آپ آف لائن ہیں
منگل 10؍ شوال المکرم 1441ھ 2؍ جون 2020ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

ایمان کی دولت دین و دنیا کا سب سے بہترین متاع اور سب سے قیمتی سرمایہ ہے۔ایمان ہی درحقیقت بندگی کی بنیاد،فلاح و کامیابی کا سرچشمہ اور آخرت میں کامیابی اور نجات کی بنیاد ہے۔ارشادِ ربانی ہے:’’اللہ نے ان لوگوں سے وعدہ کیا ہے جو تم میں سے ایمان لائے اور انہوں نے نیک کام کیے،انہیں ضرور زمین کی(سلطنت) خلافت دے گا‘‘۔(سورۂ نور)الحمدللہ،ہم مسلمان ہیں،مسلمان ہونا بڑے فخر کی بات ہے کہ ہم ایمان کی دولت سے مالا مال ہیں،ایمان کی نعمت جسے مل جائے،وہ بڑا ہی خوش نصیب ہے، نعمت کا حق ہم ادا کرتے رہیں تو یہ نعمت ہمارے دین کے لیے تو ہے ہی نصرت وکامیابی کی دلیل،دنیا میںبھی کامیابی وکامرانی کی علامت ہے۔اہل ایمان کو اس نعمت کی برکت سے ایسا عظیم اعزاز عطا فرمایا گیا کہ اسے بادشاہت کی نوید سناکر روئے زمین کا خلیفہ بنادیا۔

ایمان اس دنیا کی سب سے بڑی دولت ہے ،یہ دولت جس کے پاس ہوگی، وہ آخرت میں کامیاب ہوگا اور جنت اسے ملے گی،بصورت دیگر بندہ ناکام و نامراد ہوگا اور بدلے میں اسے جہنم کے حوالے کر دیا جائے گا،نبی اکرم ﷺہمیشہ صحابۂ کرامؓ کو شیطان سے بچانے کی فکر کیا کرتے تھےاور انہیں ہمہ وقت اس بات کی نصیحت کرتے تھے کہ اپنا ایمان باقی رکھو،اللہ کے ساتھ شرک نہ کرو،شیطان کی پیروی اور اطاعت سے خود کو بچاؤ۔ایسا صرف اس لئے کیونکہ شرک سے بندے کا ایمان خطرے میں پڑ جاتا ہے،اللہ ناراض ہوتا ہے اور بنا توبہ کئے اگر شرک ہی پر بندے کا انتقال ہو جائے تو جنت اس پر حرام ہو جاتی ہے اور جہنم اس کا مقدر بن جاتا ہے۔ارشادِ خداوندی ہے:یقین مانو کہ جو شخص اللہ کے ساتھ شرک کرتا ہے، اللہ تعالیٰ نے اس پر جنت حرام کر دی ہے ،اس کا ٹھکانہ جہنم ہی ہے اور گنہگاروں کی مدد کرنے والا کوئی نہ ہوگا۔(سورۃ المائدہ)

اللہ کے فضل و کرم سے اگر آپ کے پاس ایمان کی دولت ہے تو آپ اس پر رب کا شکر ادا کریں اور اپنے ایمان کو ہر طرح کی غلاظت و گندگی سے بچانے کی فکر کرتے رہیں،بلکہ اپنے ایمان کی سلامتی کے لئے مسلسل اللہ سے دعائیں مانگتے رہیں۔

ایمان کی تعریف کرتے ہوئے علمائے کرام نے لکھا ہے:زبان سے اقرار کرنا ،دل سے اس بات کی تصدیق کرنا ،اعضاء و جوارح کے ذریعے عمل کرنا،یہ اللہ کی اطاعت سے بڑھتا ہے اور شیطان کی اطاعت سے کم ہوتا ہے۔گویا کہ ایمان زبان،دل اور اعضاء و جوارح کو مکمل اللہ کے حوالے کر دینے کا نام ہے، اگر کوئی شخص صرف زبان سے لا الہ الا اللہ کا کلمہ پڑھتا ہے، مگر اس کا دل اس کی زبان کی تصدیق نہیں کرتا تو اسے مومن نہیں کہا جائے گا ،کوئی ایسا ہے جو دل سے تو مانتا ہے کہ اسلام سب سے اچھا اور پیارا مذہب ہے اور اس بات کا بھی عقیدہ رکھتا ہے کہ اللہ ہی پوری دنیا کو بنانے والا ہے اور وہی اکیلا عبادت کے لائق ہے ،لیکن زبان سے اس بات کا اقرار نہیں کرتا تو ایسے شخص کا صرف دل سے تصدیق کرنا بھی اس کے مومن ہونے کے لئے کافی نہیں ہوگا، اسی طرح کوئی ایسا ہے جو زبان اور دل دونوں سےتو مانتا ہے کہ اللہ ایک ہے اور وہی عبادت کے لائق ہےلیکن عمل کی دنیا میں وہ زبان اور دل کے خلاف جاتا ہے اور عمل کرتا ہی نہیں ہے تو ایسے شخص کا ایمان بھی خطرے میں ہے،یہاں تک کہ وہ عمل کرنے لگے۔ایمان ایسی چیز ہے جس میں کمی و زیادتی ہوتی رہتی ہے، صاحب ایمان شخص جب اللہ کی اطاعت کرے گااور اس کی مرضی کے مطابق چلے گا تواس کے ایمان میں اضافہ ہوگا بصورت دیگر اس کے ایمان میں کمی واقع ہو جائے گی۔

ایمان لانے کے بعد صاحب ایمان کو کون کون سے فوائد حاصل ہوتے ہیں، نیز شریعت نے ایمان کی کن فضیلتوں کو بیان کیا ہے،ذیل میں ایمان کی چند فضیلتوں اور ان کے دلائل کا تذکرہ کیا جا رہا ہے:

1- ایمان دنیوی و اخروی سعادت و ہدایت کا ذریعہ ہے۔جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے،جس شخص کو اللہ تعالیٰ راستے پر ڈالنا چاہے، اس کے سینے کو اسلام کے لئے کشادہ کردیتا ہے ۔ (سورۃالانعام: 125)

2- اللہ کے نزدیک سب سے بہترین عمل ایمان ہے۔حضرت ابو ذر ؓ سے روایت ہے کہ میں نے آپ ﷺ سے یہ سوال کیا: اللہ کے رسولﷺ، کون سا عمل سب سے زیادہ افضل ہے؟ تو آپ ﷺ نےفرمایا : اللہ تعالیٰ کی ذات پر ایمان رکھنا اور اس کے راستے میں جہاد کرنا۔ (صحیح بخاری)

3- ایمان کی موجودگی مومن کو گناہوں سے باز رکھتی ہے۔جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے،یقیناً جو لوگ تقویٰ والے ہیں، جب انہیں کوئی خطرہ شیطان کی طرف سے آجاتا ہے تو وہ یاد میں لگ جاتے ہیں، سو اچانک ان کی آنکھیں کھل جاتی ہیں۔ (سورۃ الاعراف: 201)

4- ایمان عمل کے قبولیت کی شرط ہے۔اللہ عزوجل فرماتا ہے:یقیناً آپ کی طرف بھی اور آپ سے پہلے ( کے تمام نبیوں) کی طرف بھی وحی کی گئی ہے کہ اگر آپ نے شرک کیا تو بلا شبہ آپ کا عمل ضائع ہوجائے گا اور آپ خسارہ اٹھانے والوں میں سے ہوجائیںگے۔ (سورۃالزمر: 65)

حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ ایک دن رسول اکرمﷺ تشریف فرما تھے کہ اچانک ایک شخص آیا اور کہنے لگا کہ ایمان کسے کہتے ہیں؟آپﷺ نے فرمایا:ایمان یہ ہے کہ تم اللہ،اس کے فرشتوںاور آخرت میں اللہ سے ملنے پر اور اللہ کے رسولوں پر اور(دوبارہ زندہ )اٹھائے جانے پر یقین رکھو۔(صحیح بخاری)

مطلب یہ ہوا کہ ایمان کو یقین کامل کے درجے تک پہنچادو،اور اس منزل پر پہنچادو کہ گویا’’جدھر دیکھتا ہوں،ادھر توہی تو ہے‘‘اس کے معنیٰ یہ ہوئے کہ کاربد، برے فعل سے اجتناب کا جذبہ پیدا ہو، ہر قدم اٹھانے سے پہلے زمین سے آسمان تک نظر ڈالو اور اس خلافت،حاکمیت پر یقین رکھتے ہوئے خیال کرو کہ اللہ دیکھ رہا ہے،توکوئی گناہ سرزد نہ ہوگا۔سرکاردوعالمﷺ نے ارشاد فرمایا:’’سب سے افضل ایمان یہ ہے کہ تو اس بات پر یقین رکھے کہ ذات باری تعالیٰ بلاشبہ تیرے ساتھ ہے،جہاں تو ہے‘‘۔(طبرانی)

حضرت ابوسعید خدریؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:’’جو تم میں سے کسی خلاف شریعت کام کو دیکھے اور اسے ہاتھ سے روکنے کی طاقت نہ ہو تو زبان سے روکے،اگر زبان سے روکنے کی طاقت بھی نہ ہو تو دل میں اسے براجانے کہ یہ ایمان کا سب سے کم تر درجہ ہے‘‘۔(صحیح مسلم)

غورکیجیے ہاتھ اٹھنے سے قاصر،زبان بولنے سے عاجز ایک ’’دل‘‘ ہے،کاش،ہم دل ہی میں برا جان لیں کہ ایمان کا درجہ تو قائم رہے،خواہ وہ کم ہی سہی،مگر دل جو یاد الٰہی میں لگا رہتا،آج دنیوی لذتوں کویاد کرنے اور انہیں لوٹنے کے ارادوں میں لگا رہا۔اللہ کی یاد سے غافل،کیا آج ہماری یہ ذلت ورسوائی حدسے تو عبور نہیں کرگئی کہ تباہی وبربادی کے آثار نمایاں ہونے لگے ہیں،کیاصرف زبان سے مسلمان کا نعرہ لگانے سے کام چل سکتاہے؟ہرگز نہیں۔اسلام میں اللہ اورسرکار دوعالمﷺ کے نزدیک عبادت اور اطاعت زبانی نہیں،بلکہ عملی درکار ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ ’’ایمان‘‘ بندۂ مومن کے لیے ایک ایسی دولت ہے،جواس کی حفاظت کرگیا۔وہ بالآخر دارین میں فتح ونصرت سے مالا مال ہوگا۔ایسا یقین اور ایسا ایمان کامل کہ ہرسانس میںاللہ ہی اللہ۔رسول اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا:’’بندے کا ایمان اس وقت تک کامل نہیں ہوسکتا،جب تک وہ اللہ ہی کے نام پر دوستی اور اللہ ہی کے نام پر دشمنی کرنے کا عادی نہ ہوجائے،پھر جب وہ عادی بن جاتا ہے تو وہ اس کا مستحق ہوجاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اسے اپنی ’’ولایت‘‘سے نواز دے‘‘۔(مسند احمد)

یہ سب سے بڑا اعزاز،مگر،ادھر موت ادھر یوم حساب، وقت نامعلوم،ابھی وقت ہے۔ایمان کو مستحکم کرکے عافیت اوراس اعزاز کو مستقل اپنے نام کرالیں۔بے شک،ایمان کی ایک بڑی علامت صبر ہے اور یہ اطمینان قلب کا نام ہے،ایمان بالصبر۔یہ سکون وراحت عطا کرتا ہے،عزت ووقار دیتا ہے،ذلت ورسوائی سے بچاتا ہے۔حضور اکرمﷺ کا ارشاد ہے:صبر ایمان کا سر ہے‘‘۔حضورِ پرنور ﷺ کا فرمانِ مبارک ہے :’’ایمان کے دو حصّے ہیں،آدھا صبر اورآدھا شکر۔‘‘حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسولِ اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا :’’اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے کہ جب میں اپنے بندۂ مومن کی کوئی دنیوی محبوب چیز لے لوں اور وہ اس پر صبر کرے تو اس کے لیے میرے پاس جنت کے سوا کوئی اور بدلہ نہیں ہے۔‘‘ (صحیح بخاری)

ایک مقام پر فرمایا گیا: ’’یہ (اہلِ ایمان) وہ لوگ ہیں کہ جب اللہ کا نام لیا جاتا ہے تو ان کے دل ڈر جاتے ہیں اور (جب) ان پر کوئی مصیبت پڑتی ہے تو وہ صبرکرتے ہیں اور نماز خشوع سے پڑھتے ہیں اور جو مال ہم نے انہیں عطا فرمایا ہے،اُس میں سے (نیک کاموں میں) خرچ کرتے ہیں۔‘‘ (سورۃ الحج )اللہ تعالیٰ ایمان اوراپنی اطاعت والی عزت سے،اپنے رسول ﷺ کی فرماں برداری سے،تمام ایمان والوں کو نوازے۔فرمان الٰہی ہے:’’عزت کا مقام اللہ ہی کے لیے ہے اور اس کے رسول ﷺ کے لیے اور ایمان والوں کے لیے‘‘۔(سورۃ المنافقون)اللہ تعالیٰ ہم سب کو صاحب ایمان بننے اور اپنے ایمان کی حفاظت کی توفیق عطا فرمائے کہ اس سے بڑی کوئی دولت نہیں جو دنیا وعقبیٰ میں کام آسکے۔

اقراء سے مزید