آپ آف لائن ہیں
جمعرات12؍شوال المکرم 1441ھ4؍جون2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

کورونا پھیل رہا ہے، 197ملکوں تک پھیلی بربادی سے سازش کی بُو آنا شروع ہو گئی ہے۔ تین روز پہلے اسرائیلی وزیر صحت بولا ’’ہمیں صدیوں سے انتظار تھا، اب مسیح کی آمد کا وقت آ گیا ہے، ہمارے پاس کورونا کا علاج ہے‘‘۔ اسرائیلی وزیر صحت کا اشارہ مسلمانوں کے نزدیک مسیح، الدجال ہے۔

آپ کو یاد ہوگا جب کورونا وائرس چین کے صوبے ووہان میں پھیلا تو چین نے فوراً کہا کہ کورونا وائرس امریکی فوجیوں کے ذریعے چین آیا۔ جواباً امریکی صدر ٹرمپ نے اسے چینی وائرس کہا۔ یہ سب کچھ اچانک نہیں ہوا اس کے پسِ پردہ طولانی سلسلہ ہے۔

شاید اس کی بڑی وجہ یہ ہو کہ چین بہت آگے نکل رہا تھا۔ چینی ماہرین یہ سوچنے پر مجبور ہیں کہ یہ وائرس خصوصی طور پر کسی لیبارٹری میں تیار ہوا تھا۔ آخر 1981میں ایک ناول The Eye of Darknessمیں یہ کیوں بتایا گیا کہ 2020میں چین کے شہر ووہان سے کورونا کا آغاز ہوگا پھر 1990میں کورونا کا انکشاف صدام حسین نے کیوں کیا؟

2000میں چلنے والے مشہور کارٹون The Simpsonsمیں بھی اس کا ذکر تھا۔ 2011میں انگریزی فلم Contagionمیں بھی کورونا کا تذکرہ موجود ہے۔ خیال ہے کہ امریکہ اور اسرائیل جلد یہ اعلان کریں گے کہ انہوں نے کورونا کا علاج ڈھونڈ نکالا ہے۔ چینی خفیہ ماہرین کا خیال ہے کہ یہ وائرس مبینہ طور پر برطانیہ کی ایک لیبارٹری میں تیار ہوا، رجسٹریشن امریکہ میں ہوئی اور پھر کینیڈا کی ایک لیبارٹری کے ذریعے ووہان تک پہنچایا گیا۔

حیاتیاتی ہتھیار کے اس استعمال کا پروجیکٹ ایک برطانوی انسٹیٹیوٹ کے سپرد تھا۔ دنیا کی دو بڑی کمپنیوں نے اس کیلئے فنڈنگ کی۔ اس سلسلے میں 18اکتوبر 2019کو نیویارک میں کمپیوٹر پر اس کی مشق کی گئی۔ اس میں کچھ سیاسی و کاروباری افراد کے علاوہ شعبۂ صحت کے لوگوں نے حصہ لیا۔ اس مشق کو Event201کا نام دیا گیا۔

جن اداروں نے کورونا وائرس کی تیاری کی وہی اس کی ویکسین تیار کریں گے۔ یہ بھی خیال کیا جا رہا ہے کہ کورونا وائرس ووہان تک پہنچانے میں میاں بیوی چینی سائنسدانوں کا کردار ہے۔ کینیڈا میں کام کرنے والے ڈاکٹر چی نے 2017میں چین کے پانچ دورے کیوں کیے؟ مشن مکمل ہونے کے بعد اس ڈاکٹر جوڑے کو ان کے چند شاگردوں سمیت کینیڈا میں کیوں گرفتار کر لیا گیا۔

خواتین و حضرات! جس بائیولوجیکل ہتھیار (کورونا) نے دنیا کو خوف میں مبتلا کر رکھا ہے، یہ ایک یہودی زائینسٹ کا تیار کردہ ہے۔ اسرائیل کورونا کے خاتمے کی دوائی تیار کر چکا ہے شاید اسی لئے اسرائیلی وزیر صحت نے دعویٰ کیا ہے اسرائیل اس دوا سے کھربوں ڈالر کمائے گا، ممکن ہے یہ شرط بھی رکھ دی جائے کہ دوا صرف اسرائیل کو تسلیم کرنے والے ممالک کو ملے گی۔

روس اور چین کے ماہرین بھی اس تگ و دو میں لگے ہوئے ہیں کہ وہ کورونا کی دوا تیار کر لیں۔ کورونا سے چین، اٹلی اور ایران زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔ ایران نے 1962کے بعد پہلی مرتبہ آئی ایم ایف سے پانچ ارب ڈالر کا قرضہ مانگا ہے۔ اٹلی ون بیلٹ ون روڈ میں شامل تھا۔

چین، ایران میں اگلے پچیس برسوں میں 400ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کرنے جا رہا تھا مگر کورونا سے تباہی کے بعد دنیا پتا نہیں کیسی ہو۔ کورونا سے امریکہ، برطانیہ اور اسرائیل میں بھی اموات ہوئی ہیں۔ اگر اسرائیل کے پاس دوا ہے بھی تو وہ اسے چند ماہ بعد متعارف کروائے گا۔

کل تک صورتحال یہ تھی کہ 87لاکھ آبادی کے اسرائیل میں کل 2369کورونا مریض سامنے آ چکے تھے۔ پانچ اموات بھی ہو چکی تھیں جبکہ بائیس کروڑ آبادی کے پاکستان میں 1286مریض سامنے آئے تھے جبکہ نو اموات ہوئی تھیں۔

خواتین و حضرات! اگر چینی خفیہ معلومات کو یکسر مسترد کر بھی دیا جائے تو ہمیں یہ سوچنا چاہئے کہ انسانوں کے اعمال انہیں لے ڈوبے ہیں، کورونا سے پہلے بددیانتی، بےحسی اور ناانصافی ہر طرف بول رہی تھی، انسان اپنے خدا کو بھول کر اپنی مستیوں میں مگن تھے، اٹلی کا شہر پومپئی ان مستیوں کی ایک تصویر تھا۔

دنیا کے بےحس انسان کورونا کے خوف میں مبتلا ہوئے تو یاد آیا کہ حضرت علیؓ سے ایک شخص کہنے لگا ’’اے باب العلم! قیامت سے پہلے انسانوں کا وہ کونسا عمل ہوگا جو ﷲ کی ناراضی کا سب سے بڑا سبب بنے گا؟‘‘ حضرت علیؓ فرمانے لگے ’’اے بندئہ خدا! یاد رکھنا قیامت سے پہلے انسان، انسان کو بیمار کرنا شروع ہو جائیں گے‘‘ اس شخص نے پوچھا ’’وہ کیسے؟‘‘

حضرت علیؓ نے فرمایا ’’آخری زمانے کے لوگ نفرت، حسد، منافقت اور لالچ میں اتنے آگے بڑھ جائیں گے کہ وہ انسانوں سے لڑنے کیلئے تلوار اور نیزے کا استعمال نہیں کریں گے بلکہ عجیب عجیب بیماریوں کو پیدا کریں گے اور مختلف شہروں اور علاقوں میں ان بیماریوں کو پھیلانے کی کوشش کریں گے تاکہ ان بیماریوں میں لوگ گھٹ گھٹ کر مر جائیں اور کسی کو معلوم بھی نہ ہو کہ لوگوں کو کس نے مارا۔

یہی وہ عمل ہو گا جو ﷲ کے نزدیک سب سے زیادہ ناراضی کا سبب بنے گا‘‘۔ پھر فرمایا ’’اے شخص! اس دور کے انسان دولت کے نشے میں پست ہو جائیں گے، وہ ایسی ایسی چیزیں بنائیں گے جو ماحول کو آلودہ رکھیں گی اگر اس دور کے لوگ صفائی کو مقدم رکھیں، ایسی جگہ پر رہنا شروع کر دیں جہاں درخت زیادہ ہوں، مٹی کے برتن میں پانی پینا شروع کر دیں، پانی کو مٹی کے برتن میں رکھنا شروع کر دیں اور رکھا ہوا کھانا، کھانا کم کر دیں تو ﷲ انہیں ہزاروں بیماریوں سے اپنی پناہ میں رکھے گا‘‘۔

انسانوں کو یاد رکھنا چاہئے کہ انہیں بنانے والا خدا بہت عظیم ہے۔ کسی کے اشعار یاد آ رہے ہیں کہ؎

وہ تعفن ہے کہ اس بار زمیں کے باسی

اپنے سجدوں سے گئے، رزق کمانے سے گئے

دل تو پہلے ہی جدا تھے یہاں بستی والو!

کیا قیامت ہے کہ اب ہاتھ ملانے سے گئے

(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں00923004647998)

تازہ ترین