آپ آف لائن ہیں
اتوار13؍ذیقعد 1441ھ 5؍جولائی 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

کورونا وائرس کی بڑھتی تباہ کاریوں کے پیشِ نظر عالمی ادارۂ صحت نے اسے’’ عالمی وبا‘‘ قرار دے دیا ہے۔چین سے پھیلنے والا کووڈ۔19 نامی وائرس، جسے عام طور پر کورونا وائرس کہا جاتا ہے، تادمِ تحریر 113 مُمالک کو اپنی لپیٹ میں لے چُکا ہے اور متاثرین کی تعداد ایک لاکھ، بیالیس ہزار تک جا پہنچی ہے، جن میں سے پانچ ہزار سے زاید افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔ بدقسمتی سے پاکستان بھی ان متاثرہ مُمالک میں شامل ہے اور یہاں بھی اس طرح کے کئی مریض رپورٹ ہوچُکے ہیں۔ حکّام نے ان کے متعلق بتایا کہ یہ تمام افراد بیرونِ مُلک سے آئے اور وہیں کورونا وائرس کا شکار ہوئے۔ 

ایسا ایک بھی مریض سامنے نہیں آیا، جو پاکستان ہی میں اس وائرس کا نشانہ بنا ہو۔اس حوالے سے خوشی کی خبر یہ ہے کہ متاثرہ مریض تیزی سے صحت یاب ہو رہے ہیں۔ یہاں یہ سوال اہم ہے کہ آخر کورونا وائرس کو’’ عالمی وبا‘‘ قرار دینے میں دو ماہ کیوں لگے؟ دراصل، عالمی وبا ایسے مرض کو کہتے ہیں، جو بیک وقت مختلف ممالک میں پھیل رہا ہو۔ عالمی ادارۂ صحت کے سربراہ، ڈاکٹر ٹیڈروس کا کہنا ہے کہ’’ کورونا وائرس کے لیے ’’عالمی وبا ‘‘کی اصطلاح اس کے غیر معمولی پھیلاؤ کے سبب استعمال کرنی پڑی۔‘‘ شاید اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ہر مُلک اپنے وسائل اور صحت کی سہولتوں کی صلاحیت کے مطابق اس وبا سے نبرد آزما ہے، جو کئی اعتبار سے ناکافی ہے، اسی لیے عالمی سطح پر مل کر اس کے سدّباب کی ضرورت محسوس کی گئی۔

2007 ء کے عالمی اقتصادی بحران کے بعد دنیا کو اب ایک نئی معاشی آزمائش کا سامنا ہے کہ کورونا نے عالمی معیشت ہلا ڈالی ہے اور دنیا میں ایک بھونچال کی سی کیفیت ہے۔ اس وائرس کی تباہ کاری کا آغاز دو ماہ قبل چین سے ہوا، تو مقامی طور پر قابو پانے کی کوشش کی گئی۔ البتہ عالمی ادارۂ صحت اور ترقّی یافتہ مُمالک کی معاونت بھی شامل تھی۔ 

امیر مُمالک نے اس وبا سے نمٹنے کے لیے خزانوں کے منہ کھول دیے اور اس مَد میں کھربوں ڈالرز مختص کیے ہیں۔ دنیا کے بیش تر مُمالک اس معاملے میں ذرا سی بھی کوتاہی کا رِسک لینے کو تیار نہیں۔ اٹلی کو مکمل طور پر لاک ڈائون کردیا گیا۔ کھیلوں کے اجتماعات اور سیّاحت پر سخت پابندیاں ہیں۔ مسافروں کو ائیر پورٹس پر اسکریننگ کے مراحل سے گزرنا پڑ رہا ہے۔ظاہر ہے کہ یہ سب عوام کی صحت ہی کے لیے ہے، اسی لیے تمام ممالک ایک دوسرے سے تعاون کر رہے ہیں۔ حوصلہ افزا بات یہ ہے کہ دنیا نے اس انسانی مسئلے کو کسی سیاست یا باہمی اختلافات کی نذر نہیں ہونے دیا۔ کورونا وائرس کا سب سے بڑا چیلنج یہ ہے کہ اس کی اب تک کوئی ویکسین دریافت نہیں ہوسکی۔گو یہ ایک قسم کا فلو ہی ہے، جو 14 دن میں متاثرہ شخص کو پوری طرح جکڑ لیتا ہے، تاہم یہ بھی ذہن میں رہے کہ اس سے اموات کی شرح 3.4 فی صد سے زیادہ نہیں۔

