آپ آف لائن ہیں
بدھ7؍ شعبان المعظم 1441ھ یکم اپریل 2020ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

23مارچ کا دن ہماری قومی تاریخ میں ایک سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ آج سے آٹھ دہائی قبل 1940ء کو اس دن لاہور کے منٹوپارک (موجودہ اقبال پارک) میں مسلم لیگ کے اجتماع میں تاریخی قراردادِ پاکستان کی منظوری دی گئی، جس کی وجہ سے جنوبی ایشیا کے مسلمانوں کے لیے ایک علیٰحدہ وطن کے قیام کی راہ ہم وار ہوئی اورصرف سات سال بعد قائداعظم محمد علی جناحؒ کی ولولہ انگیز قیادت میں سب سے بڑا اسلامی ملک دنیا کے نقشے پر ابھرا۔ اس اٹل حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ پاکستان کا قیام دو قومی نظریے کی بنیاد پر عمل میں آیا، اور اس کی سچائی کا ثبوت یہ ہے کہ آج آٹھ دہائیاں گزرنے کے بعد بھی بھارت میں رہنے والی سب سے بڑی اقلیت، مسلمانوں کو نسلی بنیاد پرتشدّد کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔

دو قومی نظریے کی حقیقت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ حال ہی میں بھارتی لوک سبھا(ایوانِ زیریں)کے ایک رکن، ششی تھرور نے مودی سرکار کومتنبہ کیا کہ’’ اگر متنازع شہریت بل نافذ کیا گیا، تو یہ بانئ پاکستان، محمد علی جناح کے نظریے کی جیت ہوگی۔‘‘ششی تھرور کے مطابق، ’’اسی طرح اگردیگر متنازع قوانین جیسے این سی آر (نیشنل رجسٹریشن سرٹیفکیٹ) اور این پی آر (نیشنل پاپولیشن رجسٹریشن) کا بھی اطلاق کیا گیا، تو سمجھیں کہ محمد علی جناح کی جیت مکمل ہوگئی۔‘‘انہوںنے مزیدکہاکہ ’’بھارتی حکومت کے غیرقانونی اور متنازع شہریت قانون سے خاص کمیونٹی کو نشانہ بنایا جارہا ہے اورآج اگر جناح ہوتے، تو وہ یہ کہہ سکتے تھےکہ ان کا دو قومی نظریہ حق پر مبنی تھا اور بلاشبہ مسلمان ایک علٰیحدہ وطن کے حق دار تھے، کیوں کہ ہندو اور مسلمان ایک ہو ہی نہیں ہوسکتے۔‘‘

بھارت میں مسلمانوں کے خلاف منظور کیے گئے متنازع بل کے بعد دنیا میں بھر میں یہ بات پوری طرح عیاں ہوگئی ہے کہ آج سے اسّی سال قبل دو قومی نظریے کے بنیاد پر مسلمانوں کی تحریک حقیقت پر مبنی تھی اور آج جو کچھ بھارت میں مسلمانوں کے خلاف ہورہا ہے، وہ کوئی نئی بات نہیں۔ تقسیمِ ہند سے قبل اٹھارہویں صدی عیسوی میں جب انگریز ہندوستان کی باگ دوڑ سنبھالنے لگے، تو انہوں نے اپنی حکومت مستحکم بنانے کے لیے ہندوئوں اور مسلمانوں کو لڑوانے کی پالیسی اختیار کی۔ 

چناںچہ انیسویں صدی کے اواخر تک ہندومسلم اختلافات ہندوستانی معاشرے میں جڑ پکڑ چکے تھے۔ 23 اگست 1890ء کو مشہور ادیب، ناول نگار، مولانا عبدالحلیم شرر نے اپنے رسالے ’’تہذیب‘‘ کے اداریے میں لکھا، ’’ہندو، مسلم نظریات کے اختلافات میںاس قدر شدت آگئی ہے کہ اب مسلمان اپنی مذہبی رسومات تک آزادانہ طور پر ادا نہیں کرسکتے۔ اس عالم میں بہتر یہی ہے کہ ہندوستان کو ہندو اور مسلم صوبوں میں تقسیم کردیا جائے۔‘‘ اس سے قبل سرسیّد احمد خان بھی کہہ چکے تھے کہ ہندوستان میں دو اقوام آباد ہیں۔ تاریخ اس بات کی شاہد ہے کہ محمد بن قاسم سے لے کر بہادر شاہ ظفر تک تقریباً ایک ہزار سال تک مسلمان برصغیر پر حکمران رہے۔ 

