آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
منگل14؍شوال المکرم 1440ھ 18؍جون 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
پاکستان کے موجودہ حالات سے بظاہر ایسے لگ رہا ہے کہ قومی سطح پر بڑی سیاسی جماعتوں کی انتخابی سرگرمیوں میں دلچسپی بڑھ رہی ہے لیکن دوسری طرف الیکشن کمیشن کی طرف سے کئے جانے والے بعض اقدامات اور فیصلوں سے یہ تاثر ابھر رہا ہے کہ شاید آنے و الے دو تین ہفتوں میں معاملات اور حالات وہ نہ رہیں جو اس وقت اچھے نظر آرہے ہیں، اس لئے کہ ابھی الیکشن کمیشن نے سپریم کورٹ کی حالیہ رولنگ کے حوالے سے یہ طے کرنا ہے کہ الیکشن لڑنے کے لئے کون اہل ہوگا یا کون نہیں، اگر یہ سلسلہ ”سیریس“ ہوجاتا ہے تو پھر کہاں کے ا لیکشن اور کون سے الیکشن، تاہم گزشتہ ہفتے میں تو سابق اتحادی اور موجودہ حریف دونوں بڑی سیاسی جماعتوں مسلم لیگ(ن) اور پیپلز پارٹی نے اپنے اپنے انتخابی منشور کااعلان کردیا ہے جس کے کئی نکات تقریباً ایک جیسے ہیں۔ دونوں میں غریب کو”لولی پاپ“ دیا گیا ہے۔ ان میں دعوےٰ زیادہ اور توقعات کم ہی نظر آرہی ہیں ۔ دونوں پارٹیوں نے سستی بجلی کے نعرے تو لگائے ہیں مگر کالا باغ ڈیم کا نام لینے کے لئے کوئی تیار نہیں ہے۔ مسلم لیگ (ن) نے اگرKBDکا ذکرکیا ہے تو وہ رسمی سا نظر آرہا ہے، انہیں خدشہ ہے کہ اگر وہ ا س ڈیم کی کھل کر حمایت کریں گے تو اس سے سندھ اور دیگر صوبوں میں ان کا ووٹ بنک کم ہوسکتا ہے حالانکہ پانی کے ذخیرہ اور اس سے سستی بجلی کا

فائدہ بھی انہی دونوں کو زیادہ ہوگا۔ دونوں بڑی پارٹیوں نے اپنی اپنی سطح پر غربت کے خاتمہ کے نام پر ووٹرز کی تنخواہ مرحلہ وار 15ہزار روپے اور اٹھارہ ہزار روپے کرنے کا عندیہ دیا ہے۔ مسلم لیگ(ن) نے9ہزار روپے سے15ہزار روپے اور پیپلز پارٹی نے8ہزار روپے سے18ہزار روپے مقرر کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ دنیا بھر میں معاشی ماہرین ایسے کسی اقدام سے اتفاق نہیں کرتے کیونکہ اس سے فائدہ تو ورکرز کو ہوتا ہے مگر دوسری طرف صنعتی مالکان کی طرف سے پیداواری اخراجات میں اضافہ کردیا جاتا ہے، جس سے افراط زر کی شرح بھی بڑھتی ہے یعنی اگر20فیصد آبادی کو تنخواہ میں اضافہ ملتا ہے تو100فیصد افراد مہنگائی کے نئے حملے کی زد میں آتے ہیں۔ مسلم لیگ (ن) نے اپنے منشور میں مضبوط معیشت ،مضبوط پاکستان کا تصور دیا ہے جبکہ پیپلز پارٹی نے روٹی ،کپڑا اور مکان کا نعرہ دہرایا ہے۔
1970ء میں پیپلز پارٹی کا سلوگن”سوشلزم“ تھا جبکہ روٹی کپڑا اور مکان کا نعرہ پہلے پیپلز پارٹی کا باقاعدہ سرکاری نعرہ نہیں تھا جبکہ یہ نعرہ عوام نے پیپلز پارٹی کو دیا تھا جو انقلابی شاعر ”حبیب جالب“ کے شعر” مانگ رہا ہے ہر انسان روٹی کپڑا اور مکان“ سے لیا گیا تھا۔ اس نعرے کو پیپلز پارٹی میں اس وقت شامل ہونے والے بائیں بازو کے چینی نواز گروپ نے آگے بڑھایا جو ایشیاء سرخ کے نعرے کے ساتھ لگایا کرتا تھا۔ اس سے پہلے1950ء کی دہائی میں یہ نعرہ بھارت میں لگایا جاتا رہا ہے۔ اس نعرے کو زیادہ تقویت سابق وزیر اعظم بینظیر بھٹو کے دور میں ملی لیکن پھر کیا ہوا، عوام کو روٹی کپڑا اور مکان توکیاملا البتہ اکثریت سے وہ چھین ہی لیا گیا جس کی تازہ تصویر پاکستان کے موجودہ معاشی حالات کی ہے جو پیپلز پارٹی کی موجودہ حکومت نے بگاڑ کے رکھ دی ہے،حالانکہ موجودہ حکومت نے آئینی اور پارلیمانی شعبہ میں کئی اچھے کام بھی کئے ہیں مگر اس سے عوام کا پیٹ تو نہیں بھر ا جاسکتا ۔ مثال کے طور پران کے دور میں پارلیمنٹ نے81قوانین اور ترامیم منظور کیں جو2002-07کی پارلیمنٹ سے38زائد ہیں۔ موجودہ پارلیمنٹ نے130بل پاس کئے۔ پیپلز پارٹی کی اقتصادی شعبہ کی کارکردگی سب کے سامنے ہے ۔
دوسری طرف مسلم لیگ (ن) نے1990ء کی دہائی سے لے کر اب تک اپنے تیسرے منشور میں بھی الفاظ بدل بدل کر غربت کے خاتمہ کا اعلان کیا ہے۔ کیا غربت خودی سے ختم ہوگی یا ورکرز کی تنخواہوں میں اضافہ سے پوری قوم کے معاشی مسائل حل ہوجائیں گے۔ کیا یہ ضروری نہیں کہ پاکستان کی تمام سیاسی جماعتیں معاشی ایشوز کے حل کے لئے اپنے اپنے ووٹ بنک کی پروا کئے بغیر ”قومی اقتصادی ترقی کا قلیل المدت اور طویل المدت پلان تیار کریں اور ایک مشترکہ پلیٹ فارم پر اسے قوم کے سامنے پیش کریں اگر الیکشن ہوجاتے ہیں تو اس سے پہلے”کل جماعتی اقتصادی ایشوز کانفرنس کا انعقاد نگران حکومت کو کرنا چاہئے۔ دوسری صورت میں اگر الیکشن ہی کئی وجوہ کی بناء پر 2014ء میں چلے جاتے ہیں تو پھر بھی یہAPCابھی سے قومی اقتصادی پلان کی منظوری دے کر اس پر عملدرآمد شروع کریں۔
مسلم لیگ (ن) کے منشور میں بھی کئی نکات پر سوالات اٹھ رہے ہیں مگر حیران کن بات یہ ہے کہ دونوں بڑی پارٹیوں کے منشور میں حقائق سے زیادہ ووٹ حاصل کرنے کی سوچ زیادہ واضح نظرآرہی ہے ۔جسے عوامی حلقوں میں پوائنٹ سکورنگ کہا جاسکتا ہے۔ نوبل ا نعام یافتہ ملٹن فرائیڈمین کے مطابق تنخواہوں میں اضافہ کے اثرات دو طرفہ ہوتے ہیں اس سے ا یک طرف تو غربت ضرور کم ہوتی ہے مگر دوسری طرف پیداواری اخراجات بھی بڑھتے ہیں جس سے روزگار کے نئے مواقع کم ہوتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق تنخواہ میں10فیصد اضافہ سے نئے روزگار کے مواقع میں ایک فیصد کمی ہوتی ہے جبکہ پاکستان میں اگر ورکرز کی تنخواہ8یا9ہزار روپے سے بڑھا کر15ہزار یا18ہزار روپے کی جائے تو اس سے صنعتی مصنوعات کی قیمتیں بڑھیں گی اور اس سے نئے روزگار کی فراہمی کے ہدف میں10فیصد کمی (اندازہ 50لاکھ نفوس) کی کمی ہوسکتی ہے حالانکہ ضرورت اس امر کی ہے کہ موثر اور قابل عمل ا قتصادی اصلاحات، کرپشن اور غیر پیداواری اخراجات میں کمی ،سستی بجلی کے لئے کالا باغ ڈیم سمیت مختلف میگا منصوبوں پر مشترکہ حکمت عملی پر کام کیا جائے۔ اس سے ملکی پیداوار جوں جوں بڑھے گی اس سے ساری قوم کو اس کے ثمرات ملنا شروع ہوسکتے ہیں مگر اس کے لئے پوائنٹ سکورنگ سے زیادہ حقیقی سوچ کے ساتھ عوام کی مشکلات کا احساس کرنا ہوگا آج کے حالات تنخواہوں میں اضافہ سے نہیں بہتر معاشی مینجمنٹ سے حل کرنے پر توجہ دی جائے تو اس سے سیاسی سے زیادہ معاشی فوائد سب کو مل سکتے ہیں کیونکہ ملکی پیداوار میں اضافہ سے سب کی قوت خرید بہتر ہوگی اور اشیائے ضرورت کی گرانی بھی نہیں ہوسکے گی اس سے معاشی طور پرمطمئن معاشرہ کی بنیاد رکھنے میں مدد مل سکتی ہے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں