آپ آف لائن ہیں
جمعہ13؍شوال المکرم 1441ھ 5؍جون 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

پنجاب میں لاک ڈاؤن پر موثر انداز میں عملدرآمد کی ضرورت

دنیا میں کورونا وائرس کے باعث سیاسی، سماجی، معاشی، سپورٹس اور دیگر ہر قسم کی سرگرمیاں معطل ہو چکی ہیں اور پوری دنیا انسانی جانوں کو بچانے کے لئے سرگرم عمل ہے ۔ان حالات میں ان اثرات کا پاکستان آنا کوئی انوکھی بات نہیں ہے مگر اس وباءسے نبردآزما ہونے اور اپنے عوام کو اس سے محفوظ رکھنے کے لئے بروقت اور موثر اقدامات اشد ضروری ہیں لاہور کی بات کریں تو پھر یہاں ہر صوبے کے دارالحکومت میں بھی اگرچہ انتظامات کئے جارہے ہیں جن پر آگے چل کر بات کرتے ہیں۔ پاکستان میں وباء کے پھیلائو میں تیزی آتے ہی پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر و قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف میاں شہباز شریف فوراً واپس پاکستان آ گئے ۔

حکومت پی پی پی، مسلم لیگ (ن) اور دیگر تمام چھوٹی بڑی سیاسی جماعتوں نے اس موقع پر یہ تاثر دیا کہ وہ اس وباء کا مقابلہ کرنے کے لئے سیاست سے قطع نظر مل کر کام کریں مگر اس کی عملی طور پر نفی اسی وقت ہو گئی تھی جب پارلیمانی رہنمائوں کے ویڈیو لنک اجلاس میں خطاب کے بعد وزیر اعظم پاکستان عمران خان اجلاس کو چھوڑ کر چلے گئے تو اس پر بطور احتجاج مسلم لیگ (ن) کے سربراہ میاں شہباز شریف اور پی پی پی کے سربراہ بلاول بھٹو بھی احتجاجاً چلے گئے اس حوالے سے اگر دیکھا جائے تو وزیر اعظم کو ایسا نہیں کرنا چاہئے تھا اور اپنی بات کرنے کے بعد دوسروں کی بات بھی سننی چاہئے تھی مگر انہوں نے اجلاس کو چھوڑ کر جانا کیوں ضروری سمجھا اس بارے میں تو وہی بہتر جانتے ہیں ۔

مگر اس سے یقینی طور پر سیاسی عمل کو نقصان پہنچنے کے ساتھ ساتھ کورونا کے خلاف ممکنہ مشترکہ کوششوں کو بھی دھچکا لگا جو کسی طرح سے اچھی بات نہ تھی۔مگر اس کے بعد میاں شہباز شریف اور بلاول بھٹو کو احتجاج کرنے کے بعد اجلاس میں موجود رہنا چاہتے تھا اس طرح نہ صرف ان کے سیاسی قدکاٹھ میں اضافہ ہوجاتا بلکہ عام لوگوں میں بھی اچھا تاثر جاتا ۔دوسری طرف وہ دونوں رہنما کورونا کے خلاف مشترکہ کوششوں میں اپنی اپنی تجاویز بھی دیتے اور ہو سکتا ہے اس سے کوئی زیادہ بہتر پالیسی بن جاتی۔مگر انہوں نے بھی صرف سیاست ہی کی جس سے کسی کا کوئی فائدہ نہیں ۔