اس ہزار سالہ مدّت کے دوران انہیں کبھی کسی غیر کا محکوم ہوکر جینا نہیں پڑا تھا، لیکن اس کے بعد کا عرصہ ان کے لیے انتہائی ذلّت اور بے چارگی کا دَور بن کر آیا۔ اُن کے ہاتھ سے حکومت اور فرماں روائی ہی نہیں، بلکہ سب کچھ چِھن گیا۔ اُن کا مذہب، عقیدہ، تہذیب و ثقافت، تمدّن و سیاست غرض یہ کہ ہر چیز خطرے میں پڑگئی۔ مختصراً یہ کہ جب ہندوئوں نے بھی انگریزوں کے ساتھ مل کر مسلمانوں کے خلاف شاطرانہ چالیں چلنا شروع کردیں، تو قائد اعظم نے 13مارچ 1940ء کو پہلی بار وائسرائے سے کہا کہ’’ اگر متحدہ ہندوستان میں مسلمانوں کے لیے کوئی اطمینان بخش صورت نہیں نکالی جاسکتی، تو مسلمانوں کو ملک کی تقسیم کا مطالبہ کرنا پڑے گا۔‘‘ 

حالاں کہ ابتدا میں خود محمد علی جناح جیسے رہنما بھی کانگریس کے ہم نوا تھے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ قائداعظم محمد علی جناح اور دوسرے مسلم زعماء، حبّ الوطنی کے جذبے سے سرشار تھے، ان کے دِلوں میں ملک سے محبت تھی اور وہ سمجھتے تھے کہ ملک کو بہرحال انگریزوں کے تسلط سے آزاد ہونا چاہیے۔ اورجب یہ طے ہوگیا کہ ہندوستان کا ہر فرد انگریزوں کے تسلّط سے مکمل آزادی چاہتا ہے، تو قائداعظم نے سنجیدگی سے مسلمانوں کے مستقبل کا مسئلہ اٹھایا۔ وہ جانتے تھے کہ ہندوستان کی آزادی قریب آرہی ہے، لہٰذا اب یہ بھی طے ہوجانا چاہیے کہ آزاد ہندوستان میں مسلمانوں کی حیثیت کیا ہوگی۔ اسی خیال کے پیشِ نظر انہوں  نے 1928ء میں چودہ نکات پیش کیے، جن سے مسلمانوں کو اپنے مستقبل سے متعلق اطمینان ہوسکتا تھا، لیکن موتی لعل نہرو نے انہیں یک سر مسترد کردیا۔ 

صرف یہی نہیں، بلکہ آزادی سے پہلے ہی محض صوبوں کی وزارتیں حاصل کرنے کے بعد ہندو خود کو حکمران سمجھ بیٹھے اور وہ سب کچھ کرنے لگےکہ جن سے مسلمان اپنے مذہب، ثقافت، زبان اور سیاسی و اقتصادی حقوق سے محروم ہوجائیں، مثلاً انہوں نے گائے ذبح کرنے پر مکمل پابندی لگانے کی حمایت شروع کردی، اردو زبان کو ’’قرآنی‘‘ حروف میں لکھی جانے والی زبان قرار دے کر اسے مٹانے اور اس کی جگہ ’’ہندوستانی‘‘ کے نام پر سنسکرت نما ہندی مسلّط کرنے کی کوشش کرنے لگے۔ قائد اعظم کی دور بین نگاہوں نے یہ سب کچھ دیکھا، پھر بھی اپنی سی کوشش کرتے رہے کہ کسی طرح بھی کانگریس کی سمجھ میں اُن کی بات آجائے، مگر جب ان کی کوششیں بارآور ثابت نہ ہوسکیں، تو بالآخر مایوس ہوکر ملکی سیاست سے دست کش ہوگئے اور انگلستان چلے گئے۔