ماہرین نے اچھی طرح ہاتھ دھونے کو سب سے بڑا پرہیز بتایا ہے۔علاوہ ازیں، منہ پر ماسک کے استعمال کے ساتھ ہاتھ ملانے سے بھی اجتناب کیا جائے۔اس مرض کی علامات ظاہر ہوں یا اس کے مریض سے کسی قسم کی قربت ہو، تو فوری طور پر ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے۔ اس وبا کے باعث تقریباً تمام مُمالک نے اجتماعات پر، چاہے وہ چھوٹے پیمانے پر ہوں، جیسے بازار وغیرہ میں بھیڑ یا پھر بڑے پیمانے پر جیسے مختلف کھیلوں کے مقابلے وغیرہ، پابندیاں عائد کردی ہیں، کیوں کہ ان اجتماعات کے ذریعے وائرس کے پھیلنے کے خدشات ہیں۔ ہر طرح کے اجتماعات کے انعقاد کو، خواہ اُن کی نوعیت کیسی ہی ہو، کسی طور ایشو نہیں بنانا چاہیے کہ یہ انسانی صحت کا معاملہ ہے اور جان کی حفاظت کو ہر مذہب میں فوقیت دی گئی ہے۔ 

اس معاملے میں مسلم ممالک نے انقلابی اقدام کیے۔ عُمرے اور جمعے کے اجتماعات تک پر پابندی عائد کردی گئی۔ یاد رہے، کورونا وائرس سے بچائو اور علاج معالجے کے حوالے سے ماہرین ہی بہتر مشورے دے سکتے ہیں، اس لیے عوام کو ٹوٹکوں، نام نہاد بابوں اور حکیموں کی باتوں پر ہرگز کان نہیں دھرنے چاہئیں۔یہاں یہ بھی اہم ہے کہ بیماری سے بچاؤ کے لیے احتیاط بے حد ضروری ہے، مگر احتیاط اور افراتفری میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ اب ایسا بھی نہ ہو کہ دو چھینکوں کے بعد ہی ڈاکٹر کی طرف دوڑ لگا دیں۔پھر یہ بھی کہ بعض اوقات احتیاطی تدابیر پر عمل نہ کرنا بھی افراتفری کا باعث ہوسکتا ہے ۔

عالمی معیشت، کورونا وائرس سے جس بُری طرح متاثر ہوئی ہے، اس کے بچاؤ کے لیے امیر مُمالک اب میدان میں کود آگئے ہیں۔برطانیہ 39،آسٹریلیا 13،چین 16،جاپان10.6،امریکا 8.3،جنوبی کوریا9.8 اور اٹلی 28ارب ڈالرز فراہم کرے گا۔ یہ تقریباً ایک کھرب، پچیس ارب ڈالرز کی رقم ہوئی، جب کہ یہ ابھی ابتدائی رقم ہے اور صرف سات ممالک ہی نے اس میں حصّہ ڈالا ہے۔ علاوہ ازیں، سنگاپور پانچ ،جب کہ تھائی لینڈ 13 ارب ڈالرز خرچ کرے گا۔ 

نیز، ہر گزرتے دن کے ساتھ اِس فہرست میں اضافہ ہو رہا ہے، جو واضح پیغام ہے کہ دنیا کورونا وائرس کو کس قدر سنجیدگی سے لے رہی ہے۔ اقتصادی ماہرین کا اندازہ ہے کہ اگر فوراً تدارک نہ کیا گیا، تو یہ وائرس عالمی معیشت کے لیے زہرِ قاتل ثابت ہوگا۔ ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف بھی اس کے اثرات کم کرنے کے لیے خطیر رقوم مختص کرچُکے ہیں۔ چین، جہاں سے کورونا وائرس شروع ہوا، معاشی طور پر بُری طرح متاثر ہوا اور اس کی ترقّی کی خاصے رفتار پر منفی اثرات مرّتب ہوئے۔ اُسے خاص طور پر دو شعبوں میں شدید دھچکا لگا ، ایک برآمدات اور دوسرا سیّاحت۔ ماہرین کے مطابق سیّاحت، کھیل اور دوسرے اہم عالمی اجتماعات اِس وبا سے متاثر ہوں گے۔

