آپ آف لائن ہیں
منگل 15؍ذیقعد 1441ھ 7؍جولائی 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

قرارداد پاکستان کے قومی اور بین الاقوامی مضمرات

ڈاکٹر طاہر حمید تنولی

(مصنف سربراہ شعبہ ادبیات اقبال اکادمی پاکستان ہیں) 

23 مارچ 1940 کو مسلمانان ہند نے اپنے مستقبل کے لیے جو تاریخی فیصلہ کیا اس کے مضمرات صرف مسلمانان ہند یا جنوبی ایشیا کے خطے کے لیے ہی اہم نہیں تھے بلکہ آنے والے حالات بھی اس سے متاثر ہونا تھے،خصوصاً آج کل کے عالمی حالات اس فیصلے کی معنویت کو مزید نکھار کر ہمارے سامنے لا رہے ہیں۔ مسلمانان ہند کا یہ فیصلہ جہاں آل انڈیا مسلم لیگ کی قیادت خصوصاً قائداعظم محمد علی جناحؒ کی بصیرت کا نتیجہ تھا وہاں وہ اس بات کا مظہر بھی تھا کہ مسلمان اس فکری حریت کے حامل ہیں جو انہیں معاصر حالات کی مجبوریوں میں قید رہنے کے بجائے ایک ایسی راہ عمل پر گامزن کرسکتی ہے جو انجام کار عالمی انسانی اقدار کے تحفظ کی ضامن بن جائے۔ قرارداد پاکستان میں مسلمانان ہند نے اپنے لیے جنوبی ایشیا میں محض ایک الگ وطن کا مطالبہ نہیں کیا تھا بلکہ جنوبی ایشیا کے عوام کے لیے خصوصا اور بین الاقوامی برادری کے لئے عموما یہ راہ عمل متعین کی کہ انسانیت کی بقا ذات پات رنگ نسل اور مذہبی تفریق کی بنیاد پر حقوق سے کمزور طبقوں کو محروم کرنے کی روش کی نفی میں ہے۔ کیونکہ یہ ایک حقیقت ہے کہ کانگریس مسلمانوں کے لئے معاندانہ اور دشمنانہ روش پر تو کاربند تھی ہی، وہ نیچ ذات کے ہندوؤں کے حقوق کی محافظ بھی نہ تھی۔ یہی وجہ ہے کہ جب گول میز کانفرنس کے دوران قائد اعظم محمد علی جناحؒ نے نیچ ذات کے ہندوؤں کے حقوق کی بات کی تو اس پر گاندھی نے شدید احتجاج کیا، بجائے اس کے کہ وہ اس موقف کی حمایت کرتے اور اس کے لیے اپنی تمام تر توانائیاں وقف کرنے کا اعلان کرتے۔ ایک ایسے معاشرے میں جہاں ہندو خود اپنے ہم مذہب افراد کو ان کے حقوق دینے پر تیار نہیں تھے ان سے یہ توقع نہیں کی جاسکتی تھی کہ وہ پورے ہندوستان میں اقتدار حاصل ہوجانے کے بعد دیگر قومیتوں خصوصاً مسلمانوں کے حقوق کی حفاظت کے لیے کوئی مناسب اقدام کرتے۔ گو اس وقت کے ہندوستان کے سیاسی سماجی اور معاشی حالات اس طرف رہنمائی نہیں کر رہے تھے کہ مسلمان ایک الگ ملک کے لیے جدوجہد کریں کیونکہ بے سروسامانی کے اس عالم میں اتنی بڑی منزل کا حصول ایک خواب سے کم نہ تھا۔ لیکن مسلمانوں کا یقین قوت عمل اور قائد اعظم محمد علی جناحؒ کی بصیرت نے انہیں یہ حوصلہ اور قوت فیصلہ دیا کہ وہ اپنی ماضی کی پوری تاریخ سے بالکل ہٹ کر اپنے لیے ایک نئی منزل کا تعین کرکے اپنی تمام تر توانائیاں اس کے لیے وقف کردیں۔ نتیجہ یہ ہوا کہ وہ منزل ایک حقیقت بن گئی ۔

