آپ آف لائن ہیں
ہفتہ8؍ صفر المظفّر 1442ھ 26؍ستمبر 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

دیار غیر ضرور جائیں، لیکن جعلی ایجنٹوں سے ہوشیار رہیں

سیّد اطہر حسین نقوی

ہر نوجوان اپنا مستقبل روشن اور تابناک دیکھنا چاہتا ہے، تاکہ وہ ایک کام یاب اور بھرپور زندگی گزارسکے ، اس ترقی یافتہ دور میں جہاں معاشی سبقت بازی کا مقابلہ جاری ہے ،وہاں ہر کسی کی یہ ہی خواہش ہے کہ اس کی زندگی بہتر ہو، ایک ایسی زندگی گزارے، جس میں معاشی پریشانیاں ہوں نہ تنگ دستی۔ لہٰذایہ نسل اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے اور فارغ التحصیل ہونے کے بعد بہتر روزگارکے حصول کے لیے ہر ممکن کوشش کرتی ہے۔ لیکن ہمارے ملک میں نوجوانوں کے لیے اپنے متعلقہ شعبے میں میں روزگار حاصل کرنا کسی طور آسان نہیں ہے، یہ ایک ایسا مسئلہ ہے، جو یہاں برس ہا برس سے چلا آرہا ہے۔

دیکھنے میں آیا ہے کہ صرف چند نوجوان ہی اپنی اہلیت کے مطابق اچھا روزگار حاصل کرنے میں کام یاب ہوپاتے ہیں، باقی نوجوانوں کو مایوسی کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جس کی وجہ سے وہ دل برداشتہ ہو جاتے ہیں۔دوسری طرف ایسے نوجوان بھی ہیں، جن کا تعلق پس ماندہ طبقے سے ہے، یہ نہ تو بہتر تعلیم و تربیت حاصل کرپاتے ہیں اور نہ ہی انہیں روزگار کے اچھے مواقع میسر ہوتے ہیں، غریبی میں آنکھ کھولی اوربچپن ہی سے محنت،مزدوری کرنے میں جت گئے، عیش وآرام کی زندگی ان کے لیے محض ایک خواب ہی ہوتی ہے۔ کم سنی ہی سے مشقت کرنے کے باوجود ان کی زندگی، مالی مشکلات اورتنگ دستی کاشکار رہتی ہے۔ وہ اور ان کے گھر والے تا عمر خوش حال و پرسکون زندگی گزارنے کے لیے ترستے ہیں، ان ہی پریشانیوں اور مشکلات کے سبب نسل نو کی بڑی تعداد ، تلاش معاش کے لیےبیرون ممالک قسمت آزمانے کا سوچتے ہیں۔

ہمارے ملک میں ایسے نوجوانوں کی بھی کمی نہیں ہے، جو اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کی غرض سے دیا ر غیر کا رخ کرتے ہیں، ان میں سے کچھ تو باقاعدہ تعلیم حاصل کرکے وطن واپس آجاتے ہیں، جب کہ اکثر نوجوان اسٹوڈنٹ ویزا پر جانے کے بعد وہاں جا کر روپوش ہو جاتے ، چھپ چھپا کر دوردراز علاقے میں پیٹرول پمپ، ہوٹلز یا فارم ہائوس وغیرہ میں کام کر نے لگتے ہیں، تاکہ اپنا پیٹ پالنے کے ساتھ گھر والوں کو بھی پیسے بھیج سکیں، والدین اس بات سے انجان کہ ان کی اولادغیر قانونی طور پر بیرون ملک میں سکونت اختیار کیے ہوئے ہے، مطمئن و خوش رہتے ہیں کہ ہماری اولاد کسی قابل ہوگئی ہے، در حقیقت یہ خوشی عارضی ہوتی ہے، کیوں کہ جب غیر قانونی طور پر رہنے والے نوجوان ، اس ملک کی پولیس یا قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ہاتھ آتے ہیں ، تو انہیں سخت سزاؤں کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔

ہمارےنوجوانوں کی کثیر تعداد وہاں کی جیلوں میں بند ہے یا پھر انہیں ممنوعہ علاقے میں محصور کر دیا جاتا ہے، جہاں سے نکلنا مشکل ہی نہیں ناممکن ہوتاہے۔ وقتاً فوقتاً ایسی خبریں اخبارات کی زینت بنتی رہتی ہیں، جو ہمارے لیے لمحہ ٔ فکریہ ہے۔اس کے علاوہ کئی نو جوان جعل ساز ایجنٹوں کے ہاتھ گمراہی کا شکار ہوکر مصیبت میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ وہ ایسے سادہ لوح، معصوم نوجوانوں کی تلاش میں رہتے ہیں، جومالی پریشانی، مفلسی سے تنگ آ کر بہتر مستقبل کے لیے ان کا شکار بن جاتےہیں۔