ظاہر ہے،جن مُمالک کے لیے یہ شعبے اہم معاشی سہارے ہیں،اُنھیں بہت زیادہ معاشی مسائل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔اس لیے بظاہر یوں لگتا ہے کہ ترقّی یافتہ مُمالک ہی اس کی زد میں زیادہ آئیں گے۔ ونٹر گیمز جن میں اسکیننگ جیسے کھیلوں کے مقابلے شامل ہیں، منسوخ کردیے گئے ہیں۔ پھر یہ کہ سیّاحت سے وابستہ ایوی ایشن انڈسٹری بھی اس کی لپیٹ میں آ رہی ہے۔ کورونا کی ایڈوائزری میں سب سے زیادہ زور کم سے کم سفر پر دیا جا رہا ہے۔ بہت سے ممالک نے اپنے ہاں آنے، جانے کو محدود کردیا ہے۔ نیز، مسافروں کو ائیرپورٹس اور دوسرے سفری ٹرمینلز پر جس طرح کے طبّی ٹیسٹس سے گزرنا پڑرہا ہے، اُس نے سفر کو صرف ضروری مقاصد کی حد تک محدود کردیا ہے۔ 

صُورتِ حال کا اندازہ اِس سے لگایا جا سکتا ہے کہ چین کی فضائی کمپنی کو ایک ماہ میں تین ارب ڈالرز سے زاید کا نقصان برداشت کرنا پڑا۔اگر اس تناظر میں پاکستان کی بات کریں، تو وزیرِ اعظم، عمران خان سیّاحت کے فروغ پر زور دیتے رہے ہیں اور اس حوالے سے کئی اقدامات بھی کیے گئے، تاہم کورونا کے سبب کم ازکم اس سال تو پاکستان میں سیّاحت کے مواقع محدود ہی رہنے کا امکان ہے۔ اس ضمن میں ہمیں خود بھی کوئی خطرہ مول نہیں لینا چاہیے کہ بعض اوقات اس طرح کے خطرات کی قیمت غیر معمولی ہوسکتی ہے۔کم ازکم ہمارا نظامِ صحت تو کسی صُورت اس کا متحمّل نہیں ہوسکتا۔

کورونا وائرس نے تیل کی قیمتوں کو ایک مرتبہ پھر گراوٹ کی انتہا تک پہنچا دیا ہے۔ سعودی عرب نے، جو دنیا میں سب سے بڑا تیل پیدا کرنے والا مُلک ہے، تیل کی قیمتوں میں تیس فی صد تک کمی کا اعلان کیا، جس کے نتیجے میں تیل کی قیمتیں 2016 ء کی سطح پر آگئیں، جب ایک بیرل تیل35 ڈالرز کے لگ بھگ تھا۔ سعودی عرب نے روس کو قائل کرنے کی کوشش کی تھی کہ وہ تیل کی سپلائی میں اضافہ کرے، تاہم ماسکو کے انکار کے بعد اس نے ازخود قیمتیں کم کردیں۔روس ،اوپیک ممالک سے باہر تیل کا سب سے بڑا پروڈیوسر ہے۔سعودی عرب کے بعد متحدہ عرب امارات نے بھی تیل کی پیداوار میں اضافہ کردیا، جس سے قیمتیں مزید گر گئیں۔ 

ظاہر ہے کہ تیل کی قیمتوں میں غیر معمولی کمی کے اثرات سعودی عرب اور خلیج کے ممالک پر پڑیں گے، لیکن دوسرے بڑے تیل پیدا کرنے والے ممالک جیسے روس، وینزویلا اور ایران بھی اس سے متاثر ہوں گے۔ان ممالک کی معیشتیں پہلے ہی جھٹکے کھا رہی ہیں، اس نئے بحران سے اُن کا کیا حشر ہوگا؟ اس کا جواب خوش گوار نہیں ہوسکتا۔ایران کورونا وائرس کے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے مُمالک میں شامل ہے۔ وہ اس وبا پر قابو پانے کی پوری کوشش کر رہا ہے، جس کا اعتراف عالمی ادارۂ صحت نے بھی کیا ہے، لیکن گرتی معیشت اس کی کوششوں پر اثر انداز ہوگی۔واضح رہے، ایران نے پندرہ برسوں میں پہلی مرتبہ آئی ایم ایف سے پانچ ارب ڈالرز کے قرضے کی درخواست کی ہے۔تیل پیدا کرنے والے مُمالک کے بجٹ کا زیادہ تر انحصار تیل کی رقوم پر ہے۔لہٰذا،اس میں غیرمعمولی کمی ان کے بجٹ کو بُری طرح غیر متوازن کردے گی۔