تاہم المیہ یہ ہوا کہ پاکستان قائم ہوتے ہیں قیام پاکستان کے وہ مقاصد جن کو علامہ محمد اقبالؒ نے خطبہ الٰہ آباد میں بیان کردیا تھا اور بعدازاں قائداعظم محمد علی جناحؒ نے قرارداد پاکستان کے موقع پر کی جانے والی تقریر میں بڑی شرح و بسط کے ساتھ بیان کردیا تھا , پس منظر میں چلے گئے۔ اگر ہم علامہ محمد اقبالؒ اور قائد اعظمؒ کے فرامین اور بیانات کی روشنی میں پاکستان کے قیام کے مقاصد متعین کریں تو سرفہرست مقاصد تین تھے۔ مسلمانان ہند کے معاشی مسائل کا حل، امن کا قیام اور انصاف دوستی اور خیرسگالی کی فضا پر مبنی ایسی خارجہ پالیسی جس کی روشنی میں بیرونی ممالک سے غیر جانبدارانہ تعلقات قائم کرکے عالمی امن بھائی چارے اور مساوات انسانی کو یقینی بنایا جا سکے۔ اس معاملے میں کوئی دوسری رائے نہیں کہ آزادی کے حصول کا ایک بنیادی مقصد مسلمانان ہند کے معاشی مسائل کا حل تھا۔ علامہ محمد اقبالؒ نے اپنے خطوط میں قائداعظم کو اس طرف متوجہ کیا اور اپنے 28مئی 1936 کے خط میں قائداعظمؒ کے نام لکھا کہ اگر آل انڈیا مسلم لیگ حقیقی معنوں میں عوامی جماعت بننا چاہتی ہے تو اسے چاہیے کہ مسلمانوں کی روٹی کے مسئلہ کو اپنے ایجنڈے کا حصہ بنائے۔ تاہم مسلمانان ہند کے معاشی مسائل اور روٹی کے مسئلہ کا حل اس بات میں مضمر ہے کہ اسلام کا قانون معاش نافذ کیا جائے ۔ علامہ نے قائداعظمؒ کو اس حقیقت کی طرف متوجہ کیا کہ اسلام کا قانون معاش اس وقت تک نافذ نہیں ہو سکتا جب تک مسلمانوں کے پاس خود قوت اقتدار نہ ہو اور قوت اقتدار کے حصول کے لیے ضروری ہے کہ مسلمان الگ وطن کے لیے جدوجہد شروع کریں۔ علامہ اقبالؒ نے قائداعظمؒ کے نام لکھے ہوئے اپنے خطوط میں مسلمانوں کی غربت و افلاس کا حل ایک ایسے خطہ ارضی یعنی آزاد ملک کو قرار دیا جہاں وہ اپنی بنیادی ضروریات آسانی سے اور باعزت طریقے سے حاصل کرسکیں ۔ کیوں کہ اس وقت ہندوستان کا مسلمان معاشی طور پر جبرواستحصال کی جس چکی میں پس رہا تھا اس کے پیش نظر مسلمانوں کے معاشی مسائل کا باعزت اور آزادانہ حل اولیں ترجیح قرار پانا ایک فطری امر تھا ۔

علامہ اقبالؒ نے خطبہ الٰہ آباد میں تاریخی شواہد کے ساتھ اس نکتے کو بیان کیا کہ دنیا کے نقشے میں شمال مغربی ایشیا کی جغرافیائی پوزیشن بے حد اہم ہے اور یہ خطہ خاص طور پر جنوبی ایشیا میں امن برقرار رکھنے کا فریضہ سرانجام دے سکتا ہے۔ قیام پاکستان سے پہلے اور بعد خارجہ پالیسی کے حوالے سے قائداعظمؒ کے واضح بیانات اس حقیقت کو نمایاں کرتی ہیں کہ عزت وقار کی بنیاد پر دنیا کے تمام ممالک کے ساتھ تعلقات استوار کرنا اور غیر جانبدارانہ پالیسی اختیار کرنا جسے پاکستان امن عالم کے قیام میں موثر کردار ادا کر سکیں قائداعظمؒ کا ویژن تھا۔ اس وقت ہندوستان کے حالات قائداعظمؒ کی ویژن کی نہ صرف تصدیق کرتے ہیں بلکہ پاکستان کی قیام کی صورت میں اس بگاڑ کے سامنے ایک رکاوٹ بھی فراہم کرتے ہیں جس کا شکار اس وقت ہندوستانی معاشرہ ہے۔ ہندوستان میں ہندوؤں کے تعصب کی وجہ سے یہاں کے عوام کو مستقبل میں جو خطرات درپیش ہو سکتے تھے قائداعظم نے ان کی پیش بینی کرتے ہوئے اپنی بے مثال فراست سے مستقبل کی منصوبہ بندی کی اور جنوبی ایشیا میں زبردست ہندو اکثریت اور موثر انگریز انتظامی مخالفت کے باوجود ایک آزاد اور خودمختار ملک کے حصول کو ممکن بنانے کے لیے بے مثال جدوجہد کی ۔ قائداعظمؒ جہاں انگریز کے مزاج سے واقف تھے وہیں ہندو نفسیات سے بھی پوری طرح آگاہ تھے۔ وہ ہندوؤں کے اکھنڈ بھارت کے فلسفے اور ان کے مخفی ارادوں سے بخوبی آگاہ تھے۔

