آپ آف لائن ہیں
بدھ11؍ شوال المکرم 1441ھ3؍جون 2020ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

’’ ہمیں اطلاع ملی کہ ایک شخص کھیتوں میں شدید زخمی حالت میں پڑا ہے، اس پر ہم پانچ منٹ کے اندر وہاں پہنچ گئے۔ زخمی شخص پر کلہاڑیوں کے کئی وار کیے گئے تھے۔ اُس کا گلا جگہ جگہ سے کٹا ہوا تھا۔ نیز، سَر پر بھی شدید زخم تھے اور اُسے سانس لینے میں بہت مشکل پیش آرہی تھی۔ ہم نے اُسے ابتدائی طبّی امداد فراہم کی۔ آکسیجن کی فراہمی کے ساتھ ضروری انجیکشنز اور ڈرپس لگائیں، پھر اُسے فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کردیا۔ بعدازاں، ورثا کی خواہش پر زخمی کو وہاں سے ٹھٹھہ اسپتال منتقل کیا۔ ہم بہت خوش ہیں کہ ہماری اِس محنت کے نتیجے میں ایک قیمتی جان بچ گئی۔‘‘ ہمارا گزشتہ دنوں سجاول( سندھ) کے نواحی علاقے، میرپور بٹھورو کے ایک گاؤں، حاجی عثمان جتوئی جانا ہوا، تو وہاں’’ سندھ پیپلز ایمبولینس سروس‘‘(SPAS)کے رضاکار، جگدیش سے ملاقات ہوئی، جنھوں نے یہ واقعہ سُنایا۔ اس موقعے پر بہت سے مقامی افراد کے ساتھ متاثرہ شخص بھی موجود تھا۔ اس دَوران امتیاز جتوئی، جو کافی حد تک صحت یاب ہوچُکے ہیں، بار بار ایمبولینس سروس کے عملے کا شُکریہ ادا کرتے رہے۔ اُن کا کہنا تھا’’ یہ لوگ تو رحمت کے فرشتے بن کر آئے، وگرنہ میرا زندہ بچنا بے حد مشکل تھا۔‘‘ ’’ اس طرح کسی جائے وقوع پر یوں پہنچنا، خطرناک بھی تو ہوسکتا ہے؟‘‘ اس سوال پر جمشید جوکھیو، اسٹیشن سپروائزر نے بتایا’’ ہاں، کئی بار مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے، مگر ہم اپنے رضاکاروں کی حفاظت بھی یقینی بناتے ہیں۔ 

اِس طرح کے کسی واقعے کی اطلاع ملنے پر علاقہ پولیس کو بھی آگاہ کیا جاتا ہے تاکہ قانونی پیچیدگیوں سے بچا جا سکے، تو دوسری طرف، اپنی ٹیم کو بھی محفوظ ماحول فراہم کیا جاسکے۔ علاوہ ازیں، جائے حادثہ پر ممکنہ خطرات سے بچاؤ کے لیے دیگر اقدامات بھی کیے جاتے ہیں۔ جس کا ایک طریقہ کمیونٹی سے اچھی انڈراسٹینڈنگ بھی ہے۔ یوں ریسکیو آپریشنز میں رکاوٹوں کاخاتمہ یقینی بنایا جاتا ہے۔‘‘ اِسی طرح ایک واقعہ گھارو کے قریب پیش آیا، جب ایک مسافر کوسٹر ڈرائیور کی غفلت کی وجہ سے نہر میں جاگری۔ تاہم مسافروں کی خوش قسمتی یہ رہی کہ وہاں سے ایس پی اے ایس کی ایمبولینس گزر رہی تھی، جس میں موجود عملے نے ایک لمحہ بھی ضائع کیے بغیر ریسکیو آپریشن شروع کردیا اور تمام افراد کو بحفاظت نہر سے باہر نکال لائے۔

اندرونِ سندھ کے کئی علاقوں میں اب بھی خواتین کو محفوظ زچگی کی سہولت حاصل نہیں، یہی وجہ ہے کہ ایسے کیسز میں اُنھیں دیہات سے شہروں کا رُخ کرنا پڑتا ہے۔ تاہم، اچھی بات یہ ہے کہ سندھ پیپلز ایمبولینس سروس اِس حوالے سے بھی نمایاں خدمات انجام دے رہی ہے۔اعداد وشمار کے مطابق، خواتین کی اسپتال منتقلی کے دَوران 195 بچّوں کی ایمبولینسز میں پیدائش ہوئی اور تربیت یافتہ عملے نے تمام مراحل انتہائی مہارت سے سرانجام دئیے۔ان بچّوں میں 5 جڑواں بچّے بھی شامل ہیں۔ ایک شخص نے قریبی دیہات میں پیش آنے والا واقعہ سُنایا کہ’’ ایک انتہائی غریب ماں کی آغوش میں نومولود بچّہ سسک رہا تھا اور اُس کے زندہ بچنے کے امکانات نہ ہونے کے برابر تھے، ایسے میں سندھ پیپلز ایمبولینس سروس کے عملے نے بچّے کو فوری طور پر زندگی بچانے والی امداد، سی پی آر فراہم کی، جس سے کچھ ہی دیر میں بچّے نے آنکھیں کھول دیں۔‘‘