وہ اس مسئلے پر کس طرح قابو پائیں گے؟ یہ کسی بڑے چیلنج سے کم نہ ہوگا۔ خاص طور پر جب صرف چار سال قبل ہی وہ اسی نوعیت کی مشکل سے گزر چُکے ہوں اور جس کے اثرات ابھی تک برقرار بھی ہوں۔ پاکستان کے زرِ مبادلہ کا ایک بڑا ذریعہ بیرونِ ممالک مقیم پاکستانی تارکینِ وطن ہیں، اب اگر اُن ممالک کی آمدنی کم ہوتی ہے،تو اس کے براہِ راست اثرات ہمارے زرِ مبادلہ کی ترسیل پر پڑیں گے۔تیل کی قیمتوں میں کمی نے ساری دنیا کی اسٹاک مارکیٹس کو جھٹکے دیے ہیں، جس سے سرمایہ کاروں کے اربوں ڈالرز ڈوب گئے۔ 

یہاں تک کہ دنیا کے امیر ترین افراد کی فہرست بھی بدل گئی۔بھارت کے امبانی، جو ایشیا کے امیر ترین فرد شمار ہوتے تھے، اب دوسرے نمبر پر آگئے ہیں۔ دوسری طرف، تیل درآمد کرنے والے ممالک کے لیے قیمتوں میں کمی ایک خوش خبری ہےکہ اُن کی درآمدات کا بِل کم ہوجائے گا۔پاکستان تقریباً 14 ارب ڈالرز کا تیل درآمد کرتا ہے، جو اس کی سب سے بڑی سنگل درآمد ہے۔ قیمتوں میں تیس فی صد کمی کا مطلب یہ ہوا کہ اس کے چار ارب ڈالرز بچ جائیں گے۔ 

اسلام آباد کو آئی ایم ایف کے قرضوں، دوست ممالک کی امداد اور دوسری مالی معاونت نے طرح طرح کی بندشوں میں جکڑ رکھا ہے۔اس کے لیے اپنی معیشت سنبھالنا ایک چیلنج ہے، منہگائی نے عوام کو بُری طرح متاثر کیا ہے۔اس لیے چار ارب ڈالرز کی بچت اس کے لیے کسی لاٹری سے کم نہیں۔ سب سے پہلا فائدہ تو یہ ہے کہ اس کے پاس قرضے کی ادائی کے لیے ڈالرز آجائیں گے۔ پھر یہ کہ عوام توقّع کر رہے ہیں کہ یہاں بھی تیل کی قیمتوں میں خاطر خواہ کمی آئے گی، جس سے اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں بھی کمی ہوگی، کیوں کہ عام تاثر یہی ہے کہ ٹرانسپورٹ اور بجلی کی پیداوار کی لاگت میں کمی کی وجہ سے اشیائے صَرف کی قیمتوں میں بھی کمی ہوتی ہے، لیکن اس بات کا بھی قوی خدشہ ہے کہ حکومت کوئی بہانہ بنا کر عوام کو اس ریلیف سے محروم نہ کردے۔ 

ممکن ہے، وہ یہ عذر پیش کردے کہ ابھی تو معیشت کچھ قابو میں آئی ہے، اس لیے عوام تک کوئی قابلِ ذکر ریلیف پہنچانے کی پوزیشن میں نہیں۔ علاوہ ازیں، بجلی اور تیل پر جو ٹیکس لگتے ہیں، اُنھیں دیکھ کر اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ حکومت کے ریونیو کا بنیادی انحصار انہی ٹیکسز پر ہے۔ وہ نہ تو ٹیکس نیٹ بڑھانے میں کام یاب ہوئی اور نہ برآمدات میں کسی قسم کا اضافہ کرسکی۔ اسی لیے تیل کی عالمی قیمتوں میں کمی کی صورت لاٹری نکلی ہے، تو انعام کی رقم وہ خود ہی استعمال کرنے پر مُصر رہے گی۔