ایجنٹ غیر قانونی طریقوں سےضرورت مند نوجوانوں کوبھاری رقم کے عوض بحری راستوںسے بیرون ممالک بھجوادیتے ہیں، جہاں ان کا مستقبل روشن ہونے کے بجائے، تاریک ہوجاتا ہے، ان کے پاس واپسی کا کوئی راستہ ہوتا ہے نہ کوئی مددگار۔ نسل نو کی کثیر تعداد یہ سمجھتی ہے کہ بیرون ممالک جا کر رہنا،وہاں روزگار حاصل کرنا یا کمانا نہایت آسان ہے، حالاں کہ حقیقت اس کے بر عکس ہے، مانا کہ ہمارے ملک میںروزگار کے مواقع کم اور پردیس میں زیادہ ہیں، مگر غیر قانونی طریقے سے کسی بھی ملک میں رہنا سنگین جرم ہے، یہ آپ کو پریشانی میں مبتلا کر سکتا ہے۔ نوجوان نسل اس دردوکرب کو محسوس نہیں کر رہی کہ ان کے جانے کے بعد گھر والوں کا کیا حشر ہوتا ہے،بہت سے والدین اپنی اولاد کی ایک جھلک دیکھنے، ان کی آواز تک سننے کو ترس جاتے ہیں،نہ جانے کتنے والدین ان کی راہ تکتے تکتے اس جہان فانی سے کوچ کر گئے ہیں، جب کہ ان کی اپنی اولاد ان کی آخری رسومات میں شریک نہیں ہو پائی۔

اپنے مستقبل کے بارے میں سوچنا، اسے بہتر بنانے کے لیے کوشش کرنےمیں کوئی قباحت نہیں ہے،بلکہ یہ تو خوش آئند بات ہے کہ ہماری نسل نو اپنے مستقبل کے حوالے سے سنجیدہ اور اسے تاب ناک بنانے میں کوشاں ہے ،مگر ضرورت اس امر کی ہے کہ ،جو بھی قدم اُٹھائیں سوچ سمجھ کہ اُٹھائیں، موجودہ دور کے حالات و واقعات کے تناظر میں اپنے مستقبل کا فیصلہ کریں ۔ ایسے افراد یا گروپ کی طرف راغب نہ ہوں، جو آپ کی ذات کے لیے نقصان دہ ہیں۔

اس ملک کا ہر نوجوان ایمان، اتحاد اور یقین کے جذبے سے لیس ہے، وہ اپنی ہمت، بہادری اور حوصلے سے مشکل سے مشکل حالات کا مقابلہ کر سکتا ہے، کوشش کریں کہ اپنے ہی ملک میں روزگار تلاش کریں، تاکہ آپ کے گھر والوں بالخصوص والدین کو تکلیف نہ برداشت نہ کرنی پڑے۔ اگر آپ تعلیم یافتہ یا ہنر مند ہیں تو، قانونی تقاضے پورے کر کے ،اہل خانہ کی خوشی سے بیرون ملک جا ئیں ،اس کے برعکس اگرآپ نے غیر قانونی طریقے سے سرحد پار کی،تو جس ملک میں آپ ناجائز طریقے سے سکونت اختیار کیے ہوئے ہیں، اگر ان کے سیکیورٹی اداروں کے ہاتھ لگ گئے ،تو آ پ کےساتھ جو سلوک ہوگا ، اس کا آپ کو اندازہ بھی نہیں ہے، علاوہ ازیں آپ اپنے وطن کے ساتھ غداری کے مرتکب بھی کہلائیں گے۔ مشکل حالات، پریشانیاں کس کی زندگی میں نہیں آتیں، مگر ان کا مقابلہ کرنا چاہیے،یہ ایک کڑا ،امتحان ہے۔ آپ اپنے اور اپنی آنے والی نسل کے لیےاسی ملک میں روزگار کے اچھے مواقع تلاش کریں کیوں کہ خوب سے خوب تر، کی تلاش ہمیشہ جاری رکھنی چاہیے۔ دوسری طرف ہماری حکومت کی بھی ذمہ داری ہے کہ، وہ ملک کے معاشی انتظامی ڈھانچے میںتبدیلیاں لائے اور نوجوانوں کو وہ تمام بنیادی سہولتیں فراہم کرے، جس سے احساس محرومی کا خاتمہ ہو اور انہیں اپنے ملک میں ہی اہلیت کے مطابق روزگار کے مواقع ملیں، جس کے وہ مستحق ہیں۔

سب سے پہلے ہمیں معاشی طور پر مضبوط ہونا پڑے گا ، زرعی اور صنعتی شعبے میں ترقی کی رفتار کو تیز کرنا ہو گا، منفی سوچ کو تبدیل کر کے مثبت تبدیلیاں لانی ہوں گی، روزگار کے مناسب مواقع فراہم کرنے ہوں گے اور طبقاتی جنگ کو ختم کرنے کے لیے مربوط پالیسیاں وضع کرنی ہوں گی ۔نوجوانوں کو ایسا خوش گوار ماحول دینا ہو گا کہ، وہ آزادی کے ساتھ اپنے فرائض انجام دیں اور اپنے ملک کو ترقی یافتہ ممالک کی فہرست میں کھڑا کرنے کے قابل ہو سکیں۔ نوجوان نسل کی بقا اور اپنے ملک کی سلامتی کے لیےانسانی اسمگلنگ میں ملوث افراد اور جعلی ایجنٹوںکے گرد گھیرا تنگ کیا جائے اور انہیںسخت سے سخت سزائیں دی جائیں، تاکہ پاکستانی نوجوان فخر کے ساتھ سر بلند کر کے دنیا کی ترقی یافتہ قوموں میں اپنا مقام حاصل کریں۔