یہ ایمبولینس سروس، سندھ حکومت کا ایک شان دار منصوبہ ہے، جس میں اُسے امن فاؤنڈیشن کی معاونت حاصل ہے۔ ٹھٹّھہ اور سجاول اضلاع میں اس سروس کا آغاز17 مارچ 2017ء کو کیا گیا اور ان تین برسوں کے دَوران اس سے براہِ راست فائدہ اُٹھانے والوں کی تعداد 70 ہزار سے تجاوز کر چُکی ہے۔اس پراجیکٹ کے آپریشن مینجر، وزیر احمد نے ایک سوال کے جواب میں بتایا’’ ان دونوں اضلاع میں کئی پوائنٹس قائم کیے گئے ہیں، جہاں 22 ایمبولینسز عملے کے ساتھ ہمہ وقت تیار کھڑی رہتی ہیں، جب کہ کئی ایمبولینسز بیک اَپ پر بھی موجود ہوتی ہیں۔ ان تمام ایمبولینسز کو مکلی کے سِول اسپتال میں قائم مرکز سے کنٹرول کیا جاتا ہے۔ خدمت کا یہ کام عوام کے لیے ہفتے کے ساتوں دن اور چوبیس گھنٹے جاری رہتا ہے۔ یہ ایک مفت سروس ہے اور عوام سے ایک پیسا بھی وصول نہیں کیا جاتا۔ ہمیں یومیہ اوسطاً 125 کالز موصول ہوتی ہیں، جن میں سے ہر تیسری کال مریض کی کراچی منتقلی سے متعلق ہوتی ہے اور اب تک 18737 مریضوں کو کراچی کے مختلف اسپتالوں میں منتقل کیا جا چُکا ہے۔ ہم کال وصول ہونے پر محض 2 منٹ کے اندر اندر ایمبولینس روانہ کردیتے ہیں، جب کہ اب تک کے اعداد و شمار کے مطابق، ایمبولینسز زیادہ سے زیادہ 11منٹ میں مطلوبہ مقام تک پہنچ جاتی ہیں۔ اتنے کم وقت میں مطلوبہ مقام تک پہنچنے کی بڑی وجہ ہمارے وہ پوائنٹس ہیں، جو ان اضلاع میں پھیلے ہوئے ہیں۔ہمارا عملہ 200افراد پر مشتمل ہے، جس میں 25 فی صد خواتین ہیں۔‘‘

ہم مکلی میں قائم مرکز بھی گئے، جہاں چاق چوبند عملہ فرائض کی انجام دہی میں مصروف تھا۔اِس دَوران کال وصولی اور رسپانس کے مناظر بھی دیکھنے کو ملے۔اس موقعے پر امن فاؤنڈیشن کے سینئر مینجر مارکیٹنگ اور کمیونی کیشنز، مرتضیٰ عبّاس نے مختلف سوالات کے جواب میں بتایا’’یہ ایمبولینس سروس سندھ حکومت کی مالی امداد سے کام کر رہی ہے۔نیز، فراہم کردہ رقوم کا ہر سال آڈٹ بھی ہوتا ہے۔ایک طرف عوام کے علاج معالجے میں معاونت کی جا رہی ہے، تو دوسری طرف، مقامی افراد میں صحت اور خدمت کے حوالے سے شعور بھی اجاگر کیا جا رہا ہے۔ ہماری ٹیمز مقامی اسکولز میں جاکر بچّوں کو دوسروں کی خدمت کی ترغیب دیتی ہیں اور اُنہیں ابتدائی طبّی امداد کی تربیت بھی دی جاتی ہے۔ نیز، اُنھیں کہا جاتا ہے کہ جو ابتدائی طبّی امداد کے ذریعے ضرورت مندوں کی مدد کرے گا، اُسے’’ ہیرو آف دی ویلیج‘‘ قرار دیا جائے گا، اس سے بھی بچّوں میں دوسروں کی مدد کے جذبات فروغ پا رہے ہیں۔‘‘

بلاشبہ،’’ سندھ پیپلز ایمبولینس سروس‘‘ کے تحت سَرانجام دی جانے والی خدمات قابلِ ستائش اور قابلِ تقلید ہیں۔ تاہم، ضرورت اس اَمر کی ہے کہ اس کا دائرۂ کار صوبے کے دیگر علاقوں تک بھی پھیلایا جائے تاکہ عوام کو علاج معالجے کی مناسب سہولتیں حاصل ہوسکیں۔

سنڈے میگزین سے مزید