آپ آف لائن ہیں
بدھ11؍ شوال المکرم 1441ھ3؍جون 2020ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

کورونا وائرس: مریض ہی نہیں، کیریئرز بھی پھیلاؤ کا سبب بن رہے ہیں

فی الوقت انسانیت اپنی تاریخ کی بدترین وبا کورونا نامی وائرس (Corona Virus) سے نبردآزماہے۔ دُنیا بَھر کے لیےکورونا وائرس اس وجہ سے بھی خطرہ بن چُکا ہے کہ یہ روزبروز طاقت وَر ہوتا جارہا ہے۔ ’’کورونا وائرس کیا ہے؟‘‘یہ سمجھنے سے قبل وائرس سے متعلق جاننا ضروری ہے۔وائرس ایک انتہائی مہین جان دارمخلوق (Creature) ہے کہ اِسے عام خردبین سےدیکھا نہیں جاسکتا ۔اس کے برعکس بیکٹریا کاعام خردبین سے مشاہدہ سہل ہے۔وائرسزکی کئی اقسام ہیں۔مثلاً کانگو، ایبولا، پولیو اور ڈینگی وغیرہ۔تاہم، کوئی بھی وائرس اندازاً ایک ذرّے کے ہزارویں حصّے کے برابر ہوتا ہے ،جسے صرف انتہائی جدید الیکٹران مائیکرو اسکوپ (Electron Microscope) ہی کے ذریعےدیکھا جاسکتا ہے۔یہ ایک مخصوص قسم کے پروٹین جسے طبّی اصطلاح میں نیوکلیوپروٹین(Nucleo protein )کہا جاتا ہے،اس کے غلاف میں ملفوف ہوتا ہے۔

وائرس صرف زندہ خلیے ہی میں پھلتا پھولتا ہے۔ یہ ایک سے دوسرے فرد یا پھر جانور سے انسان میں منتقل ہوکر ہی اپنے اثرات دکھاتا ہے۔ جب ایک زندہ وائرس کسی بھی ذریعے سے انسانی خلیے تک رسائی حاصل کرلیتاہے، تو اپنا آر این اے(Ribo Nucleic Acid)،جو وائرس کا اصل رُوپ ہے، مذکورہ خلیے میں داخل کرکےاپنی گرفت میں لے لیتا ہے۔ ایک طرح سے وائرس ا س خلیے کوہائی جیک کرلیتا ہے، لہٰذااس کے عام افعال متاثر ہوجاتے ہیں یا پھر وہ غیر فعال ہوجاتا ہے۔ متاثرہ خلیے میں داخل ہوکر وائرس منٹوں اور گھنٹوں کی رفتارسے نشوونما پاتا ہے اور اسی تیزی سے اپنی نسل بھی بڑھاتا جاتا ہے۔ یوں چھوٹا ساایک وائرس متاثرہ خلیے کےآس پاس کے خلیات کو اِسی طریقۂ کار سے متاثر کرکے بتدریج انسانی جسم پر مکمل کنٹرول حاصل کرلیتا ہے۔ یہ وائرس جس خاندان سے تعلق رکھتا ہے، اُسی طرح بیماری کا موجب بنتا ہے۔جسم میں داخل ہونے کے بعد کا وہ عرصہ یا وقفہ جس میں وائرس اپنی افزایش کررہا ہو، طبّی اصطلاح میں Incubation Period کہلاتا ہے،اس عرصےکے اختتام پرجسم میں وائرس سے متعلقہ علامات ظاہر ہونا شروع ہوجاتی ہیں۔واضح رہے،جس جسم میں وائرس داخل ہوکر نمو پاتا ہے، اسےمیزبان کہا جاتاہے،کیوں کہ وائرس کبھی بھی اکیلا زندہ نہیں رہ سکتا۔یہ ایک پیر اسائٹ یعنی طفیلی کیڑا ہے،جسے زندہ رہنے کے لیے کسی اور خلیے میں قیام کرنا پڑتا ہے۔ اب موجودہ عفریت کورونا وائرس کا ذکر کریں،تو اصل میں’’کورونا‘‘یونانی لفظ ہے، جو بعد ازاں لاطینی زبان میں شامل ہوگیا۔ اس کا مطلب وہ روشنی کا گول ہیولا ہے، جو چاند گرہن یا سورج گرہن کے دوران گولائی کی طرح اس کے اطراف نظر آتا ہے۔ یہ بات قطعاً غیر مصدقہ ہے کہ اس وائرس کا نام اٹلی کے ایک گاؤں سے اخذ کیا گیا ہے۔