کورونا وائرس نے دنیا کی سیاست، معیشت، ثقافت اور معاشرت پر وہ اثرات مرتّب کیے ہیں، جو اِس سے پہلے کم ہی دیکھے گئے۔ ہاتھ ملانا، گلے لگنا اب پسند نہیں کیا جا رہا، جب کہ عبادات اور دیگر مذہبی رسومات تک کو محدود کرنا پڑا۔ کھیل کے میدان، سینما گھر اور تھیٹر سنسان ہو گئے۔ شاپنگ مالز ویران ہو رہے ہیں، جہاز کھڑے ہیں یا خالی اُڑ رہے ہیں، سیمینارز اور کانفرنسز منسوخ ہو رہی ہیں۔اولمپکس جیسے کھیلوں کے مقابلوں پر منسوخی کے سائے پڑ رہے ہیں۔ کیا اس کا یہ مطلب ہے کہ دنیا بھر کے لوگوں کو خوف زدہ کر کے پینک کی جانب دھکیلا جارہا ہے؟

کسی ماہر نے ٹھیک ہی کہا ہے کہ’’ اگر خوف سے احتیاط جنم لے، تو کوئی حرج نہیں، لیکن بے خوفی، بیماری پھیلنے کا باعث بن کر افراتفری مچا دے، تو وہ بدترین جرم ہے۔‘‘ بلاشبہ، جو سائنس دان اور ڈاکٹرز اپنے جیسے انسانوں کو اس عالمی وبا سے محفوظ رکھنے کے لیے اپنے رات دن قربان کر رہے ہیں، وہ عظیم ہیں۔ وہ کورونا وائرس کے خطرات کی بات کرتے ہیں، تو حفاظتی تدابیر بھی بتاتے ہیں اور ساتھ ہی عوام کا حوصلہ بھی بڑھاتے ہیں۔ بلاشبہ وہ انسانیت کے محسن ہیں، جو ہر قسم کے تعصب اور خوف سے بلند ہوکر صرف انسانیت کی خدمت کر رہے ہیں، وہ ہمارے بے پناہ تشکّر، عقیدت اور دعائوں کے مستحق ہیں۔ 

کورونا وائرس کا پہلا کیس چین میں 31 دسمبر2019 ء کو منظرِ عام پر آیا۔7 جنوری تک اس وائرس کی شناخت کر لی گئی۔ اسے’’ کووڈ۔19 ‘‘کہا گیا اور خیال ہے کہ یہ چمگادڑوں سے انسانوں میں منتقل ہوا۔ اسے کنٹرول کرنے کے لیے چین کے غیر معمولی اور سخت اقدامات نے کام دِکھایا اور اب اس کے پھیلائو کو محدود کردیا گیا ہے۔ کورونا وائرس پر اب تک عالمی سطح کے 164 تحقیقی مضامین لکھے جاچُکے ہیں۔ 700 سے زیادہ محقّق ان میں شریک ہوئے۔ اِس وقت آٹھ پراجیکٹس کورونا اس مرض کی ویکسین ایجاد کرنے پر کام کر رہے ہیں۔ ایک رپورٹ کے مطابق، جانوروں پر ٹیسٹس کیے جاچُکے ہیں اور بہت جلد انسانوں پر بھی ٹیسٹ شروع ہوجائیں گے۔کورونا وائرس ایک خطرناک عالمی وبا ضرور ہے، لیکن ایسے امراض سے مقابلہ کرنے کی صلاحیت بھی شاید انسان میں اس پہلے کبھی نہ تھی۔

سعودی عرب کا انقلابی قدم، دیگر مُسلم ممالک کے لیے باعثِ تقلید بھی…

سعودی عرب کی ایک خاص اہمیت یہ ہے کہ مسلمانوں کے مقدّس ترین مقامات، بیت اللہ شریف اور نبی کریمﷺ کا روضۂ مبارک وہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہاں مناسکِ عُمرہ کی دائیگی اور مقدّس مقامات کی زیارت کرنے والوں کا تانتا بندھا رہتا ہے۔ دنیا بھر سے یومیہ ہزاروں مسلمان اس عظیم سعادت کے حصول کے لیے وہاں کا رُخ کرتے ہیں۔کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے سبب ان مقدّس ترین مقامات اور زائرین کا تحفّظ سعودی حکومت کے لیے ایک بہت بڑا چیلنج تھا، جس سے وہ بہترین حکمتِ عملی کے ذریعے نِمٹ رہی ہے۔ سعودی حکومت نے ان مقدّس مقامات کو وائرس سے بچانے کے لیے خصوصی اسپرے کروایا، جس کے سبب کچھ دیر کے لیے مطاف خالی بھی کروانا پڑا، تاہم بالائی منازل پر حسبِ معمول بیت اللہ کا طواف جاری رہا۔ 

