• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

آنتوں کے کینسر کی ابتدائی علامات منہ میں ظاہر ہوتی ہیں، ماہرین صحت

فوٹو: فائل
فوٹو: فائل

ماہرین صحت نے آنتوں کے کینسر کی وہ ابتدائی علامات بتائی ہیں جو منہ میں ظاہر ہوتی ہیں۔ 

واضح رہے کہ برطانیہ میں ہر 12 منٹ بعد کسی نہ کسی شخص میں آنتوں کے کینسر کی تشخیص ہوتی ہے اور ہر سال تقریباً 17 ہزار افراد اس بیماری سے ہلاک ہو جاتے ہیں۔ سرطان کی اس قسم کولوریکٹل کینسر بھی کہا جاتا ہے، یہ برطانیہ میں کینسر سے ہونے والی اموات کی دوسری سب سے بڑی وجہ ہے۔

اگرچہ آنتوں کی کیفیت میں تبدیلی اور پیٹ میں تکلیف اس کی سب سے معروف ابتدائی علامات سمجھی جاتی ہیں، لیکن تحقیق سے یہ بھی پتہ چلا ہے کہ منہ میں ہونے والی تبدیلیاں بھی آنتوں کے کینسر کے خطرے سے منسلک ہو سکتی ہیں۔

آن لائن دی سلیپ ڈینٹسٹ کے ڈاکٹر مارک برہینے نے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ دانتوں کے عام مسائل دراصل منہ کے مائیکرو بایوم میں عدم توازن کی نشاندہی کر سکتے ہیں۔ مائیکرو بایوم سے مراد منہ میں موجود فائدہ مند بیکٹیریا کا نظام ہے۔

جب نقصان دہ بیکٹیریا اس نظام پر غالب آجاتے ہیں تو تجزیہ سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کا تعلق آنتوں کے کینسر کے بڑھتے ہوئے خطرے سے ہو سکتا ہے۔ منہ کے کچھ نقصان دہ بیکٹیریا آنتوں تک پہنچ سکتے ہیں، جہاں تحقیق کے مطابق وہ سوزش پیدا کر سکتے ہیں، جو بعض صورتوں میں کینسر کی نشوونما کو بڑھا سکتی ہے۔

دانتوں کو صحیح طریقے سے برش اور فلاس نہ کرنا، سگریٹ نوشی، زیادہ الکحل کا استعمال، اور زیادہ چینی اور کم فائبر والی غذا اس نازک توازن کو خراب کر سکتے ہیں۔ 

انٹرنیشنل جرنل آف کینسر میں شائع ہونے والی ایک تحقیقی رپورٹ کے مطابق جن خواتین کے دانت کم ہوں یا جنہیں مسوڑھوں کی بیماری ہو، ان میں آنتوں کے کینسر کا خطرہ قدرے زیادہ ہوتا ہے، خاص طور پر بڑی آنت کے اوپری حصوں میں یہ خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔

ڈاکٹر برہینے کے مطابق دانتوں کے کچھ عام مسائل منہ میں موجود بیکٹیریا میں تبدیلی کی نشاندہی کر سکتے ہیں، جو ممکنہ طور پر بڑی آنت کے کینسر کے بڑھتے ہوئے خطرے سے جڑے ہو سکتے ہیں۔

ان میں مسوڑھوں سے خون آنا، سوجن یا مسوڑھوں کا پیچھے ہٹنا شامل ہے۔ زیادہ تر لوگ جانتے ہیں کہ دانت صاف کرتے وقت خون آنا مسوڑھوں کی بیماری کی علامت ہو سکتا ہے۔ تاہم تحقیق سے معلوم ہوتا ہے کہ مسوڑھوں کی بیماری کا تعلق آنتوں کی صحت میں تبدیلیوں سے ہو سکتا ہے، اگرچہ یہ براہِ راست آنتوں کے کینسر کی وارننگ نہیں ہے۔

جب برش کرتے وقت مسوڑھوں سے خون آتا ہے تو اس کا مطلب ہے کہ وہاں انفیکشن اور سوزش موجود ہے، جس سے نقصان دہ بیکٹیریا خون میں داخل ہو سکتے ہیں اور نگلے جانے کے ذریعے نظامِ ہاضمہ تک پہنچ سکتے ہیں۔

جن لوگوں کو مسوڑھوں کی بیماری ہوتی ہے ان میں بڑی آنت کے قبل از کینسر پولپس کا خطرہ 17 سے 21 فیصد زیادہ ہوتا ہے۔ خون آنا صرف علامت نہیں ہے، بلکہ اسی سے مسئلہ پیدا ہوتا ہے۔

ڈاکٹر برہینے کے مطابق یہ تقریباً بغیر علامات کے ہوتا ہے، اسی لیے یہ برسوں تک نظر انداز رہتا ہے۔ اسکے علاوہ منہ سے بدبو آنا جو کہ سانس کے ساتھ ایک بیکٹیریا فیو سو بیکٹیریم نیوکلی ایٹم سے منسلک ہو سکتا ہے۔ یہ بیکٹیریا منہ میں پایا جاتا ہے، مسوڑھوں کی بیماری سے بھی جڑا ہوا ہے اور کچھ بڑی آنت کے کینسر کے ٹیومرز میں بھی پایا گیا ہے اور بڑی مقدار میں بعض باؤل کینسر کے ٹیومرز میں دیکھا گیا ہے۔

زبان پر سفید یا پیلی تہہ عام طور پر بیکٹیریا، ملبہ یا مردہ خلیات جمع ہونے کی وجہ سے بنتا ہے۔ یہ منہ کی ناقص صفائی، پانی کی کمی یا خشک منہ کی وجہ سے ہوتا ہے۔ جبکہ یہ منہ کے مائیکرو بایوم میں تبدیلی کی عکاسی کر سکتا ہے، اور ممکنہ طور پر آنتوں کے کینسر کے خطرے سے منسلک ہو سکتا ہے۔انھوں نے کہا یہ تہہ دراصل بیکٹیریا کا ذخیرہ ہوتی ہے۔

جن لوگوں کے چار یا اس سے زیادہ دانت گر چکے ہوں اور یہ اکثر برسوں مسوڑھوں کی بیماری کا علاج نہ ہونے کی وجہ سے ہوتا ہے، ان میں کینسر کولون پولپس کا خطرہ تقریباً 20 فیصد زیادہ پایا گیا ہے۔

صحت سے مزید