کورونا وائرس، درحقیقت جانور سے انسانی جسم میں منتقل ہو کر اپنی ہیت تبدیل کرچُکا ہے۔ یعنی اپنی قوّتِ بیماری کو کئی گنا طاقت وَر کرچُکا ہے،جسے طبّی اصطلاح میں’’ Mutated‘‘کہتے ہیں۔ یہ وائرس ایک دوسرے کے قریب رہنے، چھینکنے، کھانسنے، ہاتھ ملانے اورگلے ملنے سے چہرے تک رسائی حاصل کرتا ہے۔حتیٰ کہ وائرس زدہ ہاتھ سے اگر آنکھ، ناک یا منہ کو چھولیا جائے، توانسانی جسم میں داخل ہوکر فوراً ہی فعال ہو جاتا ہے۔ گو کہ کورونا وائرس کا انکیوبیشن پیریڈایک سے14دِن پر محیط ہے، لیکن یہ کئی افراد میں چوتھے یا پانچویں روز بھی علامت ظاہر کرسکتا ہے۔کورونا وائرس اُن افراد میں جلد علامات ظاہر کرتا ہے، جن کا مدافعتی نظام کم زور یا پھر ابھی نامکمل ہو۔کم زور نظامِ مدافعت میں 60سال سے زائد عُمر کے افراد شامل ہیں، جن کی قدرتی طور پر قوّتِ مدافعت تقریباً ختم ہو چُکی ہوتی ہے اور اگر انہیں ذیابطیس، بُلند فشارِ خون کا عارضہ بھی لاحق ہو تو وائرس سے متاثر ہونے کے امکانات کئی گنا بڑھ جاتے ہیں،جب کہ نامکمل قوّتِ مدافعت اُن بچّوں کی ہوتی ہے، جن کی عُمر 5سال ہے کم ہو۔ وہ افراد جن کی قوّتِ مدافعت مضبوط ہو، اُن میں یہ وائرس بیماری یا افزایش کا موجب نہیں بنتا یا پھر ہلکے درجہ کی علامات ظاہر کرتا ہے، طبّی اصطلاح میں ان افراد کوکیریئرز کہا جاتا ہے، جو خاموشی سے اس وائرس کے پھیلائو کا سبب بن جاتے ہیں، لہٰذا وہ تمام افراد جن کا کورونا ٹیسٹ مثبت ہو اور 14روز قرنطینہ میں رکھنے کے باوجود بیماری کی علامات ظاہر نہ ہوں ،وہ تمام کیریئرز ہیں اور اُنہیں سخت احتیاط برتنے کی ضرورت ہے۔

کورونا وائرس کی عام اور ابتدائی علامات میں بخار، نزلہ زکام اور کھانسی شامل ہیں، چوںکہ اس وائرس اور اس سے متعلقہ بیماری کی مذکورہ علامات پہلی بار دسمبر 2019ء میں چین کے شہر ووہان میں ظاہر ہوئیں، اس سے قبل اس کا کسی بھی قسم کا طبّی ریکارڈ موجود نہیں،لہٰذا عالمی ادارۂ صحت نے ان ہی علامات کے پیشِ نظراحتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایات جاری کی ہیں۔تشخیص کے ضمن میں سب سے پہلے متاثرہ فرد سے سفری معلومات (Travel History)حاصل کی جاتی ہیں۔پھر عمومی صحت کے بارے میں پوچھا جاتا ہے۔ یعنی فلو، کھانسی، نزلہ،زکام یا بخار وغیرہ تو نہیں۔اگر متاثرہ فرد نے بیرونِ مُلک سفر نہ کیا ہو، تو اُسے کورونا کا مشتبہ (Suspected) نہیں کہا جائے گا،لیکن جو حال ہی میں بیرونِ مُلک سفر کرکے آئے ہوں اور ان میں بے شک کورونا وائرس کی علامات فی الحال ظاہر نہ ہوئی ہوں،وہ مشتبہ ہی کہلائیں گے، لہٰذا ایسے تمام افراد خاص احتیاط برتیں، کیوں کہ ان کے اردگرد کے افراد بھی کورونا وائرس کی زد میں آسکتے ہیں۔ حال ہی میں ایک خاتون امریکا سے اپنے خاندان کی شادی میں شرکت کرنے آئیں اور شادی کی رسومات میں بڑھ چڑھ کر حصّہ لیا۔ 

متاثرہ خاتون کی وجہ سے قریباً 40افراد کورونا وائرس کا شکار ہوگئے، لہٰذا تشخیص کے ضمن میں ٹریول ہسٹری بھی بہت اہمیت رکھتی ہے۔ مگرضروری نہیں کہ بیرونِ مُلک سفر کرنے والا ہی کورونا وائرس سے متاثر ہو۔نیز،گزشتہ دِنوں کورونا وائرس کی چند نئی علامات بھی سامنے آئیں۔اُن کے مطابق قوتِ شامہ اور حسِ ذائقہ بھی متاثر ہوسکتی ہے، کیوں کہ بعض مریضوں نے کسی بھی قسم کی خوشبو یا بدبو کم یا سِرے سے محسوس نہ کرنے اور بعض نے حسِ ذائقہ میں کمی یا ختم ہونے کی بھی شکایت کی۔ بہرحال،ان دونوں صُورتوں میںاگرچہ مریض خود بیمار نہیں ہوتے، مگران میں کثیر تعداد میں وائرس پائے جاتے ہیں۔اور یہی کیریئرز دیگر افراد میں وائرس منتقل کرکے انہیں بیمار کرنے کا باعث بن جاتے ہیں۔ تاہم،یہ افراد یعنی کیریئرز عام طور پر بہت مضبوط قوّتِ مدافعت کے حامل ہوتے ہیں۔

اگر علاج کی بات کریں تو بدقسمتی سے کورونا وائرس کی بیماری میں اینٹی بایوٹک ادویہ قطعاً مفید ثابت نہیں ہورہی ہیں، بلکہ ان کا استعمال ضمنی اثرات ہی ظاہر کررہا ہے۔ یاد رہے کہ اینٹی بایوٹک ادویہ بیکٹریا کے خلاف کام کرتی ہیں، جب کہ ہمارا واسطہ وائرس سے ہے، جو نہ صرف ایک ذرّے کے ہزارویں حصّے سے چھوٹا ،بلکہ بیکٹریا سے بالکل مختلف انداز میں انسانی جسم میں بیماری کی علامات پیدا کررہا ہے۔اصل میں اینٹی بایوٹک ادویہ جراثیم ہلاک کرنے کے لیے استعمال کی جاتی ہیں،جو جسم میں داخل ہوکر ان کے خاتمے کا عمل انجام دیتی ہیں،جب کہ ہر قسم کے وائرسز، خصوصاً کورونا وائرس کے خلاف کوئی بھی اینٹی بایوٹک ادویہ زیادہ مؤثر ثابت نہیں ہورہی ہیں۔ حال ہی میں ملیریا کی دوا کے بارے میں کہا گیاکہ کورونا وائرس کے علاج کے لیے اس کا استعمال مفید ہے،تو واضح رہے، فی الحال یہ کورونا وائرس کے لیے ایک غیر مستند دوا ہے، جسے دُنیا کے بڑے بڑے تحقیقاتی اداروں نے تاحال منظور نہیں کیا۔ حالاں کہ امریکی صدر ٹرمپ نے اعلیٰ ترین امریکی ادارے فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈ منسٹریشن کو حکم دیا تھا کہ ملیریا کی مخصوص دواکو فوری طور پر منظور کرلیا جائے، لیکن بعد ازاں ایف ڈی اے نے واضح طور پرانکار کردیا۔تاہم، اس مخصوص دوا پر ہنوز تحقیق جاری ہے اور جلد ہی کوئی نتیجہ بھی سامنے آجائے گا۔ تاہم، صرف بخار کی حالت میں پیرا سٹامول کا استعمال کیا جاسکتا ہے۔اگرچہ کورونا وائرس کی ویکسین پر تحقیق کا سلسلہ جاری ہے، لیکن اسے متعارف ہونے تک متعدد افراد اس وائرس کی لپیٹ میں آچکے ہوں گے۔

کووڈ19جب کسی فرد کو اپنی لپیٹ میں لیتی ہے، تو پہلے مرحلے میں اپنا ہیڈکوارٹر پھیپھڑوں کو بناتی ہے،نتیجتاً مریض نمونیے کا شکار ہوجاتا ہے۔دوسرے مرحلے میںجوں جوں مرض بڑھتا ہے، پھیپھڑوں کی سانس کی نالیوں کو جنہیں طبّی اصطلاح میں "Bronchioles" کہا جاتا ہے، انتہائی تنگ کردیتا ہے، جس کے نتیجے میں جسم میں آکسیجن کم مقدار میںداخل ہوتی ہے اور سانس کی گھٹن بڑھتی چلی جاتی ہے۔ اگلے مرحلے میں خون کے ذریعے جسم کے مختلف حصّوں میں آکسیجن کی کمی واقع ہونا شروع ہو جاتی ہے۔دماغ میں آکسیجن کی کمی واقع ہونے سےغنودگی اور دماغی صلاحیت متاثر ہوجاتی ہے۔ 

اگر متاثرہ فرد پہلے سے اسپتال میں داخل ہے، تو فوراً ہی اُسے مصنوعی تنفس کی مشین یعنی وینٹی لیٹر سے منسلک کر دیا جاتا ہے، تاکہ کم از کم دماغ تک آکسیجن کی فراہمی برقرار رہے۔پاکستان میں اس وقت صرف2500وینٹی لیٹر ہیں۔ یاد رہے کہ اگر کسی بھی وجہ سے دماغ تک آکسیجن کی فراہمی تین منٹ یا اسے سے زائد دورانیے تک کم رہے، تو نیورونز (Neurons)یعنی دماغی ٹشوز کام کرنا چھوڑ دیتے ہیں اور دماغ مُردہ ہوجاتا ہے،جسے طبّی اصطلاح میں"Brain Death"کہا جاتا ہے۔ یہ سب کچھ تحریر کرنےکا مقصد صرف اور صرف یہی ہے کہ اُ ن افراد کو کورونا وائرس سے متعلق مفصل آگاہی دی جائے، جو اسے محض سانس میں دشواری کا عارضہ سمجھ رہے ہیں۔یاد رکھیے، کورونا وائرس سے بچاؤ کا واحد ذریعہ صرف اور صرف معاشرتی علیحٰدگی (Social Isolation) ہے، جس کے لیے لاک ڈائون ہی ایک بہترین طریقۂ کار ہے۔علاوہ ازیں، بچّوں اور عُمر رسیدہ افراد کو،جن کی قوّتِ مدافعت کم زور ہوتی ہے، ہجوم سے بالکل الگ تھلک رکھنا چاہیے۔ خصوصاً وہ بزرگ جو ذیاطیس، بُلند فشار ِخون یا پھر عارضۂ قلب کا شکار ہوں، ان پر وائرس کا حملہ بہت شدید ہوسکتا ہے۔ 

پھر یہ بھی احتیاط برتی جائے کہ دانتوں کے ڈاکٹر کے پاس فی الحال نہ جایا جائے کہ ڈینٹل سرجن اور مریض بہت قریب منہ لاکر کام کرتے ہیں۔ علاوہ ازیں، وہ تمام سرجیکل آپریشنز ،جو کچھ تاخیر کےبعد کروائے جاسکتے ہیں، مثلاً الیکٹیو سرجری،ٹانسلز، ناک کی ہڈی، ہرنیے(اگر سادہ ہو) اور موتیے کے آپریشنز فی الحال ملتوی کردئیے جائیں، تو زیادہ بہتر ہے۔حاملہ خواتین اگر کسی تکلیف میں مبتلا نہ ہوں، تو اپنے عمومی طبّی معائنے کے لیے گائناکالوجسٹ کے پاس نہ جائیں ۔ احتیاط کے ضمن میں ہینڈ سینی ٹائزرز کا استعمال بھی نہایت ضروری ہے۔ اس سلسلے میں الکحل کی آمیزش والاہینڈ سینی ٹائزر مستند ہے،جو وائرس کو ہلاک کر دیتا ہے۔لیکن خیال رہے کہ الکحل ایک آتشی کیمیکل ہے،لہٰذا خواتین ہاتھوں پر سینی ٹائیزر لگا کر باورچی خانے میں کام نہ کریں، خاص طور پر چولھا نہ جلائیں،اس سے حادثےکا خدشہ ہے۔اسی طرح کاربولک ایسڈصابن بھی کورونا وائرس سے بچاؤ کے ضمن میں مؤثر نتائج دیتا ہے۔

یہاں کچھ مفروضات کا ذکر بہت ضروری ہے۔جیسا کہ بعض افراد کا کہنا ہے کہ پانی کا استعمال زیادہ سے زیادہ کیا جائے، تاکہ جب وائرس معدے میں داخل ہو ،تو اس میں موجود تیزاب اس کا قلع قمع کرسکے، تو اس میں قطعاً کوئی صداقت نہیں۔ یاد رکھیے، یہ وائرس ناک اور سانس کی نالی کا مکین ہے، خوراک کی نالی سے اس کا دُور پرے کا بھی تعلق نہیں۔ دوسرا مفروضہ ہے کہ اگر نمک کے پانی کے غرارے کیے جائیں، تو یہ وائرس جلد ہلاک ہو جاتا ہے،جو بالکل ہی غلط ہے۔ علاوہ ازیں، یہ بھی درست نہیں ہے کہ پیاز، ادرک وغیرہ کا استعمال وائرس کی ہلاکت کا سبب بنتا ہے۔ خدارا مفروضات، توہمات سے پریز کریں، کیوں کہ بعض کیسز میں مریض صحت یاب ہوسکتے تھے، مگر سیلف میڈی کیشن کے سبب اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ 

یہ بات ذہن نشین کرلیں کہ فی الحال کوروناوائرس کے لیے کوئی دوا، ویکسین متعارف نہیں کروائی گئی ہے۔ اس سے بچاؤ زیادہ سے زیادہ صاف ستھرا رہ کر،خصوصاً ہاتھ صاف رکھ کر ہی ممکن ہے۔ علاوہ ازیں،کھانستے یا چھینکتے ہوئے اپنے منہ کو ڈھانپیں،کسی بھی سطح کو چُھونے کے بعد اپنی آنکھوں ، ناک اور منہ کو چھونے سےپرہیزکریں۔ایسےافرادکے قریب جانے سے گریزکریں، جو کھانس یاچھینک رہے ہوں،کیوں کہ متاثرہ فرد کی کھانسی یا چھینک سے خارج ہونے والے لعاب کے ذرّات کے ذریعے یہ وائرس صحت مند فرد میں منتقل ہوجاتا ہے،لہٰذا کم از کم ایک میٹر یا تین فٹ کا فاصلہ رکھیں۔اگر طبیعت خراب محسوس ہو تو گھر میں رہیں۔ بخار، کھانسی یا سانس لینے میں دشواری محسوس ہو، تو فوری طور پر کورونا ہیلپ لائن 1166 پر رابطہ کریں۔خود بھی احتیاطی تدابیر اختیار کریں اور دوسروں کو بھی اس جانب راغب کریں کہ یہ ایسا وائرس ہے کہ آ پ اپنے پیارے کا ہاتھ پکڑ کراُسے تسلی دے سکتے ہیں، نہ ہی کاندھا۔

قوتِ شامہ اور حسِ ذائقہ بھی علامات ہوسکتی ہیں

دُنیا بَھرمیں عالمی وبائی آفت کورونا وائرس پر تحقیقات کا سلسلہ جاری ہے اورگاہے بگاہے انکشافات سامنے آرہے ہیں۔جیسا کہ حال ہی کی جانے والی ایک تحقیق کے مطابق کورونا وائرس سے متاثرہ افراد میں لازم نہیں کہ اس سے متعلقہ مخصوص علامات ہی ظاہر ہوں،بعض اوقات صرف قوّتِ شامہ (Anosmia) اور ذائقے کی حِساسیت(Dysgeusia) بھی متاثر ہوسکتی ہے،لہٰذا اس تحقیق کے بعد معالجین کے لیےخصوصی ہدایات جاری کی گئی ہیں کہ ان علامات کو بھی کووڈ19کے اسکریننگ ٹولز کی فہرست میں شامل کیا جائے اور اگر کوئی فرد ان علامات کی شکایت کرے، تو بہتر ہوگا کہ انھیں سیلف آئسولیشن میں رکھ کر مزید ٹیسٹ تجویز کیے جائیں۔

(مضمون نگار،معروف ماہرِ امراضِ ناک، کان اور گلا ہیں اور ہل پارک جنرل اسپتال،کراچی میں خدمات انجام دے رہے ہیں)