یہ وقت مسلمانوں کے لیے بڑا ہی صبر آزما اور حوصلہ شکن تھا، ملک کا اقتدار تیزی سے ہندوئوں کے ہاتھوں میں منتقل ہوتا جارہا تھا اور مسلمان بڑی بے بسی سے دیکھ رہے تھے کہ انگریزوں کے بعد اب شاید انہیں ہندوئوں کی دائمی غلامی میںرہناپڑے گا۔ یہ وہی دَور تھا، جب علامہ اقبال پاکستان کا تصوّر پیش کرچکے تھے اور علامہ اقبال کے علاوہ کئی دوسرے پُرخلوص مسلمان، انگلستان میں قائداعظم کو اس بات پر آمادہ کررہے تھے کہ وہ دوبارہ وطن تشریف لائیں اور مسلمانوں کی افسردگی دور کریں۔ مسلمانوں کے اندر زندگی کی حرارت موجود ہے، لیکن دَبی ہوئی ہے۔ 

اُسے پھر ابھارنے کی ضرورت ہے اور یہ کام محمد علی جناح کے سوا کوئی نہیں کرسکتا۔ لہٰذا قائداعظم ایک مرتبہ پھر وطن واپس آکر مسلمانوں کی قیادت سنبھالنے پر آمادہ ہوئےاور اس بار انہوں نے مسلمانوں کی سیاسی جماعت، مسلم لیگ کو اپنے لیے پلیٹ فارم کے طور پر منتخب کیا اور مسلم لیگ کی صدارت سنبھال کر گویا اُس کے تنِ مردہ میں جان ڈال دی اور پھر محض تین سال (1937ء سے1940ء) کے عرصے میں وہی نیم جان مسلم لیگ، آل انڈیا مسلم لیگ کی حیثیت سے ایک ایسی مستحکم اور فعال جماعت بن گئی کہ پھر جس نے 23مارچ کو لاہور کے اجلاس میں ببانگِ دہل اعلان کردیا کہ ’’برصغیر میں ایک نہیں، دو قومیں بستی ہیں، یعنی ہندو اور مسلمان دو قومیں ہیں، لہٰذا مسلمان اپنے لیے علیحدہ وطن حاصل کرکے رہیں  گے۔‘‘

آل انڈیا مسلم لیگ کا ستائیسواں اجلاس، جب زندہ دِلوں کے شہر،لاہور میں 22تا 24مارچ 1940ءکو منعقد کرنے کا فیصلہ کیا گیا، تو قائد اعظم محمد علی جناح نے اجلاس کے بارے میں پہلے ہی فرمادیا کہ’’ مسلم لیگ کا لاہور کا یہ اجلاس اسلامی ہند کی تاریخ میں ایک نئے باب کا آغاز ہوگا۔ ہمیں اس اجلاس میں متعدد نہایت اہم معاملات طے کرنے ہیں۔‘‘ قائد اعظم محمد علی جناح کی صدارت میں منعقد ہونے والے اس اجلاس میں وزیراعلیٰ بنگال، مولوی ابوالقاسم فضل الحق نے ایک تاریخی قرارداد پیش کی، جسے اُس وقت قراردادِ لاہور کہا گیا، مگر ہندو پریس نے اسے ’’قراردادِ پاکستان‘‘ کا نام دیا۔ اس میں مطالبہ کیا گیا کہ ہندوستان کے شمال مغربی اور مشرقی خطّوں کے مسلم اکثریت والے علاقوں کو یک جا کرکے آزاد مملکت کی تشکیل ہونی چاہیے۔ اس تاریخی اجلاس کے صدارتی خطبے میں قائد اعظم نے فرمایا ’’حقیقت یہ ہے کہ اسلام کے قومی تصوّر اور ہندو دھرم کے سماجی طور طریقوں کے باہمی اختلاف کو محض وہم و گمان بتانا ہندوستان کی تاریخ جھٹلانا ہے۔ 

ایک ہزار سال سے ہندوئوں اور مسلمانوں کی تہذیب ایک دوسرے سے جداہے۔ دونوں قومیں آپس میں میل جول ضرور رکھتی چلی آئی ہیں، مگر ان کے اختلافات اُسی پرانی شدّت سے موجود ہیں، ان کے متعلق یہ توقع رکھنا کہ وہ قومِ واحد بن جائیں گی، قطعاًغلط ہے۔ دونوں  قومیں ایک دوسرے سے یک سر مختلف ہیں، ان کا اتحاد ممکن نہیں۔ چوں کہ مسلمان ایک جداگانہ قوم سے تعلق رکھتے ہیں، تو ان کا اپنا وطن، خطّہ ارض اور ریاست ہونی چاہیے۔ 

