آپ آف لائن ہیں
جمعہ13؍شوال المکرم 1441ھ 5؍جون 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

کورونا سے مقابلہ: بلدیاتی نمائندوں کو بھی متحرک کریں

کورونا وائرس کی وبا سندھ حکومت کے بہترین انتطامات کے باوجود بڑھتی جا رہی ہے۔ سندھ حکومت نے اپنے وسائل کے اندر رہتے ہوئے بہترین انتظامات کئے جس کا اقرار بین الااقوامی تنظیموں کیساتھ ساتھ اپوزہشن جماعتوں نے بھی کیا۔ اگرچہ کورونا وائرس کے سبب سیاسی سرگرمیاں منجمد ہیں تاہم حکومت اور اپوزیشن کے بعض رہنماؑ کورونا وائرس اور امدادی کاموں پر بھی سیاسی بیانات داغ رہے ہیں۔ اپنا اپنا سیاسی قد بڑھانے میں مصروف ہیں۔ پی ٹی آئی اور پی پی پی کے رہنما ان اقدامات میں پیش پیش ہیں۔ سندھ میں اگرچہ دیگر صوبوں کی نسبت حالات بہتر ہیں تاہم کراچی، حیدرٓآباد، سکھر کے مخیر حضرات یومیہ اجرت پر کام کرنے والے افراد کی مدد کو ایک بار پھر نکل پڑے ہیں۔ افسوس ناک امر یہ ہے کہ بعض بڑے فلاحی ادارے کام کم اور تشہیر زیادہ کر رہے ہیں۔ بعض گمنام افراد ان سے کئی گنا بہتر کام کر رہے ہیں۔ 

عالمگیر ویلفیئر ٹرسٹ، سیلانی اور الخدمت سمیت بعض دیگر ادارے عوام الناس کو کھانا مہیا کرنے کے کام میں جتے ہوئے ہیں تاہم بعض افراد اور اداروں کی جانب سے طبی شعبے سمیت یومیہ اجرت پر کام کرنے والوں کی مدد کے لیے جو اعلانات کئے گئے تھے وہ اعلاناعات تک ہی محدود رہے۔ سندھ حکومت نے 20لاکھ گھرانوں کو راشن دینے کا اعلان کیا تھا اور وہ اعلان صرف اعلان ہی رہا پھر اعلان ہوا کے ہر گھر کو یعنی 20لاکھ گھرانوں کو تین 3ہزار روپے دیں گے جسکے لیے انہوں نے 3ارب کا فنڈ مختص کیا تاہم سندھ حکومت نے صرف 58کروڑ جاری کیے۔ پورے سندھ میں راشن کی تقسیم کے لیے 58کروڑ کو اگر تقسیم کریں سندھ حکومت کے ہی 20لاکھ گھرانوں سے تو فی گھرانہ 290روپے بنتے ہیں۔ سندھ حکومت پر یہ بھی الزام عائد کیا جا رہا ہے کہ امدادی رقوم اور اشیاء کی تقسیم کے لیے جو کمیٹی بنائی گئی ہے اس میں جیالے رکھے گئے ہیں۔

اسی طرح وزیراعظم عمران خان نے جب امدادی رقوم و اشیاء کی تقسیم اور کورونا وائرس کے پھیلائو کو روکنے کے لیے ٹائیگر فورس بنانے کا اعلان کیا تو اس پر بھی بہیت تنقید ہوئی۔ پاک سر زمین پارٹی کے چیئرمین سید مصطفیٰ کمال نے اس ضمن میں صائب مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم عمران خان کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے اور لاک ڈاؤن کے دوران کورونا سے مقابلے کے لیے ٹائیگر فورس بنا رہے ہیں جبکہ ایک منظم اور مربوط بلدیاتی نظام موجود ہے، کوئی نہیں جانتا کہ یہ ٹائیگر فورس کب اور کس دائرے میں کام کرئے گی جبکہ ہمارے لوگ آج بھوکے ہیں، آج بیماری سے مر رہے ہیں، جس فورس کو محلے اور گلی کی کچھ معلومات ہی نہیں ہونگی وہ کیا فائدہ پہنچائے گی۔ 

