آپ آف لائن ہیں
جمعہ18؍ربیع الثانی 1442ھ 4؍دسمبر2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

وزیراعظم عمران خان نے ہفتے کے روز لاہور میں ریلیف فنڈ اور راشن تقسیم کرنے کی تقریب سے خطاب میں بجا طور پر حالات کو سامنے رکھتے ہوئے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ آنے والے دنوں میں کورونا وائرس کے پھیلائو میں شدت دکھائی دے رہی ہے اور یہ وبا امیر، غریب کسی کو نہیں دیکھتی، کوئی نہیں جانتا کہ اِس کا کب خاتمہ ہوگا۔ وزیراعظم کے اِن خدشات میں بھی وزن ہے کہ کورونا وائرس کے سامنے ترقی یافتہ ترین ملکوں نے گھٹنے ٹیک دیے ہیں، پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک کا کیا حال ہوگا، جس کے پیش نظر ہمیں آنے والے وقت کیلئے تیاری کرنی چاہئے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ دنیا بھر میں کسی کو اِس بیماری سے لڑنے کا تجربہ نہیں۔ اگر اِس سے بچنے کی کوئی تدبیر ہے تو وہ امیر اور غریب سب کا مختاط طرزِ زندگی اختیار کرنا ہے۔ اِس حوالے سے طبی ماہرین کی آرا کی روشنی میں دنیا بھر کے ممالک اپنے عوام کو گھروں تک محدود رکھنے کیلئے اپنے شہروں میں لاک ڈائون کررہے ہیں۔ پاکستان کی آبادی کا 14فیصد خطِ غربت سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہے جبکہ 38فیصد روزانہ اجرت کی بنیاد پر محنت مزدوری کرتے ہیں۔ اِس لحاظ سے یہ حکومت کیلئے ایک کڑا امتحان ہے کہ وہ ملک میں سخت لاک ڈائون کرے یا غریب کو دو وقت کی روٹی کمانے کی خاطر اِس میں نرمی کرے۔ دوسری طرف وزارتِ صحت کی طرف سے سپریم کورٹ

میں جمع کروائی گئی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 25اپریل تک ملک میں کورونا کے کیسوں کی تعداد 50ہزار تک پہنچ جائے گی جن میں 7024کیس سنگین نوعیت کے ہو سکتے ہیں۔ ساری دنیا کورونا وائرس کے پھیلائو کے باعث اپنے اپنے معاشی مسائل میں گھرتی جا رہی ہے جبکہ پاکستان کی اقتصادی حالت پہلے ہی دگرگوں ہے۔ اِس صورتحال میں ہمیں من حیث القوم آنے والے وقت کی فکر کرنی چاہئے۔ سرِدست وزیراعظم کے ریلیف فنڈ کیلئے مخیر حضرات کو آگے آنے کی ضرورت ہے۔ واضح رہے کہ کورونا وائرس کے ایک بھی مریض کی موجودگی ساری دنیا کیلئے خطرہ ہے۔

تازہ ترین