ہاں، البتہ ہم آزاد اور خود مختار لوگوں کی حیثیت سے، اپنے ہم سایوں کے ساتھ امن و آشتی سے رہنے کے خواہش مند ہیں۔‘‘ قائد اعظم نے اسلام اور ہندو دھرم کے مابین فرق کو واضح کرتے ہوئے واشگاف الفاظ میں فرمایا کہ ’’اسلام اور ہندو دھرم محض دو الگ الگ مذاہب نہیں، بلکہ درحقیقت دو مختلف معاشرتی نظام ہیں، چناں چہ اس خواہش کو خواب اور خیال ہی کہنا چاہیے کہ ہندو اور مسلمان مل کر کوئی مشترکہ قومیت بن سکیں گے۔ یہ لوگ آپس میں شادی بیاہ نہیں کرتے، نہ ایک دسترخوان پر کھانا کھاتے ہیں۔ میں واضح لفظوں میں کہتا ہوں کہ دونوں دو علیٰحدہ اور مختلف تہذیبوں سے تعلق رکھتے ہیں اور ان تہذیبوں کی بنیاد ایسے تصوّرات اور حقائق پر رکھی گئی ہے، جو ایک دوسرے کی ضد ہیں، بلکہ اکثر متصادم ہوتے ہیں۔ انسانی زندگی سے متعلق بھی ہندوئوں اور مسلمانوں کے خیالات اور تصوّرات ایک دوسرے سے قطعاً مختلف ہیں۔ ان کے تاریخی وسائل اور مآخذ مختلف ہیں، ان کی رزمیہ نظمیں، ان کے سربر آوردہ بزرگ اور قابلِ فخر تاریخی کارنامے سب مختلف اور الگ الگ ہیں۔ اکثر اوقات ایک قوم کا زعیم اور رہنما ،دوسری قوم کے بزرگ اور برتر ہستیوں کا دشمن ہے۔

ایک قوم کی فتح، دوسری کی شکست ہے، لہٰذا ان دونوں کے لیے بنایا گیا کوئی بھی مشترکہ آئین، خاک میں مل کر رہے گا۔‘‘ اس موقعے پر انہوں نے گاندھی کوبھی مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’’مَیں کئی بار کہہ چکا ہوں اور ایک بار پھر کہتا ہوں کہ جناب گاندھی دیانت داری سے تسلیم کرلیں کہ کانگریس ایک ہندو جماعت ہے اور وہ صرف ہندوئوں کی نمائندہ ہے۔ جناب گاندھی کیوں یہ بات فخر سے نہیں کہتے کہ میں ہندو ہوں اور کانگریس کو ہندوئوں کی حمایت حاصل ہے، مجھے تو یہ کہنے میں کہ مَیں مسلمان ہوں، قطعاًشرم محسوس نہیں ہوتی۔‘‘ لیکن بعد ازاں، گاندھی نے مطالبہ پاکستان کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ ’’ہندوستان میں جمہوری طور پر منتخب صرف ایک ہی سیاسی جماعت ہے اور وہ ہے کانگریس، باقی سب جماعتیں یا تو خود ساختہ ادارے ہیں یا فرقہ وارانہ اصولوں پر چُنے ہوئے مختصر گروہ۔ 

مسلم لیگ، کانگریس کی طرح منتخب جماعت ہے، مگر اس کا نصب العین فرقہ وارانہ ہے اور یہ بھارت کو دو حصّوں میں تقسیم کردینا چاہتی ہے۔‘‘ جب کہ مسلم لیگ نے واشگاف الفاظ میں تردیدکرتے ہوئے کہا کہ ’’کانگریس ملک کی واحد جماعت نہیں، بلکہ کانگریس کے علاوہ مسلمانوں کی سب سے بڑی اور متحد جماعت مسلم لیگ بھی موجود ہے، اس لیے مسلم لیگ کا مطالبہ ہے کہ پاکستان کی تقسیم دو قومی نظریے کی بنیادپر ہونی چاہیے۔‘‘ اوربعدازاں، ایک طویل جدوجہد اوربے مثل قربانیوں کے بعد بالآخر کانگریس تقسیمِ ہند پر مجبور ہوگئی اور وائسرائے ہند، لارڈ مائونٹ بیٹن نے قرار داد پاکستان کی روح کے مطابق تقسیمِ ہندکے منصوبے کا اعلان کرکے دو قومی نظریے کو حقیقت کا روپ دے کر یہ ثابت کردیا کہ ہندو اور مسلمان دو الگ الگ قومیتیں ہیں۔

سنڈے میگزین سے مزید