یہ کوئی پانچ سالہ منصوبہ نہیں جس پر عمل درآمد کے لیے وقت موجود ہے، ہر لمحہ قیمتی ہے، اقتدار میں بیٹھے لوگوں کو سوچنا ہوگا کہ ہمارے فیصلوں سے کتنے انسانوں کی جانوں کو خطرہ ہے، حکمرانوں کے دیر سے اور غلط فیصلوں سے انسانی جانوں کا نقصان ہو رہا ہے۔ عوام میں راشن، ادوایات اور اشیائے ضرورت کی فراہمی کے لیے میں وزیراعظم کے بعد صوبائی وزرائے اعلیٰ سے اپیل کرتا ہوں کہ ملک کے 84ہزار منتخب نمائندوں کو فوری فعال کیا جائے جو ہر گلی، محلے، گاؤں، دیہات اور قصبوں میں موجود ہیں اور جن میں مرد عورت شامل ہیں، وزرائے اعلیٰ اپنے اپنے صوبوں میں بلدیاتی حکومتوں کو فوری متحرک کریں کیونکہ اس وبا سے نمٹنے کے لیے یونین کونسل کے علاوہ کوئی دوسرا آپشن نہیں ہے، میں اور میرے کارکنان یونین کونسل کے نمائندوں کے ساتھ ساتھ کام کرنے کو تیار ہیں، یہ وقت سیاست کرنے کا نہیں بلکہ انسانیت کو بچانے کا ہے۔ دوسری جانب سندھ حکمت کے کورونا وائرس کے پھیلائو کو روکنے کے لیے اقدامات جاری ہیں۔ 

وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے لاک ڈاون میں سختی کی ہے۔ جمعہ کے اجتماعات محدود کرنے کے ساتھ ساتھ مساجد میں باجماعت نماز پر بھی پابندی عائد کر دی گئی ہے تاہم جمعہ کو بعض مساجد میں از خود نمازی بڑی تعداد میں رکاوٹ کے باوجود داخل ہوئے مگر عوام کی ایک بڑی تعداد حفاظتی انتظامات کو بالائے طاق رکھ کر نماز پڑھنے پہنچ گئی جسکے بعد پولیس نے ان مساجد کے آئمہ پر مقدمات بنائے اور انہیں گرفتار بھی کیا بعدازاں مفتی منیب الرحمٰن کے دو ٹوک موقف، جماعت اسلامی اور جے یو آئی کے قاری محمد عثمان و دیگر کے احتجاج کے بعد مقدمات واپس لینے کا فیصلہ کیا گیا اسکے علاوہ لاک ڈاون کے باوجود عوام کی قابلِ ذکر تعداد سپر اسٹوروں، تھوک بازاروں میں خریداری کرتی نظر آرہی ہے۔ بعض افراد کا کہنا ہے کہ اگر صورتحال یہی رہی تو بات کرفیو تک بھی جا سکتی ہے۔ 

ادھر وزیراعظم عمران خان کی ہدایت پر نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (NDMA)نے کراچی میں کورونا وائرس کے لیے مزید 2لیباریٹریز کے قیام کا فیصلہ کیا ہے جبکہ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کراچی سمیت صوبے بھر میں انتہائی نگہداشت کے 14یونٹ (سی سی یو) کے قیام کا حکم دیا ہے اور کہا ہے کہ سی سی یو سینٹرز کو وینٹی لیٹرز، مانیٹر، نبض آکسیمٹر، سکشن مشین، کمپریسرز، ڈیفبری لیٹر سمیت تمام ضروری طبی سامان سے لیس کیا جائے اب دیکھنا یہ ہے کہ سندھ حکومت اپنی حکمتِ عملی میں کس قدر کامیاب ہوتی ہے تاہم ایک بات تو یقینی ہے کہ اس ٓماحول میں بھی وفاق اور صوبے کے درمیان ہم آہنگی نہیں پائی گئی۔ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ انا کو بالائے طاق رکھ کر صوبوں سے روزانہ کی بنیاد پر رابطہ استورا کیا جاتا۔ 

قومی کانفرنس بلائی جاتی۔ ماہرین کو مدعو کیا جاتا اور جنگی بنیادوں پر پورے ملک کے لیے ایک ہی پالیسی بنائی جاتی تاہم اسکے برعکس یہ اقدام اپوزیشن نے اٹھایا اور اس مسئلے پر ال پارٹیز کانفرنس کا انعقاد کیا گیا جو اس لیے بےسود رہا کی وزیراعظم اپنے خطاب کے بعد اٹھ کر چلتے بنے جس پر شہباز شریف اور بلاول بھٹو نے بھی واک ٓآئوٹ کیا۔ بعد ازاں انہیں منا لیا گیا۔ کانفرنس میں کہا گیا کہ تمام شرکاء نے اتفاق کیا کہ تمام سیاسی جماعتوں پر مبنی اس طرح کی کانفرنس حکومت کو طلب کرنی چاہئے تھی اور اس میں تمام اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مل کر ایک جامع نیشنل ایکشن پلان مرتب کرنا چاہئے تھا۔

تجزیے اور تبصرے سے مزید
سیاست سے مزید