آپ آف لائن ہیں
ہفتہ12؍ذیقعد 1441ھ4؍جولائی 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

پنشن ٹرانسفر مارکیٹ کو ریگولیسشن کی ضرورت ہے، انڈسٹری

لندن: جوزفین کمبو

ان دعووں کے بعد کہ کمپنیاں اپنے ملازمین کو ان کی قابل قدر ریٹائرمنٹ اسکیموں سے دستبردار ہونے کیلئے دباؤ ڈال رہی ہیں وزراء کو کارپوریٹ پینشن ٹانسفر مارکیٹ کی نگارنی کیلئے ریگیولیٹرز کو اختیارات دینے کے مطالبات کا سامنا ہے۔

پنشن انڈسٹری کی سینئر شخصیات نے کہا کہ ایک رضاکارانہ ضابطہ اخلاق جس کا مقصد آجروں کی جانب سے بدسلوکیوں کو روکنا ہے وہ اب مزید کارآمد نہیں رہا تھا۔

خدشات کا مرکز ہے کہ آجر ایسی مشقیں شروع کرنے کے اہل ہیں جس کے تحت وہ ملازمین جو ان کی طے شدہ بینیفٹ پنشن اسکیموں کے رکن ہیں آج ان کی یقینی مستقبل کی ریٹائرمنٹ کی آمدنی کو یکمشت نقد میں کیسے بدلا جاسکتا ہے۔

ان مشقوں میں آجروں کی ملازمین کو اسکیموں کے بدلے خصوصی مالیاتی مراعات فراہم کرنا شامل ہے۔

پینشن ریگیولیٹرز کی مراعات پر مبنی مشقوں کی براہ راست نگرانی نہ ہونا اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ آجروں کا مطلب ہے کہ 2012 میں عمل میںلائے گئے اچھے عمل کے رضاکارانہ ضابطہ اخلاق کی تعمیل کریں۔

تاہم پنشن انڈسٹری باڈی جو ضابطہ اخلاق کی اثرانگیزی پر نظر رکھنے والے انسینٹو ایکسرسائز بورڈ کی سربراہ مارگریٹ اسنوڈن نے کہا کہ یہ اب ناکام ہورہا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ حکومت کو پنشنرز ریگولیٹر کو کارپوریشن پینشن ٹرانسفر مارکیٹ کی نگرانی کے لئے اختیارات دینے کے لئے قانون سازی کرنا چاہئے۔

مارگریٹ اسنوڈن نے کہا کہ آجروں کے طریقہ کار کے بارے میں خدشات ابھر کر سامنے آئے ہیں جب سے 2015 میں نام نہاد پینشن آزادی اصلاحات کو ڈی بی اسکیموں کے ارکان کیلئے ان میں سے منتقل کرنے کیلئے مزید پرکشش بنادیا گیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہم نے ایسی مشقیں دیکھی ہیں جہاں یہ واضح تھا کہ ارکان پر آجروں کے ذریعے دباؤ ڈالا جارہا تھا ،جیسے کچھ کمپنیوں کے ادب میں استعمال ہونے والی زبان ضرورت سے زیادہ مثبت ہے اور لوگوں کو منتقلی کی ترغیب دیتی ہے۔

ضابطہ یہ کہتا ہے کہ زبان غیرجانبدار ہونی چاہئے۔ ہم نے یہ بھی دیکھا کہ رکن کی منتقلی کے بارے میں فیصلہ کرنے کے لئے صرف ایک ماہ کا عرصہ دیا گیا ہے۔

ملازمین کیلئے ضابطہ اخلاق کے تعارف کی نگرانی کرنے والے وزیر پینشن اسٹیو ویب نے کہا کہ حکومت کو پینشنز ریگیولیٹر کو اس کے نفاذ کے اختیارات دینے کے لئے قانون سازی کرنا چاہئے۔

2015 سے لے کر اب تک کمپنیوں کی ڈی بی اسکیموں سے تقریباََ 80 ارب یورو جاری ہوئے ہیں،جس میں آجروں کی 50 سے زائد ترغیب پر مبنی مشقیں شامل ہیں۔

پنشنز ریگیولیٹرز نے پہلے بھی کہا ہے کہ ان مشقوں کے دوران کی جانے والی پیشکشیں ڈی بی اسکیموں کے ارکان کو بدتر حالات میں ڈالنے کے خطرے کو بڑھاسکتی ہیں۔

ریگیولیٹرز نے گزشتہ ہفتے کہا تھا کہ ہم ان کی بھرپور حمایت کرتے ہیں کہ ضابطہ اخلاق اور کسی بھی صنعت کے کوڈ کی طرح ہم توقع کرتے ہیں کہ ٹرسٹیز اس کی پیروی کریں گے تاکہ وہ پینشن بچانے والوں کے تحفظ کے لئے ان کے کردار کے حصے کے طور پر اس پر عمل کریں۔

اگر ٹرسٹی مراعات کی مشقوں کیلئے مختلف نقطہ نظر اپناتے ہیں تو ہم یہ سمجھنا چاہیں گے کہ یہ ارکان پر کس طرح اثرانداز ہوتا ہے۔مراعات دینے کی مشق کے بارے میں ہمارے سامنے جب خدشات اٹھائے جاتے ہیں تو ہم تحقیقات کریں گے۔محکمہ برائے ورک اینڈ پینشن نے اس پر کسی بھی تبصرے سے انکار کردیا۔

فنانشل ٹائمز سے مزید