یہی وجہ ہے کہ انہوں نے 23 مارچ 1940 کو منٹو پارک لاہور میں قرارداد پاکستان کی منظوری کے موقع پر بڑی وضاحت سے اس بات کو بیان کیا کہ ہمارے انگریز دوست اسلام اور ہندو دھرم کے فرق کو کیوں نہیں سمجھتے۔ درحقیقت یہ دونوں محض مذاہب نہیں ہیں بلکہ ایک دوسرے سے مختلف معاشرتی نظام بھی ہیں۔ یہ محض ایک خواب ہے کہ کبھی ہندو اور مسلمان مل کر ایک قوم بن سکتے ہیں۔ ہندوؤں اور مسلمانوں کا مذہبی فلسفہ معاشرتی طور طریقے اور ادب ایک دوسرے سے بالکل مختلف ہیں ان کا تعلق دو مختلف تہذیبوں سے ہے اور ان تہذیبوں کی بنیاد ایک دوسرے سے متضاد نظریات اور تصورات پر قائم ہے مسلمانوں اور ہندوؤں کی تاریخ کے ماخذ مختلف ہیں ان کی بہادری کی داستانیں واقعات اور قابل فخر ہیرو الگ الگ ہیں بلکہ اکثر اوقات تو یوں ہے کہ ایک قوم کے قابل فخر ہیرو دوسرے کے دشمن اور ایک کی فتح دوسری قوم کی شکست ہوتی ہے۔

خطے کے موجودہ حالات خصوصاً کشمیر اور ہندوستان میں مسلمانوں پر جاری مسلسل آزمائش اور ہندو مظالم ہمیں اس طرف متوجہ کرتے ہیں کہ ہم قیام پاکستان کے مقاصد کو ازسرنو اپنی قومی ایجنڈے کا حصہ بنائیں اور اپنی تمام انفرادی اور قومی ترجیحات ان مقاصد کی روشنی میں طے کریں ۔ نہ صرف ایشیا بلکہ عالمی سطح پر پاکستان کو جو امن عالم کے قیام کے حوالے سے کردار ادا کرنا ہے اس کے راستے میں حائل علاقائی اور بین الاقوامی دشواریوں پر اسی صورت میں قابو پایا جا سکتا ہے کہ پاکستان سیاسی معاشی اور سماجی طور پر مستحکم ہو۔ جمہوریت اپنی روح کے ساتھ ہے پاکستانی معاشرے میں روبعمل ہو۔ اسلام کی عطا کی ہوئی نظریاتی اساس پاکستان کی تمام اکائیوں کاموثر رشتہ اور وسیلہ رابطہ ہو اور اسلام کے عطا کئے ہوئے وہ بالا برتر قومی مقاصد جن کا تذکرہ علامہ محمد اقبالؒ نے خطبہ الٰہ آباد اور قائداعظم محمد علی جناحؒ نے قرارداد پاکستان کے موقع پر اپنے خطاب میں کیا ان مقاصد کا حصول ہماری قومی ترجیح اول ہو۔ آج کا دن اسی عہد کو پھر سے تازہ کرنے کا دن ہے۔

اسپیشل ایڈیشن سے مزید