پنجاب میں کورونا وباء تیزی کے ساتھ پھیل رہی ہے اور حقیقی مریضوں کی تعداد کے بارے میں کسی کو کچھ علم نہیں ہے ۔صرف سرکاری طور پر کنفرم مریضوں کی تعداد پر اکتفا کیا جا رہا ہے ۔وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار اتنے زیادہ موثر انداز میں کام نہیں کر پا رہے جتنا ان کو ایسے مشکل ترین حالات میں کرنا چاہئے وہ ہر چیز میں یا تو وفاق کی طرف دیکھتے ہیں یا پھر دوسرے صوبوں کو فالو کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔لاک ڈائون پر موثر انداز میں عمل نہیں ہو رہا ۔دفاتر، کاروبار ی ادارے، بازار، مارکیٹیں، تعلیمی ادارے بند اور دیگر سرگرمیاں نہ ہونے کے باوجود بڑی تعداد میں بلا روک ٹوک سڑکوں پر نکلنا کسی طرح بھی قابل قبول نہیں ہے حکومت پنجاب کو ان سنگین ترین حالات میں گلی، محلے اور گائوں تک کی سطح پر رضاکار ٹیمیں بنانی چاہئیں جو نہ صرف خود حفاظتی تدابیر اختیار کریں بلکہ لوگوں کو بھی حالات کی سنگینی اور اہمیت سے آگاہ کریں اور شعور دیں اور انہیں اس بات پر قائل کریں کہ لوگوں کےلئے اپنے گھروں میں رہنا کس قدر فائدہ مند اور ضروری ہے ۔

دوسری طرف تادم تحریر زبانی اعلانات کے علاوہ دہاڑی دار مزدوروں اور کم آمدنی والوں کی مدد کے لئے کوئی عملی اقدامات نہیں کئےگئے ۔میڈیا کے دفاتر میں بڑی تعداد میں ایسے لوگوں کے فون آرہے ہیں کہ لاک ڈائون کے باعث انہیں سخت مشکلات کا سامنا ہے اور انہیں اپنے بچوں کی دو وقت کی روٹی کے لئے راشن چاہئے مگر کوئی حکومت ادارے ان تک نہیں پہنچ رہے۔سب سے زیادہ مسائل غریب بستیوں کے مکینوں کو ہیں اس کے علاوہ چھوٹے اداروں میں کام کرنے والوں اور دیہاڑی دار مزدوروں کو زیادہ مشکلات ہیں اور اگر اس طرف بھرپور منصوبہ بندی کے ساتھ فوری طور پر توجہ نہ دیگی تو پھر اس کے اثرات تباہ کن ہوں گے اور خدانخواستہ ڈر یہ ہے کہ یہ مسئلہ کہیں کورونا سے بھی بڑا بن کر سامنے نہ آجائے۔ایسے میں مخیر حضرات ،بڑے بڑے انڈسٹریل گروپس، امرا اور دیگر صاحب ثروت افراد کو آگے آنا چاہئے اور اپنے ضرورت مند ہم وطنوں کی کھل کر مدد کرنی چاہئے ۔حقیقت میں اتنا بڑا بوجھ اٹھانا اور پھر اس کے لئےوسائل مہیا کرنا اکیلی حکومت کے بس کی بات نہیں ہے اور ان وباء کی عالمگیریت کے باعث موثر بیرونی امداد کا بھی امکان بہت کم ہے ۔

اصل وباء سے نبردآزما ہونے کے لئے ضروری ہے کہ زیادہ سے زیادہ مشتبہ مریضوں کے کورونا ٹیسٹ کروائے جائیں اور اس وائرس میں مبتلا افراد کو فوری طور پر صحت مند افراد سے الگ کر لیا جائے۔مگر پنجاب میں ٹیسٹوں کی شرح بہت کم ہے جس سے خطرہ اس امر کا ہے کہ بہت سے ایسے افراد جو کورونا وائرس کے کیریئر تو ہیں مگر ٹیسٹ نہ ہونے کے باعث ان کی تصدیق نہیں ہوئی اور ایسے لوگ دیگر کے ساتھ ساتھ بشمول فیملی مل جل کر رہ رہے ہیں جس سے وائرس کے پھیلنے کا شدید خطرہ ہے۔صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشد اپنے کام کے ساتھ ساتھ روزانہ کئی کئی میڈیا چینلز کے سامنے حکومتی موقف پیش کر رہی ہوتی ہیں جس سے یقیناً ان کی کارکردگی پر بھی اثر پڑتا ہے لہٰذا حکومت کو اپنے ترجمانوں جن کے پاس پوری معلومات ہوں سرگرم کرنا ہو گا۔

تجزیے اور تبصرے سے مزید
سیاست سے مزید