا وجود معاشرے کے لئے باعث برکت اور صحت مند روایات کی اساس ہے، مگر افسوس نوجوانوں کا بزرگوں کے ساتھ ناروا سلوک دیکھ کر نہایت دکھ ہوتاہے۔

اکثر بزرگ بڑھاپے میں ایدھی اولڈ ایج ہوم کا سہارالیتے ہیں۔ ادھر بڑی تعداد میں بزرگ نظر آئیں گے۔ آج جو نوجوان ہیں کل ان پر بھی بڑھاپا آئے گا، معمر افراد بھی قوم کا سرمایہ ہیں۔ ان کے تجربات نوجوانوں کے لئے مشعل راہ ہوتے ہیں۔ اس طرح کہ ان کی زندگی کے تجربات نوجوانوں کو منتقل ہوتے ہیں۔ بزرگ ہمارے لئے باعث رحمت و برکت ہیں اور گھر میں کسی بزرگ کی موجودگی ایک انعام کی مانند ہے۔ چھوٹوں کے لئے سراپا محبت تو ہیں ہی لیکن ان کا تجربہ ہمارے لئے کسی خزانےسے کم نہیں۔ نوجوان زندگی کے ہرمعاملے میں والدین، اساتذہ کے علاوہ ان سے بھی رہنمائی حاصل کرسکتے ہیں۔ بزرگوں کے تجربات کی روشنی میں ان کے پاس ہر مسئلے کا حل ہوتاہے۔ بزرگوں کی باتوں پر اہمیت اور توجہ دیں۔

نوجوانوں کو ادب و احترام کے ساتھ ساتھ اپنی گفتگو پر بھی دھیان دینا چاہئے کیونکہ گفتگو ہی ایساذریعہ ہے جس سے کسی کے ذہنی معیار، قابلیت اور شخصیت کا اندازہو سکتا ہے۔ تمام لوگوں سے گفتگو کا اسلوب شائستہ، مہذبانہ، متوازن اور شیریں رکھیں۔ غیر شائستہ گفتگو منفی سوچ اور طرزعمل انسان کو ذہنی مریض بناتی ہے، مایوسی پیدا ہوتی ہیں، زندگی میں مثبت رویے اور مثبت سوچ اعلیٰ اخلاقی کردار کو تخلیق کرتی ہے۔ اچھے رویے کی بدولت نہ صرف آپ گھر، معاشرےکو مثبت تبدیلی کی طرف لے جاتے ہیں بلکہ قومی سطح پر ایک باوقار رویہ اپنانے سے ملک کی ترقی میں قابل ذکر کردار ادا کرسکتے ہیں۔ نوجوان نسل معاشرے کے ہر فرد سے پیار کرے اور انسانیت کی خدمت کو اپناشعار بنائیں۔ بزرگوں، والدین، اساتذہ کی خدمت ہی اصل عبادت ہے۔

نوجوان سے مزید