اسی طرح، عوام کو اس وبا سے بچانے کے لیے نمازِ جمعہ اور دیگر نمازوں کے اجتماعات کے اوقات کو بھی محدود کیا گیا۔ ان مقامات کی حسّاسیت اور وہاں دنیا بھر سے آمد ورفت کے باعث عُمرے کی ادائیگی پر بھی عارضی طور پر پابندی عاید کی گئی۔ اسی طرح اپنے شہریوں کے سفر کو بھی محدود کیا گیا۔ حکومت نے اس طرح کے تمام اقدامات علمائے کرام کی مشاورت سے کیے اور دنیا بھر میں اُنھیں سراہا گیا۔ علمائے کرام کا کہنا تھا کہ اسلام انسانی جان کی حفاظت پر زور دیتا ہے اور یہ آسانیاں فراہم کرنے والا مذہب ہے۔ 

اِس ضمن میں مسلم شریف سمیت صحاح ستّہ میں ذکر کردہ اُن احادیثِ مبارکہؐ کا بھی حوالہ دیا گیا، جن کے مطابق سیّدنا عبداللہ بن عُمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: رسول اللہ ﷺ کا مؤذن بارش اور تیز ہوا والی سرد رات میں اعلان کر دیا کرتا تھا ’’گھروں میں نماز پڑھ لو‘‘(سنن ابنِ ماجہ)۔ اسی طرح اُس حدیثِ مبارکہؐ کا بھی خاص طور پر ذکر کیا گیا، جس میں نبی کریمﷺ نے بچّے کے رونے پر ماں کی پریشانی کے سبب نماز مختصر فرما دی تھی۔ دوسری طرف، ایران میں بھی حکومت نے عوام کے تحفّظ کے لیے نمازِ جمعہ سمیت مختلف مذہبی اجتماعات اور زیارتوں کو محدود کیا، جس سے وبا پر قابو پانے میں مدد ملی۔

سندھ حکومت کے لیے بڑا امتحان، بڑے فیصلے

پاکستان میں کورونا وائرس کا پہلا کیس سندھ میں منظرِ عام پر آیا، جب کہ تادمِ تحریر مُلک میں اس وائرس سے متاثر ہونے والوں کی سب سے زیادہ تعداد کا تعلق اسی صوبے سے ہے۔ تاہم، واضح رہے کہ یہ تمام وہ افراد ہیں، جو ایران سے واپس آئے تھے، مقامی سطح پر وائرس نہیں پھیلا۔ حکومتِ سندھ نے پہلے مرحلے میں ایران سے آنے والے تمام افراد اور اُن کے اہلِ خانہ کا ڈیٹا جمع کیا، پھر ہنگامی بنیادوں پر اُن کی اسکریننگ کی گئی۔ 

اس طرح کے افراد کو قرنطینہ(طبّی قید) میں رکھا گیا تاکہ مرض پھیل نہ پائے۔ نیز، حفظِ ماتقدّم کے طور پر تعلیمی ادارے بھی کچھ دنوں کے لیے بند کر دئیے گئے کہ والدین بچّوں کے حوالے سے کچھ زیادہ ہی حسّاس ہوتے ہیں۔ بعدازاں طویل مشاورت کے بعد چھٹیاں31 مئی تک بڑھا دی گئیں، جب کہ میٹرک اور انٹر کے امتحانات بھی ملتوی کردیے گئے۔ ایک اہم معاملہ پی ایس ایل فائیو کے کراچی میں کھیلے جانے والے میچز بھی تھے۔ 

سُپر لیگ کے میچز پہلی بار پاکستان میں ہونے کے سبب عوام پُرجوش تھے، تو دوسری طرف عوام کی حفاظت کو یقینی بنانا بھی اہم تھا، سو، باقی میچز شائقین کے بغیر ہی کروانے کا فیصلہ کیا گیا۔ سندھ کے اسپتالوں میں خصوصی وارڈز بھی بنائے گئے، جہاں ماہر عملہ 24 گھنٹے موجود رہتا ہے۔ یہ تمام اقدامات اپنی جگہ، تاہم سندھ حکومت کا یہ شکوہ بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا کہ اس وبا سے بچنے کے لیے وفاقی حکومت کو جس طرح کا تعاون کرنا چاہیے تھا، وہ نہیں کیا گیا۔